اداریہ و آراء

ہماری غیر منصفانہ زرعی پالیسی

کسانوں اور کاشتکاروں کے لیے گندم کی امدادی قیمت مقرر کرتے وقت حکومتی ذمہ داران کے پیشِ نظر یہ دلیل ہوتی ہے کہ گندم مہنگی ہوئی تو عوام بھوکوں مریں گے۔ اسی دلیل کی بنیاد پر کاشت کار کو اپنی پیداوار ذخیرہ کرنے سے روکا جاتا ہے اور اسے مقررہ قیمت پر گندم فروخت کرنے

سندھ میں چینی سرمایہ کاری: اعلانات کے بجائے نتائج کا روڈ میپ دیجئے

سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ کے حالیہ دورۂ چین نے سندھ اور چینی کمپنیوں کے درمیان توانائی، صنعت، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اور شہری ترقی کے شعبوں میں اقتصادی تعاون کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ شنگھائی الیکٹرک گروپ، شنگھائی کے میئر ژو ژونگ منگ اور ہواوے کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے

شخصیت پرستی کی مہلک بیماری اور خوشامدیوں کا جال

انسان کی سب سے بڑی شکست یہ نہیں کہ کوئی دوسرا اس پر حکومت کرنے لگے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی سوچنے کی صلاحیت بھی کسی دوسرے کے حوالے کر دے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض مذہبی، روحانی اور سیاسی شخصیات کے گرد ایسی فضا قائم کر دی گئی ہے جہاں سوال کرنے

ڈگری کا بوجھ اور ہنر کی طاقت – محمد ابوبکر لالا

آج دنیا بھر میں نوکری کے لیے پرکھنے کا پیمانہ ڈگری نہیں ہنر اور تجربہ ہے۔ ہمارے ہاں آج بھی اسکول، کالج، یونیورسٹی، اور آخر میں ڈگری ہی کو کامیابی مانا جاتا ہے، جب کہ مغربی دنیا میں مروجہ روایتی تعلیمی نظام اور ڈگری کی اہمیت کم ہو چکی ہے اور مستقبل میں ڈگری کی

تعلیم اور صحت خرچ نہیں، سرمایہ کاری ہیں

لاہور میں ایک اہم سیمینار کا موضوع بظاہر معاشیات سے متعلق تھا، لیکن گفتگو نے واضح کیا کہ قرضوں اور بجٹ کے اعداد و شمار دراصل عام آدمی کی زندگی، بچوں کے مستقبل، خواتین کے حقوق اور معاشرتی انصاف سے جڑے ہوئے ہیں۔ مقررین نے تعلیم، بالخصوص بچیوں کی تعلیم، صحت اور معاشی دباؤ پر

سست عدالتی نظام کا دوراہا

کبھی کبھی معاشرہ دو ایسی تلخ حقیقتوں کے درمیان پھنس جاتا ہے جن میں سے کسی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طرف وہ متاثرین ہوتے ہیں جن کی زندگیاں مبینہ ظلم، دھوکے اور استحصال نے تباہ کر دی گئی ہوتی ہیں۔ دوسری طرف ایسا عدالتی نظام ہوتا ہے جو بعض اوقات اتنی

کیا پولیس عدالتوں سے بہتر اور فوری انصاف فراہم کرسکتی ہے؟

سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں نے ملک میں فوری انصاف اور قانون کی بالادستی سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عوام کا ایک حلقہ ایسے واقعات کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی قرار دیتا ہے، جبکہ وکلا، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے

عوامی مفاد اور شمولیت کے بغیر ترقی کا خواب

پاکستان کے دو اہم صوبے، بلوچستان اور خیبر پختونخوا، اپنی جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل، ثقافتی تنوع اور باصلاحیت انسانی سرمائے کے باعث ملکی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دونوں صوبوں کی سرزمین امکانات سے بھرپور ہے، مگر ان امکانات کو عوامی خوشحالی میں تبدیل کرنے کا سفر مختلف چیلنجوں سے

نئی نسل کیلئے کیسا پاکستان ضروری ہے؟

ایک مہنگے ہوٹل میں ملک کے مستقبل پر گفتگو جاری تھی۔ اسٹیج پر بیٹھے عمر رسیدہ سیاست دان نوجوانوں کو صبر، قربانی، حب الوطنی اور قومی ذمہ داری کا درس دے رہے تھے۔ ہال میں بیٹھے نوجوانوں میں سے ایک نے ہاتھ اٹھایا اور سوال کیا: ”جناب، آپ نے ہمیں مستقبل کہا، مگر ہمارے حال

یورپ کیوں جل رہا ہے؟

یورپ کی روشن سڑکوں پر آج صرف احتجاج کے شعلے نہیں بھڑک رہے ایک پورے نظام کے اعتماد کا امتحان ہو رہا ہے۔ جن شہروں کو کبھی خوش حالی جمہوریت اور جدید تہذیب کی علامت سمجھا جاتا تھا وہاں آج دھواں اٹھ رہا ہے پولیس کی گاڑیاں دوڑ رہی ہیں, تعلیمی اداروں کے باہر نعرے

صحت مند معاشرے کی پہچان اور ہمارا فکری زوال

عقیدت انسانی زندگی کے خوب صورت جذبات میں سے ایک ہے۔ یہ محبت کو گہرائی، تعلق کو استحکام اور شخصیت کو کسی اعلیٰ مقصد سے وابستگی عطا کرتی ہے۔ مگر یہی عقیدت جب عقل، سوال اور تنقیدی شعور سے بے نیاز ہو جائے تو انسان سوچنے کے بجائے سر جھکانے اور تحقیق کے بجائے تقلید

جمہوری قوتوں کی مسلسل پسپائی

موجودہ مخلوط حکومت میں جمہوری پسپائی کے قدم رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ جمہوری پسپائی کا ایک اور بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ 2018 سے شروع ہونے والے موجودہ جمہوری زوال کا سفر غیر جمہوری حکمرانی کا دورانیہ طویل کرتا جا رہا

خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان میں ہمارا حصہ: کیا صرف حکومتیں ذمہ دار ہیں؟

یوں تو کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر میں ہم آئے دن کچھ نہ کچھ سنتے رہتے ہیں۔ موبائل فون چھیننے کے واقعات، قتل، ڈکیتیاں، مزاحمت پر فائرنگ اور دیگر جرائم گویا روزمرہ کی خبروں کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان واقعات کو اب ہم معمول کے واقعات کہنے لگے ہیں، حالاں کہ کسی بھی مہذب معاشرے

ہمارا غذائی مستقبل اور اشرافیہ کی مراعات

گلوبل ہنگر انڈیکس 2026 کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا میں بھوک اور غذائی محرومی کی بدترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ 122 ممالک کی فہرست میں 25.5 اسکور کے ساتھ پاکستان 106 ویں نمبر پر ہے، جس کی بنا پر اسے ”سنگین“ زمرے میں رکھا گیا ہے۔ خطے میں صرف افغانستان کے حالات پاکستان سے

ریاستی جبر کا مطلب صرف طاقت کا استعمال نہیں!

ہر جمہوریت میں ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب یہ سوال پوچھنا پڑتا ہے کہ ریاست کو ملک کے تحفظ کے لیے حاصل طاقت کب عوام کے حکمرانی کے حق سے متصادم ہونے لگتی ہے؟ پاکستان ایک بار پھر ایسے ہی ایک لمحے سے گزر رہا ہے۔ 11 اکتوبر 2026 ء کو صدر نے

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی کامیابی یا ناکامی کا معیار

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی کشمکش کوئی نئی بات نہیں اور یہ ایک المیہ رہا ہے۔ مختلف ادوار میں سیاسی اختلافات، امن و امان کی صورتِ حال، حکومتوں کے درمیان عدم اعتماد اور آئینی بحرانوں نے ملک کے جمہوری نظام کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ قوم کو

ماحول کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے

ہم پاکستانی عموماً موسمیاتی تبدیلی پر بات کرتے ہیں کسی ماہر موسمیات کو بلا کر وہ اپنے معیار کی معلومات شرکا میں بیان کر دیتا ہے وہ شرکا کے معیار پر، ایک عام ٓادمی کے معیار پر آ کر بات نہیں کرتا. کوشش ہے کہ اس مسئلے کو عام فہم زبان میں خاص طور پر

مقروض ملک میں کفایت شعاری صرف عوام کی ذمہ داری ہے!

کبھی کبھی ایک تصویر یا چند لمحوں کا منظر پورے نظامِ حکمرانی کے بارے میں ایک بڑا سوال کھڑا کر دیتا ہے۔ 6 اکتوبر کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اسلام آباد پہنچے۔ دنیا کے سب سے بڑے عالمی ادارے کے سربراہ جو دنیا بھر کے صدور، وزرائے اعظم اور بادشاہوں سے ملاقاتیں

اقتدار منزل نہ ہو بلکہ عوام کی خدمت کا ذریعہ ہو!

پاکستان کی سیاست میں اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہماری سیاسی جماعتیں واقعی پاکستانی عوام کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں؟ اس تباہ کن مہنگائی، جھوٹ اور منافقت کی بنیادوں پہ کھڑا اقتدار آخر کیوں عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے بجائے ان میں بے تحاشا اضافے کا

کیا پی ٹی آئی کا سیاسی بیانیہ صرف ‘عمران خان کو رہا کرو’ تک محدود ہے؟

پاکستان کی سیاست میں جیل صرف جیل نہیں ہوتی، کبھی یہ سیاسی خاموشی کی علامت بن جاتی ہے، کبھی مزاحمت کا مرکز اور کبھی ایک ایسی تحریک کی ابتدا، جس کا اندازہ ابتدا میں کسی کو نہیں ہوتا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے کئی مواقع آئے جب ایک مقبول سیاسی رہنما کو قید کیا