تعلیم اور صحت خرچ نہیں، سرمایہ کاری ہیں

شیئر کریں

لاہور میں ایک اہم سیمینار کا موضوع بظاہر معاشیات سے متعلق تھا، لیکن گفتگو نے واضح کیا کہ قرضوں اور بجٹ کے اعداد و شمار دراصل عام آدمی کی زندگی، بچوں کے مستقبل، خواتین کے حقوق اور معاشرتی انصاف سے جڑے ہوئے ہیں۔ مقررین نے تعلیم، بالخصوص بچیوں کی تعلیم، صحت اور معاشی دباؤ پر بات کی، تجاویز پیش کیں اور حکومت سے مطالبات کیے، جس سے ذہن میں ایک سوال بار بار ابھرتا رہا کہ آخر ہماری معاشی پالیسیوں کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟

CADTM پاکستان اور وائز (WISE) کے اشتراک سے منعقدہ اس سیمینار کا عنوان ”زندگی یا قرض“ تھا۔ گفتگو کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ قرضوں کی ادائیگی کا بڑھتا ہوا بوجھ تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی عوامی خدمات کے لیے دستیاب وسائل محدود کر رہا ہے۔ جب ریاست کی آمدن کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو جائے تو سوال محض مالیاتی خسارے کا نہیں رہتا، بلکہ یہ بھی اہم ہو جاتا ہے کہ عام شہری اور اس کے بچوں کے مستقبل کے لیے کیا بچتا ہے۔

سیمینار میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2026-27ء میں قرضوں کی اصل رقم اور سود کی ادائیگی کے لیے تقریباً 8 ہزار 54 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو وفاقی بجٹ کا تقریباً 43 فیصد ہیں۔ پاکستان کے بیرونی قرضوں کی ذمہ داریاں تقریباً 130 ارب ڈالر بتائی گئیں، جبکہ تعلیم پر جی ڈی پی کا ایک فیصد سے کم صرف 0.8 فیصد خرچ ہونے کی نشاندہی کی گئی۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ تعلیم کے لیے کم از کم 4 فیصد مختص کیا جائے۔

یہ اعداد و شمار محض حساب کتاب نہیں۔ ان کے پیچھے وہ بچے ہیں جنہیں اسکول جانا چاہیے، وہ بچیاں ہیں جنہیں تعلیم مکمل کر کے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہیے اور وہ خاندان ہیں جو مہنگائی کے باعث خوراک، علاج اور تعلیم میں سے کسی ایک ضرورت کو ترجیح دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

CADTM پاکستان کے فوکل پرسن عبدالخالق کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں ایک کروڑ 30 لاکھ بچیاں شامل ہیں۔ یہ تعداد ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر اتنی بڑی تعداد میں بچے تعلیم سے محروم رہیں تو ملک کو مستقبل میں ہنرمند افراد اور باشعور شہریوں کی کمی کا سامنا کیسے نہیں ہو گا؟

تعلیم صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کو اپنے حقوق پہچاننے، ذمہ داریاں سمجھنے اور زندگی کے فیصلے خود کرنے کے قابل بناتی ہے۔ تعلیم یافتہ بچی اپنی زندگی کے ساتھ پورے خاندان اور آنے والی نسل کی سوچ بدل سکتی ہے۔ اس لیے تعلیم پر خرچ ہونے والی رقم کو بوجھ نہیں بلکہ مستقبل میں سرمایہ کاری سمجھنا چاہیے۔

ہمارے معاشرے میں جب گھر کا بجٹ خراب ہوتا ہے تو بچوں کی فیس، کتابوں اور تعلیمی ضروریات پر سمجھوتا کیا جاتا ہے۔ وسائل کم ہوں تو بعض خاندان بچیوں کو اسکول سے اٹھا لیتے ہیں یا انہیں چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال پر لگا دیتے ہیں، جبکہ لڑکوں کی تعلیم جاری رکھنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یوں غربت ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔

اگر والدین غربت کے باعث بچوں کو تعلیم نہیں دلا سکتے تو کیا ریاست انہیں ان کے حال پر چھوڑ دے؟ آئین کا آرٹیکل 25-A پانچ سے سولہ سال تک کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کو بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ اصل ضرورت اس حق پر موثر عمل درآمد کی ہے۔ جو قیادت آئین کی اس شق پر عمل نہیں کررہی کیا وہ مسلسل آئین شکنی کی مرتکب نہیں ہو رہی؟

وائز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بشریٰ خالق نے توجہ دلائی کہ قرضوں کے دباؤ کے باعث جب حکومتیں سماجی شعبوں کے اخراجات کم کرتی ہیں تو خواتین اور بچیاں زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ سرکاری خدمات محدود ہونے سے بچوں، بیماروں اور بزرگوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری گھرانوں پر منتقل ہو جاتی ہے، اور یہ کام عموماً خواتین بلا معاوضہ کرتی ہیں۔

ہمارے ہاں عورت گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنی ضروریات کم کرتی ہے، بچوں کی فیس کے لیے اپنی خواہشات قربان کرتی ہے اور کسی کی بیماری میں اپنی نیند اور آرام تک بھول جاتی ہے۔ مگر قومی بجٹ میں اس محنت کی کوئی قیمت مقرر نہیں ہوتی۔ معاشی ترقی کے اعداد و شمار میں اس عورت کی قربانیاں دکھائی نہیں دیتیں جو خاندان کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے اپنی تعلیم، ملازمت یا ذاتی ترقی کے مواقع چھوڑ دیتی ہے۔

بشریٰ خالق نے صنفی بنیادوں پر حساس بجٹ سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت بجٹ بناتے وقت یہ جائزہ لے کہ اس کی پالیسیوں سے خواتین، بچیوں اور محروم طبقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ بجٹ محض آمدن اور اخراجات کی دستاویز نہیں بلکہ ریاست کی ترجیحات اور سماجی ذمہ داریوں کا آئینہ بھی ہے۔

سیمینار میں سپریم کورٹ کی وکیل رابعہ باجوہ نے تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کے لیے مناسب وسائل مختص کرنے، قرضوں کے عوامی آڈٹ اور بجٹ سازی میں خواتین کی موثر شمولیت پر زور دیا۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ قرضوں سے حاصل ہونے والی رقم کہاں خرچ ہوتی ہے، ادائیگی کی شرائط کیا ہیں اور ان کا بوجھ موجودہ اور آنے والی نسلوں پر کس طرح پڑتا ہے۔

قرض لینا بذاتِ خود غلط نہیں۔ دنیا کے ممالک ترقیاتی منصوبوں اور معاشی ضروریات کے لیے قرض لیتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان وسائل کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کیا ان سے ایسی پیداواری صلاحیت پیدا ہوتی ہے جو معیشت کو مضبوط اور مستقبل میں قرضوں کی ادائیگی آسان بنائے؟ اگر قرض بڑھتے رہیں لیکن تعلیم، صحت اور انسانی ترقی میں مطلوبہ بہتری نہ آئے تو معاشی ترجیحات پر نظرثانی ضروری ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ تعلیم کے بجٹ میں بتدریج اضافہ کرے، سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنائے، اساتذہ کی تربیت اور معیارِ تعلیم پر توجہ دے اور غریب بچوں کے لیے کتابیں، وظائف اور دیگر سہولتیں فراہم کرے۔ بچیوں کی تعلیم کے لیے محفوظ ماحول، قریبی اسکولوں اور مناسب سفری سہولتوں کو بھی ترجیح دی جائے۔

صحت کے شعبے میں بنیادی مراکزِ صحت، زچہ و بچہ کی نگہداشت، غذائیت اور خواتین کے علاج پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ غریب خاندان کے لیے بیماری صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ آمدن اور بچوں کی تعلیم کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ریاست کو ایسی سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں کہ علاج کے لیے کسی خاندان کو قرض لینے یا بنیادی ضروریات قربان کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔

اس سیمینار کا اہم پیغام یہ تھا کہ معاشی پالیسیوں کا جائزہ صرف اس بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے کہ خزانے میں کتنی رقم آئی اور کتنی خرچ ہوئی، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ عام شہری کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی۔ کتنے بچے اسکول پہنچے؟ کتنی بچیوں نے تعلیم مکمل کی؟ کتنی خواتین کو علاج کی سہولت ملی؟ کتنے خاندان غربت سے نکل سکے؟ قومی ترقی کے پیمانے ان سوالات کے بغیر ادھورے ہیں۔

حکومت کو قرضوں، ان کے استعمال اور ادائیگیوں کے بارے میں شفافیت بڑھانی چاہیے۔ پارلیمان، ماہرینِ معاشیات، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو بجٹ کی نگرانی میں موثر کردار دیا جائے۔ عوامی وسائل کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے تاکہ معاشی مشکلات کا سارا بوجھ ان طبقات پر نہ پڑے جو پہلے ہی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

ریاستی وسائل محدود ہو سکتے ہیں، لیکن ترجیحات کا تعین ریاست ہی کرتی ہے۔ اگر ہم تعلیم یافتہ، صحت مند اور با اختیار معاشرہ چاہتے ہیں تو تعلیم اور صحت پر اخراجات کو غیر ضروری بوجھ نہیں بلکہ مستقبل کی ضرورت اور سرمایہ کاری سمجھنا ہو گا۔ قرضوں کی ادائیگی اہم ہے، مگر انسانی ترقی اور عوامی فلاح کو نظرانداز کر کے پائیدار معاشی ترقی حاصل نہیں کی جا سکتی۔

آخر میں سوال وہی ہے: زندگی یا قرض؟ ہمیں ایسا معاشی راستہ اختیار کرنا ہو گا جس میں قرضوں کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے ساتھ بچوں کا مستقبل محفوظ رہے، بچیوں کے خواب زندہ رہیں اور خواتین کو باوقار زندگی کے مواقع میسر ہوں۔ کسی ملک کی اصل کامیابی صرف قرضوں کے حساب کتاب میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ اس کے شہری کتنی عزت، تحفظ اور امید کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے