دینیات – فکروعمل

پاکستان کا انکم ٹیکس کا نظام – مفتی منیب الرحمان

ہمارے ٹیکس نظام کی بنیادی خرابی یہ ہے کہ بڑے سرمایہ داروں سے حکومت براہِ راست پورا ٹیکس وصول نہیں کر پاتی کیونکہ بالعموم حکمرانوں کا تعلق بھی اسی طبقے سے ہوتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں کا سارا بوجھ غریب عوام پر پڑتا

غامدی صاحب کی تعبیرِ دین – یاسر پیرزادہ

اِس دور میں جاوید احمد غامدی صاحب کا دَم غنیمت ہے، آپ اُن سے لاکھ اختلاف کریں مگر اُن کے علمی قد کاٹھ سے انحراف ممکن نہیں۔ اُن کا اندازِ گفتگو مدلل ہے، طبیعت میں نفاست ہے اور شخصیت میں پاکیزگی ہے۔ ایک عالمِ دین کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔ ہر بڑے آدمی کی طرح

اصلاحی کوششیں بے نتیجہ کیوں؟ خورشید ندیم

ایک معروف مذہبی جماعت کے راہنما تشریف لائے۔ انہوں نے اپنی سرگرمیوں کی تفصیل بتائی تو میں ان کی وسعت کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ دعوت، تعلیم، تحقیق، ابلاغ، رفاہِ عامہ، کون سا کام ہے جو اُن کی تنظیم نہیں کر رہی۔ دعوت کی ایک عالمگیر تحریک ہے جو نجانے کتنے ممالک تک پھیلی

راستہ اور رہنما – امیر حمزہ

اللہ تعالیٰ کی حکمت اور قدرت کہ میری زندگی کا پہلا غیر ملکی سفر ایران کا تھا‘ یہ اس لیے بھی تھا کہ میں نے اپنے شہر ننکانہ کی بلدیاتی لائبریری میں ”تاریخِ ایران‘‘ پڑھ رکھی تھی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے اخراجات کم تھے؛ چنانچہ آج سے کوئی

امامِ ابو حنیفہؒ، سر نہ جھکایا! شمس گوندل

تاریخ کے سینے پر کچھ نام وقت نہیں لکھتا وقت صرف انہیں دریافت کرتا ہے۔ یہ وہ نام ہوتے ہیں جو تخت و تاج کے محتاج نہیں ہوتے،کیونکہ ان کی عظمت محلوں سے نہیں کردار سے جنم لیتی ہے۔ سلطنتیں مٹ جاتی ہیں بادشاہوں کے محلات ویران ہو جاتے ہیں، مگر علم، تقویٰ اور آزاد

اولاد کے حقوق – علامہ ابتسام الہی ظہیر

اولاد اللہ تبارک وتعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ جو لوگ اولاد کی نعمت سے محروم ہوتے ہیں ان کو زندگی کے مختلف ادوار میں بے قراری اور اداسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے مقابل صاحبِ اولاد لوگ نہ صرف مطمئن اور شاد ہوتے ہیں بلکہ اولاد کی کامیابی ان کی خوشیوں میں

فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی مثالی حکمرانی – مفتی منیب الرحمان

امیر المومنین خلیفۃ المسلمین شہیدِ محراب و منبر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اُمت کے بڑے فقیہ، مجتہد اور عالم تھے۔ رسول اللہﷺ نے بارہا آپؓ کے علم وفضل کی شہادت دی، احادیث مبارکہ میں ہے: ”نبی کریمﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حق بات کو عمر کی زبان اور دل میں رکھ دیا

بَیْتُ اللّٰہ – مفتی منیب الرحمان

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”بے شک لوگوں کے لیے اللہ کی عبادت کے واسطے جو پہلا گھر بنایا گیا، وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا اور تمام جہانوں کے لیے ذریعۂ ہدایت ہے، اس میں واضح نشانیاں ہیں، مقامِ ابراہیم ہے اور جو شخص اس میں داخل ہوا‘ وہ بے خوف ہو گیا،

آیاتِ بیّنات – مفتی منیب الرحمان

کعبہ معظمہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اس میں واضح نشانیاں (اور) مقامِ ابراہیم ہے‘‘ (آلِ عمران: 97)۔ یعنی اس میں قدرتِ خداوندی کی بہت سی نشانیاں ہیں کہ جنہیں سب لوگ دیکھ سکتے ہیں‘ اُن میں سے ایک نشانی مقامِ ابراہیم ہے‘ یہ تقریباً پچاس سینٹی میٹر لمبا چوڑا اور اتنا ہی اُونچا

معیارات کاتضاد:باعث ِفساد – شجاع الدین شیخ

قرآنِ حکیم کے آخری پارے میں اکثر سورتیں مکی ہی ہیں ‘جن میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بنیادی مضمون فکر آخرت کے اعتبار سے عطا فرمایا۔ساتھ ساتھ کچھ اخلاقی صفات کا تذکرہ بھی آتا ہے۔ اس وقت سورۃ المطفّفین سے پہلی چھ آیات تلاوت کی گئی ہیں۔ان میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں

