اہم موضوعات

جین زی اور استبدادی حکمرانی – عمران یعقوب خان

سربیا میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی احتجاجی تحریک نے طویل عرصے سے اقتدار میں موجود رہنما الیگزینڈر ووچک کو انتخابات میں شکست دے دی ہے۔ دو سال سے جاری حکومت مخالف احتجاج کے بعد کامیابی پر ملک بھر میں ہزاروں افراد نے جشن منایا۔ تاہم نئی قیادت کو اب حکومت بنانے، بدعنوانی ختم

اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی سے کیا فرق پڑے گا؟ سید مجاہد علی

اکتوبر 2023 میں اسرائیل پر حماس کے حملہ کے بعد ہونے والے عام انتخابات میں عرب پارٹیوں کو بڑی کامیابی ملی ہے اور اب وہ کنیسٹ میں 19 نشستوں پر قابض ہوں گی۔ لیکن اس کے باوجود نہ تو ابھی تک یہ واضح ہے کہ ان میں سے ایک یا دونوں پارٹیاں مستقبل کی کسی

ہماری پاکستانی شناخت کمزور کیوں ہے؟

پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ ہمارے ہاں جمہوریت کمزور ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم جمہوریت سے زیادہ اپنے پسندیدہ سیاسی رہنماؤں کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں آئین کی بالادستی چاہیے، مگر صرف اس وقت تک جب تک آئین ہمارے سیاسی مفادات سے متصادم نہ ہو۔ ہمیں

معاشی دباؤ، یا قانون کی کمزور عمل داری؟ بریگیڈئر (ر) صادق راہی

کسی بھی مہذب معاشرے کی اساس اور اصل پہچان معاشرے کا ایکو سسٹم اور اس میں بسنے والے انسانوں کی عزت و توقیر، جان و مال کا تحفظ اور احساس ذمہ داری ہے۔ جس معاشرے میں معمولی اختلاف پر تشدد، غصے میں بے قابو پن اور طاقت کے بل بوتے پر دوسروں کو دبانا معمول

قرض مہنگا، خواب سستے – محمد اکرم چوہدری

شرح سود بارہ فیصد، مگر عام آدمی کی زندگی کا حساب کون دے گا؟ ملک میں شرح سود بڑھ کر بارہ فیصد ہوگئی۔ فیصلہ کرنے والوں کے لیے یہ صرف آدھے فیصد کا اضافہ ہے۔ مگر عام آدمی پوچھ رہا ہے کہ پہلے ہی مشکل سے چلنے والی زندگی میں اب مزید آسانی کہاں سے

ہماری غیر منصفانہ زرعی پالیسی

کسانوں اور کاشتکاروں کے لیے گندم کی امدادی قیمت مقرر کرتے وقت حکومتی ذمہ داران کے پیشِ نظر یہ دلیل ہوتی ہے کہ گندم مہنگی ہوئی تو عوام بھوکوں مریں گے۔ اسی دلیل کی بنیاد پر کاشت کار کو اپنی پیداوار ذخیرہ کرنے سے روکا جاتا ہے اور اسے مقررہ قیمت پر گندم فروخت کرنے

کام کی عادت گداگری کا تدارک – مختار چودھری

ہمارے ہاں مانگنا ایک بہت بڑا پیشہ بن چکا ہے۔ سڑکوں پر مانگنے والوں کے ہجوم نظر آتے ہیں، مساجد کے باہر مانگنے والوں کے ڈیرے ہوتے ہیں۔ کسی دکان کے اندر جانے لگیں یا باہر نکلنے لگیں تو گداگر راستہ روک لیتے ہیں، ہاتھ لگاتے یا پکڑتے ہیں۔ کسی بھی جگہ گاڑی روکیں تو

پاکستان کی صنعتی پالیسی: بلند عزائم سے مسابقتی صلاحیت تک – شاہد انور

پاکستان کی صنعتی پالیسی کی کامیابی کا دارومدار مقامی صنعت کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانے پر ہے۔ برآمدات، معیار اور پیداواری صلاحیت میں بہتری، واضح حکمتِ عملی اور مؤثر عمل درآمد سے صنعتی ترقی اور معیشت کو تقویت مل سکتی ہے۔ حکومت کی قومی صنعتی پالیسی (این آئی پی) پاکستان کے صنعتی

سندھ میں چینی سرمایہ کاری: اعلانات کے بجائے نتائج کا روڈ میپ دیجئے

سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ کے حالیہ دورۂ چین نے سندھ اور چینی کمپنیوں کے درمیان توانائی، صنعت، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اور شہری ترقی کے شعبوں میں اقتصادی تعاون کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ شنگھائی الیکٹرک گروپ، شنگھائی کے میئر ژو ژونگ منگ اور ہواوے کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے

لہو سے لہو صاف نہیں ہوتا: پنجاب میں بدلے کا بڑھتا رجحان – یوسف بینجمن

چند روز سے پنجاب میں تشدد کے ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں قانونی کارروائی اور انصاف کے شفاف راستے پر عمل درآمد کی بجائے ”تشدد کے بدلے تشدد“ اور بدلے کے رجحان کو فروغ دیا گیا ہے۔ جب ریاست کے ذمہ داران اور ادارے خود قانونی نظام کے تحت کارروائی کرنے کے بجائے

اشرافیہ کے لیے معاشی ترقی – انجم ابراہیم

”سبسڈی، سازگار ٹیکس انتظامات، تحفظ اور حکومتی سطح پر قیمتوں کے تعین کے ذریعے کاروباری اداروں کی معاونت نے متحرک اور بیرونی منڈیوں پر توجہ مرکوز کرنے والی معیشت کی ترقی کو نقصان پہنچایا ہے۔“ استحکام حاصل ہونے کے بعد اب معاشی ترقی حکومت کا بنیادی ہدف ہے۔ وزیراعظم اور وزیر خزانہ بارہا یہ دعویٰ

شخصیت پرستی کی مہلک بیماری اور خوشامدیوں کا جال

انسان کی سب سے بڑی شکست یہ نہیں کہ کوئی دوسرا اس پر حکومت کرنے لگے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی سوچنے کی صلاحیت بھی کسی دوسرے کے حوالے کر دے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض مذہبی، روحانی اور سیاسی شخصیات کے گرد ایسی فضا قائم کر دی گئی ہے جہاں سوال کرنے

علاج امیروں کے لیے سہولت، غریبوں کے لیے آزمائش کیوں؟ پاکستان کے نظامِ صحت کا ایک اہم سوال – عرفان ہارون

رات کے کسی پہر ایک باپ اپنے بیمار بچے کو گود میں اٹھائے اسپتال کے دروازے پر کھڑا ہے۔ بچے کو فوری علاج کی ضرورت ہے، لیکن باپ کی جیب میں اتنے پیسے نہیں کہ وہ ضروری ٹیسٹ کروا سکے یا دوائیں خرید سکے۔ ایک طرف بچے کی تکلیف سے بے قرار ماں کی آنکھوں

تعلیم اور صحت خرچ نہیں، سرمایہ کاری ہیں

لاہور میں ایک اہم سیمینار کا موضوع بظاہر معاشیات سے متعلق تھا، لیکن گفتگو نے واضح کیا کہ قرضوں اور بجٹ کے اعداد و شمار دراصل عام آدمی کی زندگی، بچوں کے مستقبل، خواتین کے حقوق اور معاشرتی انصاف سے جڑے ہوئے ہیں۔ مقررین نے تعلیم، بالخصوص بچیوں کی تعلیم، صحت اور معاشی دباؤ پر

ہنگامی اختیارات اور وفاقیت : آئینی تجزیہ – انور خان

آئینِ پاکستان کے تحت موجودہ حالات میں وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں قانونی طور پر ہنگامی حالت نافذ نہیں کرسکتی۔ ایسا اقدام غیر آئینی ہوگا اور اعلیٰ عدلیہ میں اسے کالعدم قرار دیے جانے کا امکان ہے۔ 11 اکتوبر اتوار کے روز یہ دیکھنے کے بعد کہ کابینہ نے اجلاس منعقد کیا اور صوبہ خیبر

چھوٹے بڑے فرعون – ڈاکٹر شہباز حسین قادری

کل دفتر سے واپسی پر گھر جاتے ہوئے سڑک کنارے فروٹ کی ایک ریڑھی نظر آئی تو کچھ پھل خریدنے کے لیے وہاں پر رک گیا۔ ریڑھی پر ایک پٹھان بچہ کھڑا تھا، جس کی عمر بمشکل گیارہ بارہ برس ہو گی۔ موسم کی خنکی کے باوجود اس نے باریک کپڑے اور پلاسٹک کی ایک

سست عدالتی نظام کا دوراہا

کبھی کبھی معاشرہ دو ایسی تلخ حقیقتوں کے درمیان پھنس جاتا ہے جن میں سے کسی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طرف وہ متاثرین ہوتے ہیں جن کی زندگیاں مبینہ ظلم، دھوکے اور استحصال نے تباہ کر دی گئی ہوتی ہیں۔ دوسری طرف ایسا عدالتی نظام ہوتا ہے جو بعض اوقات اتنی

کیا پاکستان میں کاروبار کرنے میں آسانی کے اقدامات مؤثر ثابت ہو رہے ہیں؟ ایم عبدالعلیم

کاروبار میں آسانی کی اصلاحات محض حکومتی اعلانات تک محدود نہیں رہنی چاہییں۔ کم مراحل، مؤثر سہولتوں اور ضابطہ جاتی مسائل کے فوری حل سے ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال اور معیشت مضبوط ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے اقدامات کی کمی نہیں ہے۔ گزشتہ چند برسوں

ایک دفعہ پھر روٹی نہیں تو کیک – سہیل یعقوب

’’اگر روٹی نہیں ملتی تو وہ کیک کیوں نہیں کھاتے؟‘‘ یہ مشہور جملہ عام طور پر فرانس کی ملکہ میری انطوانیت (Marie Antoinette) سے منسوب کیا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق، جب ملکہ کو بتایا گیا کہ ملک میں غریب عوام کو کھانے کے لیے روٹی بھی میسر نہیں، تو اس نے مبینہ طور پر

کیا پولیس عدالتوں سے بہتر اور فوری انصاف فراہم کرسکتی ہے؟

سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں نے ملک میں فوری انصاف اور قانون کی بالادستی سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عوام کا ایک حلقہ ایسے واقعات کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی قرار دیتا ہے، جبکہ وکلا، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے