ہماری غیر منصفانہ زرعی پالیسی

شیئر کریں

کسانوں اور کاشتکاروں کے لیے گندم کی امدادی قیمت مقرر کرتے وقت حکومتی ذمہ داران کے پیشِ نظر یہ دلیل ہوتی ہے کہ گندم مہنگی ہوئی تو عوام بھوکوں مریں گے۔ اسی دلیل کی بنیاد پر کاشت کار کو اپنی پیداوار ذخیرہ کرنے سے روکا جاتا ہے اور اسے مقررہ قیمت پر گندم فروخت کرنے کا پابند بنایا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب گندم کھلیانوں سے اٹھ کر گوداموں میں پہنچ جاتی ہے تو عوام کی بھوک کا یہ خدشہ کہاں غائب ہو جاتا ہے؟ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کاشت کار سے کم قیمت پر خریدی گئی گندم سے تیار ہونے والا آٹا عوام کو گزشتہ مقرر کردہ امدادی قیمت کے مقابلے میں دگنی قیمت پر خریدنا پڑتا ہے؟

اگر گندم کی قیمت کم رکھنے کا مقصد عوام کو سستی خوراک فراہم کرنا ہے تو اس پالیسی کا فائدہ براہِ راست عوام تک پہنچنا چاہیے، نہ کہ کاشت کار کی محنت کی قیمت کم کر کے مڈل مین، اسٹاکسٹ اور ذخیرہ اندوز کے منافع میں اضافہ کرنا ان کی جیبوں میں منتقل کرنا۔ پھر یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا حکومت کی ذمہ داری صرف کاشت کار سے کم قیمت پر گندم حاصل کرنے اور منافع خور طبقے کے لیے سہولت کاری تک محدود ہے، یا اسے کسان کے مفادات اور عوام کی قوتِ خرید، دونوں کا تحفظ بھی کرنا چاہیے؟

اصل مسئلہ ”صرف گندم کی قیمت نہیں“ ، بلکہ اس قیمت کے تعین، پیداوار کی خریداری، ذخیرہ اندوزی اور صارف تک رسائی کے پورے نظام کو منظم کرنے کا ہے۔ اگر حکومت فصل کی کٹائی کے وقت کاشت کار کو کم قیمت پر گندم فروخت کرنے پر مجبور کرے، لیکن بعد میں ذخیرہ شدہ گندم کی قیمت اور آٹے کے نرخوں کو موثر طور پر قابو میں نہ رکھ سکے تو اس پالیسی کا نقصان کسان اور عام صارف دونوں کو اٹھانا پڑتا ہے، جبکہ درمیان میں موجود منافع بخش طبقات زیادہ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔

گندم کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کا ایک اور سنگین پہلو یہ ہے کہ مقامی کاشت کار کو مناسب معاوضہ دینے اور ملکی پیداوار کو مستحکم بنانے کے بجائے، بعض اوقات گندم کی قلت پوری کرنے کے لیے بیرونِ ملک سے درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح ملکی کاشت کار کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور قیمتی زرِ مبادلہ بھی بیرونِ ملک چلا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ملک میں گندم پیدا کرنے کی صلاحیت اور زرعی وسائل موجود ہیں تو ایسی پالیسی کیوں نہ بنائی جائے جو مقامی پیداوار کو تحفظ دے، کسان کو مناسب قیمت فراہم کرے اور عوام کو بھی مناسب نرخوں پر آٹا مہیا کرے؟

یہ تضاد صرف گندم تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے مجموعی زرعی نظام کی کمزوریوں کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم اپنی متعدد زرعی اجناس اور خوردنی تیل درآمد کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف مقامی کاشت کار کو پیداواری لاگت کے مسلسل بڑھتے ہوئے بوجھ کا سامنا ہے۔ ڈیزل، زرعی بیج، کھادیں اور کرم کش ادویات مہنگے داموں خریدنے کے بعد کاشت کار اپنی فصل کی تیاری، آب پاشی، دیکھ بھال اور کٹائی پر بھاری سرمایہ خرچ کرتا ہے۔ اس کے باوجود اپنی تیار فصل کی فروخت کے وقت وہ حکومتی یا مارکیٹ کے ذمہ داران کے مقرر کردہ نرخوں کا پابند ہوتا ہے۔

یہاں بنیادی سوال زرعی معیشت میں انصاف اور ذمہ داری کی تقسیم کا ہے۔ اگر پیداواری لاگت بڑھنے پر کاشت کار کو مہنگی کھاد، ڈیزل، بیج اور ادویات خریدنے کے لیے مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے، لیکن اپنی پیداوار فروخت کرتے وقت اسے مناسب قیمت حاصل کرنے کی آزادی یا موثر تحفظ نہ دیا جائے تو یہ کیسا منصفانہ اصول ہے؟ جب زرعی پیداوار کی لاگت کا تعین مارکیٹ کے نرخ کرتے ہیں تو پھر فصل کی فروخت کے وقت کسان کی محنت، سرمایہ کاری اور پیداواری خطرات کو قیمت کے تعین میں مناسب اہمیت کیوں نہیں دی جاتی؟

