ہمارا نظام حکمرانی

کروڑوں خواب کرپشن کی نظر! ناصرہ عتیق

قومی اخبارات میں شائع شدہ اس خبر نے پنجاب کے کروڑوں دیہی عوام کو انتہائی پریشان کن صورتحال میں مبتلا کر کے رکھ دیا ہے کہ صوبہ بھر کے آٹھ سو دیہات مثالی بنانے کا پروجیکٹ فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ اس میں ہونے والی بدعنوانیوں کو قرار

جین زی اور استبدادی حکمرانی – عمران یعقوب خان

سربیا میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی احتجاجی تحریک نے طویل عرصے سے اقتدار میں موجود رہنما الیگزینڈر ووچک کو انتخابات میں شکست دے دی ہے۔ دو سال سے جاری حکومت مخالف احتجاج کے بعد کامیابی پر ملک بھر میں ہزاروں افراد نے جشن منایا۔ تاہم نئی قیادت کو اب حکومت بنانے، بدعنوانی ختم

خالص اشیا خوردنی کی نایابی – محمد سعید آرائیں

خالص اشیا کا حصول ملک میں جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے. پنجاب کے بعد کئی سال قبل سندھ حکومت نے سندھ فوڈ اتھارٹی قائم کی تھی ۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اپنے قیام کے بعد ہی ملاوٹ اور غیر معیاری اشیا خوردنی کی فروخت کے خلاف جو کارروائی شروع کی تھی، اس

معاشی دباؤ، یا قانون کی کمزور عمل داری؟ بریگیڈئر (ر) صادق راہی

کسی بھی مہذب معاشرے کی اساس اور اصل پہچان معاشرے کا ایکو سسٹم اور اس میں بسنے والے انسانوں کی عزت و توقیر، جان و مال کا تحفظ اور احساس ذمہ داری ہے۔ جس معاشرے میں معمولی اختلاف پر تشدد، غصے میں بے قابو پن اور طاقت کے بل بوتے پر دوسروں کو دبانا معمول

قرض مہنگا، خواب سستے – محمد اکرم چوہدری

شرح سود بارہ فیصد، مگر عام آدمی کی زندگی کا حساب کون دے گا؟ ملک میں شرح سود بڑھ کر بارہ فیصد ہوگئی۔ فیصلہ کرنے والوں کے لیے یہ صرف آدھے فیصد کا اضافہ ہے۔ مگر عام آدمی پوچھ رہا ہے کہ پہلے ہی مشکل سے چلنے والی زندگی میں اب مزید آسانی کہاں سے

کام کی عادت گداگری کا تدارک – مختار چودھری

ہمارے ہاں مانگنا ایک بہت بڑا پیشہ بن چکا ہے۔ سڑکوں پر مانگنے والوں کے ہجوم نظر آتے ہیں، مساجد کے باہر مانگنے والوں کے ڈیرے ہوتے ہیں۔ کسی دکان کے اندر جانے لگیں یا باہر نکلنے لگیں تو گداگر راستہ روک لیتے ہیں، ہاتھ لگاتے یا پکڑتے ہیں۔ کسی بھی جگہ گاڑی روکیں تو

پاکستان کی صنعتی پالیسی: بلند عزائم سے مسابقتی صلاحیت تک – شاہد انور

پاکستان کی صنعتی پالیسی کی کامیابی کا دارومدار مقامی صنعت کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانے پر ہے۔ برآمدات، معیار اور پیداواری صلاحیت میں بہتری، واضح حکمتِ عملی اور مؤثر عمل درآمد سے صنعتی ترقی اور معیشت کو تقویت مل سکتی ہے۔ حکومت کی قومی صنعتی پالیسی (این آئی پی) پاکستان کے صنعتی

لہو سے لہو صاف نہیں ہوتا: پنجاب میں بدلے کا بڑھتا رجحان – یوسف بینجمن

چند روز سے پنجاب میں تشدد کے ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں قانونی کارروائی اور انصاف کے شفاف راستے پر عمل درآمد کی بجائے ”تشدد کے بدلے تشدد“ اور بدلے کے رجحان کو فروغ دیا گیا ہے۔ جب ریاست کے ذمہ داران اور ادارے خود قانونی نظام کے تحت کارروائی کرنے کے بجائے

اشرافیہ کے لیے معاشی ترقی – انجم ابراہیم

”سبسڈی، سازگار ٹیکس انتظامات، تحفظ اور حکومتی سطح پر قیمتوں کے تعین کے ذریعے کاروباری اداروں کی معاونت نے متحرک اور بیرونی منڈیوں پر توجہ مرکوز کرنے والی معیشت کی ترقی کو نقصان پہنچایا ہے۔“ استحکام حاصل ہونے کے بعد اب معاشی ترقی حکومت کا بنیادی ہدف ہے۔ وزیراعظم اور وزیر خزانہ بارہا یہ دعویٰ

اے تخت نشینو! کبھی سوچا ہے، غریب آخر کہاں جائے؟ محمد اکرم چوہدری

شاید قلم کا یہی فرض ہے کہ وہ ان دلوں کی داستان لکھتا رہے جن کی آواز اقتدار کے بلند ایوانوں تک نہیں پہنچتی لیکن سچ یہ ہے کہ اب صرف لکھنے سے بھی دل نہیں بھرتا۔ کیونکہ یہ دکھ محض سیاسی نہیں، انسانی ہے کسی ماں کی آنکھ میں بھوک سے بلکتے بچے کو

ڈگری کا بوجھ اور ہنر کی طاقت – محمد ابوبکر لالا

آج دنیا بھر میں نوکری کے لیے پرکھنے کا پیمانہ ڈگری نہیں ہنر اور تجربہ ہے۔ ہمارے ہاں آج بھی اسکول، کالج، یونیورسٹی، اور آخر میں ڈگری ہی کو کامیابی مانا جاتا ہے، جب کہ مغربی دنیا میں مروجہ روایتی تعلیمی نظام اور ڈگری کی اہمیت کم ہو چکی ہے اور مستقبل میں ڈگری کی

علاج امیروں کے لیے سہولت، غریبوں کے لیے آزمائش کیوں؟ پاکستان کے نظامِ صحت کا ایک اہم سوال – عرفان ہارون

رات کے کسی پہر ایک باپ اپنے بیمار بچے کو گود میں اٹھائے اسپتال کے دروازے پر کھڑا ہے۔ بچے کو فوری علاج کی ضرورت ہے، لیکن باپ کی جیب میں اتنے پیسے نہیں کہ وہ ضروری ٹیسٹ کروا سکے یا دوائیں خرید سکے۔ ایک طرف بچے کی تکلیف سے بے قرار ماں کی آنکھوں

پاکستان کی معیشت: شرحِ سود اور درپیش چیلنجز – محمد امانت اللہ جدہ

پاکستان کی معیشت اس وقت کئی اہم چیلنجز سے دوچار ہے۔ معاشی ترقی کی رفتار، مہنگائی، توانائی کی قیمتیں، برآمدات میں مسابقت اور سرمایہ کاری کا ماحول ایسے عوامل ہیں جو ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان حالات میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مالیاتی پالیسی اور شرحِ سود سے متعلق فیصلے خصوصی

ہنگامی اختیارات اور وفاقیت : آئینی تجزیہ – انور خان

آئینِ پاکستان کے تحت موجودہ حالات میں وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں قانونی طور پر ہنگامی حالت نافذ نہیں کرسکتی۔ ایسا اقدام غیر آئینی ہوگا اور اعلیٰ عدلیہ میں اسے کالعدم قرار دیے جانے کا امکان ہے۔ 11 اکتوبر اتوار کے روز یہ دیکھنے کے بعد کہ کابینہ نے اجلاس منعقد کیا اور صوبہ خیبر

کیا پاکستان میں کاروبار کرنے میں آسانی کے اقدامات مؤثر ثابت ہو رہے ہیں؟ ایم عبدالعلیم

کاروبار میں آسانی کی اصلاحات محض حکومتی اعلانات تک محدود نہیں رہنی چاہییں۔ کم مراحل، مؤثر سہولتوں اور ضابطہ جاتی مسائل کے فوری حل سے ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال اور معیشت مضبوط ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے اقدامات کی کمی نہیں ہے۔ گزشتہ چند برسوں

ایک دفعہ پھر روٹی نہیں تو کیک – سہیل یعقوب

’’اگر روٹی نہیں ملتی تو وہ کیک کیوں نہیں کھاتے؟‘‘ یہ مشہور جملہ عام طور پر فرانس کی ملکہ میری انطوانیت (Marie Antoinette) سے منسوب کیا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق، جب ملکہ کو بتایا گیا کہ ملک میں غریب عوام کو کھانے کے لیے روٹی بھی میسر نہیں، تو اس نے مبینہ طور پر

ہم کب سدھریں گے؟ خواجہ اقبال

معاشرہ کس طرف جا رہا ہے اس پر غور و فکر کی شاید کسی کے پاس فرصت نہیں ہے۔ روزانہ ایسے واقعات تسلسل کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں جو معاشرے کی شکست و ریخت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک چیز تو مسلمہ ہے کہ جب معاشرے سے قانون کا خوف رخصت ہو جاتا ہے

پولیس حراست میں ایک ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت ہے – سید مجاہد علی

ملتان میں ایک روز پہلے ایک پندرہ سالہ بچے کو کار کے نیچے کچل کر ہلاک کرنے والا شخص پولیس حراست کے دوران ہلاک ہو گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھیوں نے اسے فرار کرانے کی کوشش کی لیکن وہ ان ہی کی فائرنگ سے موقع پر ہلاک ہو گیا۔ اسی قسم

اداروں کو اپنی ترجیحات کو بدلنا ہو گا – تجمل حسین ہاشمی

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ جرائم کے طریقے بدل چکے ہیں ۔ پیسے کی منتقلی کے راستے بدل گئے ہیں۔ فراڈ کرنے والوں نے انٹرنیٹ مصنوعی ذہانت، جعلی ویب سائٹس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے تفتیشی ادارے بھی

پاکستان کا انکم ٹیکس کا نظام – مفتی منیب الرحمان

ہمارے ٹیکس نظام کی بنیادی خرابی یہ ہے کہ بڑے سرمایہ داروں سے حکومت براہِ راست پورا ٹیکس وصول نہیں کر پاتی کیونکہ بالعموم حکمرانوں کا تعلق بھی اسی طبقے سے ہوتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں کا سارا بوجھ غریب عوام پر پڑتا