ظلم کا خاتمہ مگر کیسے؟ (حصہ دوئم) حافظ محمد ادریس

بنو زبید کے شخص کی مدد کرنے کے بعد مکہ کے نوجوان شرفا نے عہد کیا کہ وہ ہر مظلوم کی مدد کریں گے اور اس کام کو مستقلاً جاری رکھیں گے۔ اس سلسلے میں جو عہد کیا گیا اسے ”حلف الفضول‘‘ کہا جاتا ہے۔ الفضول کا معنی ہے کہ وہ چیز جو ظلم کے

ظلم کا خاتمہ مگر کیسے؟ حصہ اول – حافظ محمد ادریس

اس دنیا میں ظلم وسفاکیت نے ہر دور میں انسانیت کی زندگی اجیرن کی ہے۔ آج جس طرف نظر ڈالیں کرۂ ارضی پر اہلِ اسلام سے ان کے زندہ رہنے کا حق تک چھین لیا گیا ہے۔ فلسطین‘ بالخصوص غزہ میں انسانی حقوق کا نام ونشان مٹا دیا گیا ہے۔ وادیٔ کشمیر قتل گاہ بن

امتحان و آزمائش – شیخ ابوکلیم مقصود الحسن الفیضی

ایک انسان خصوصاً ایک مؤمن کی زندگی سراپا امتحان ہے‘ بلکہ اس کی پیدائش کا مقصد بھی امتحان ہی ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاط  وَ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ(۲) }  (الملک) ’’ جس نےموت اورحیات کواس لیے پیداکیاکہ تمہیں آزمائےکہ تم میں سےاچھےکام کون کرتاہے‘اوروہ غالب(اور)بخشنےوالاہے۔‘‘

دَورِ فساد میں نجات کی راہ – قیصر جمال فیاضی

دورِ حاضر میں ہر باہوش اور سمجھ دار مسلمان پریشان اور فکر مند ہے۔ اپنے اہل و عیال کو فتنہ گر معاشرے کے اثرات سے بچانا چاہتا ہے مگر ایسا کرنے سے قاصر ہے۔ مسلمان انفرادی طورپر مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ حلال روزی کمانے کے مواقع کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اجتماعی

فرقہ پرستوں کے شر سے ہوشیار! خورشید ندیم

وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ فرقہ پرستوں نے علی خامنہ ای شہید کو شیعہ بنا کر چھوڑا۔ جس کے منہ میں زبان ہے وہ آل سعود پر تبرا کر رہا ہے۔ جس کے ہاتھ میں قلم ہے وہ گالیاں دے رہا ہے۔ ایک بار پھر ‘کربلا بمقابلہ امت‘ کا مقدمہ کھڑا کیا جا رہا

ایک قوم، ایک ذمہ داری – محمد اکرم چوہدری

قوم کا بڑا کون بنے گا جو قوم کا بڑا بن کے قوم کی رہنمائی کرے اور مشکلات سے آگاہی دے جو کہے بیٹا میں نے زمانے بدلتے دیکھے ہیں، سلطنتیں بنتی اور بکھرتی دیکھی ہیں، مگر ایک بات کبھی نہیں بدلی کہ جو قوم اپنی حفاظت کا عزم کر لے، اسے دنیا کی کوئی

شیعہ سنی اختلاف کیا سیاسی وحدت میں حائل ہے؟ خورشید ندیم

شیعہ سنی اختلاف مذہبی اور دینی نہیں‘ سیاسی اور تاریخی ہے۔ دین سب کا ایک ہے۔ ایک وقت تھا جب ایک ہی حزب اللہ تھی۔ نبیﷺ کی دنیا سے رخصتی کے بعد‘ سیاسی امور میں اختلاف ہوا تو گروہ بن گئے۔ تاریخ کا ایک ایسا موڑ آیا جب باقاعدہ سیاسی جماعتیں وجود میں آ گئیں۔

اچھے دوست کا انتخاب – علامہ ابتسام الہی ظہیر

ہر انسان اپنی زندگی میں بہت سے لوگوں سے متاثر ہوتا ہے۔ اس طبعی رغبت کی وجہ سے اس کی مختلف لوگوں سے شناسائی ہوتی ہے جو بڑھتے بڑھتے دوستی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ دوست انسان کی زندگی کا اہم حصہ ہوتے ہیں اور ہر شخص اپنے معمولات اور مصروفیات کے دوران ان کی

زکوٰۃ اور صدقہ فطر میں کیا فرق ہے اور کب ادا کرنا لازم ہوتا ہے؟

صدقہ فطر اور زکوٰۃ دونوں الگ الگ مالی عبادات ہیں اور ہر ایک کے اپنے الگ احکام اور شرائط ہیں، اس لیے ایک کی ادائیگی دوسرے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ دونوں کا نصاب، وقت اور ادائیگی کی شرائط مختلف ہیں اور ہر صاحبِ حیثیت مسلمان پر ان کی ادائیگی الگ سے لازم ہوتی ہے۔

ذِمہ داری ادا کرنے کی اہمیت – حافظ محمد اسد

انسان کی بہت سی ضرورتوں میں ایک اہم ضرورت اجتماعیت ہے۔ اس میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے برکت رکھی ہے، جس میں نصرتِ الٰہی بھی شامل حال رہتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ((يَدُ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ)) (سنن الترمذی‘ رقم الحدیث:۲۱۶۶) ’’جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے۔‘‘ اس لیے اجتماعیت سے الگ ہوکر