مزید یہ کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث غیر یقینی موسم، پانی کی قلت اور فصل کی کم پیداوار کے نقصانات بھی بنیادی طور پر کاشت کار کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ فصل تیار کرنے کے لیے سرمایہ اور محنت کسان صرف کرتا ہے، پیداوار میں کمی کا خطرہ بھی وہ اٹھاتا ہے، لیکن جب فصل فروخت ہوتی ہے تو اس سے حاصل ہونے والے منافع کا بڑا حصہ دوسرے طبقات کے پاس چلے جانے کا خدشہ رہتا ہے۔ یوں زرعی پیداوار کے پورے عمل میں خطرات اور ذمہ داریاں کسان کے حصے میں آتی ہیں، جبکہ قیمتوں اور منافع پر اثرانداز ہونے کی قوت اکثر اس کے پاس نہیں ہوتی۔

اس صورتِ حال میں کسان تنظیموں کے غیر موثر کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا روایتی اور غیر جمہوری ڈھانچہ، کسانوں کے اجتماعی مفادات کے موثر تحفظ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ جب کاشت کار منظم انداز میں اپنی آواز حکومتی ایوانوں اور متعلقہ اداروں تک نہیں پہنچا پاتے تو ان کے مسائل اور مطالبات پالیسی سازی میں مطلوبہ اہمیت حاصل نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً کسان بدحال رہتا ہے، عوام مہنگی خوراک خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں اور سستی اجناس کا فائدہ عام صارف تک منتقل ہونے کے بجائے ذخیرہ اندوزی اور غیر موثر منڈی کے نظام کی نذر ہو جاتا ہے۔

اس صورتِ حال کا حل محض ”کھاد پر سبسڈی دینے“ یا ”وقتی امدادی قیمت مقرر کرنے“ میں نہیں، بلکہ ایک جامع اور مربوط زرعی پالیسی میں ہے۔ ایسی پالیسی جس میں فصل کی بوائی سے لے کر کٹائی تک زرعی پیداوار میں معاون تمام بنیادی مصنوعات، خصوصاً کھاد، ڈیزل، بیج اور کرم کش ادویات کی قیمتوں میں استحکام اور دستیابی کے لیے موثر ضابطہ کاری کا نظام موجود ہو۔ اس کے ساتھ پیداواری لاگت کو مدِنظر رکھتے ہوئے فصل کی مناسب قیمت کا تعین، سرکاری خریداری میں شفافیت، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام، منڈی میں مسابقت کا تحفظ اور صارفین تک مناسب نرخوں پر خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

کھاد پر سبسڈی کے روایتی طریقۂ کار کا جائزہ لے کر یہ بھی طے کرنا ضروری ہے کہ حکومتی وسائل کا فائدہ حقیقی کاشت کار تک براہِ راست اور شفاف انداز میں کیسے پہنچایا جا سکتا ہے۔ محض سبسڈی کا اعلان کافی نہیں؛ ضروری یہ ہے کہ زرعی مداخل کی قیمتوں پر موثر نگرانی ہو، ناجائز منافع خوری کی روک تھام کی جائے اور کسان کو اپنی پیداوار کا ایسا معاوضہ ملے جو اس کی لاگت، محنت اور خطرات کی مناسب تلافی کر سکے۔

حکومت کی زرعی پالیسی کا مقصد نہ صرف عوام کو سستی خوراک فراہم کرنا ہونا چاہیے اور نہ ہی صرف کاشت کار کو امدادی قیمت دینا؛ بلکہ ایک ایسا متوازن نظام قائم کرنا ہونا چاہیے جس میں کسان کو منصفانہ معاوضہ ملے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی ہو، صارفین کو مناسب قیمت پر خوراک دستیاب ہو اور ملکی زرعی پیداوار مستحکم بنیادوں پر ترقی کرے۔

آخرکار سوال یہی ہے کہ جب گندم پیدا کرنے کی محنت اور خطرات کسان برداشت کرتا ہے تو اس کی محنت کا جائز معاوضہ یقینی بنانے اور عوام کو مناسب قیمت پر خوراک فراہم کرنے کی ذمہ داری حکومت پوری کیوں نہیں کرتی؟ ایک زرعی ملک میں ایسی پالیسی ہی قابلِ عمل اور منصفانہ ہو سکتی ہے جو کسان کو کمزور، صارف کو مجبور اور منافع خور طبقے کو غیر معمولی فائدہ پہنچانے کے بجائے، زرعی پیداوار سے وابستہ تمام فریقوں کے مفادات میں توازن قائم کرے۔


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے