شاید قلم کا یہی فرض ہے کہ وہ ان دلوں کی داستان لکھتا رہے جن کی آواز اقتدار کے بلند ایوانوں تک نہیں پہنچتی لیکن سچ یہ ہے کہ اب صرف لکھنے سے بھی دل نہیں بھرتا۔ کیونکہ یہ دکھ محض سیاسی نہیں، انسانی ہے کسی ماں کی آنکھ میں بھوک سے بلکتے بچے کو دیکھ کر جو آنسو آتا ہے، اس کا کوئی سیاسی منشور نہیں ہوتا۔ کسی بوڑھے باپ کی لرزتی ہوئی آواز میں دوا کے پیسے مانگنے کی جو بے بسی ہوتی ہے، اس کا تعلق کسی جماعت سے نہیں ہوتا۔ کسی بے روزگار نوجوان کی خاموشی میں جو ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے، اسے نہ حکومتی اعدادوشمار پوری طرح بیان کر سکتے ہیں، نہ اپوزیشن کی تقریریں یہ وہ دکھ ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے انسان ہونا کافی ہونا چاہیے کاش ہمارے حکمران ایک دن اپنے پروٹوکول کے بغیر عام آدمی کی زندگی گزار کر دیکھیں کاش وہ ایک دن مزدور کی اجرت میں گھر کا خرچ چلائیں کاش وہ ایک دن اس باپ کی جگہ کھڑے ہوں جسے فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ بچے کی دوا خریدے یا گھر کے لیے آٹا۔ کاش وہ ایک دن اس ماں کی آنکھوں سے دنیا دیکھیں جو اپنے بچے کو یہ کہہ کر سلا دیتی ہے کہ صبح کھانا مل جائے گا، حالانکہ اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ صبح کیا ہوگا۔
شاید تب انہیں اندازہ ہو کہ غربت کا درد بجٹ کی کسی سطر میں نہیں سما سکتا حکمرانی صرف اختیار کا نام نہیں، یہ لاکھوں انسانوں کی امیدوں کی امانت ہے اور امانت میں صرف مالی دیانت ضروری نہیں ہوتی انسانوں کے دکھ کو سمجھنا بھی ضروری ہوتا ہے حکمران کی اصل عظمت اس کے قافلے کی لمبائی نہیں، اس کے دل کی وسعت ہے سیاست دان کی اصل کامیابی مخالف کو خاموش کرنا نہیں، بھوکے بچے کی فریاد سننا ہے ریاست کی اصل طاقت عوام پر اختیار جمانا نہیں، عوام کو بے بسی سے نکالنا ہے۔
میں کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں لکھ رہا میں اس طرزِ حکمرانی کے خلاف لکھ رہا ہوں جس میں انسان پس منظر میں چلا جائے اور اقتدار سب سے اہم ہو جائے میں کسی شخصیت سے دشمنی نہیں رکھتا میں اس بے حسی سے شکوہ کرتا ہوں جو ایک انسان کو دوسرے انسان کے درد سے لاتعلق کر دیتی ہے حکومتیں آتی ہیں، حکومتیں جاتی ہیں وزارتیں بدلتی ہیں، چہرے بدلتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں مگر غریب کے گھر کا منظر کیوں نہیں بدلتا؟ اس کے حصے میں ہمیشہ انتظار کیوں آتا ہے؟ اس کی زندگی میں خوش حالی ہمیشہ کل کی امید کیوں بنی رہتی ہے؟ اور اس کے بچوں کے خواب ہر دور میں قربانی کیوں مانگتے ہیں؟
علامہ اقبال کا ایک اور شعر یاد آتا ہے:
اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ امرا کے در و دیوار ہلا دو
اس شعر میں غریب کی بیداری کی صدا ہے، مگر میں آج کسی تصادم کی خواہش نہیں رکھتا میں چاہتا ہوں کہ کسی محل کی دیوار ہلنے سے پہلے اس کے اندر رہنے والے کا ضمیر جاگ جائے میں چاہتا ہوں کہ کسی بھوکے کے احتجاج سے پہلے کسی صاحبِ اختیار کا دل تڑپ اٹھے میں چاہتا ہوں کہ عوام کو اپنے حقوق کے لیے چیخنا نہ پڑے، ریاست خود ان کی خاموش تکلیف سن لے کیونکہ جس معاشرے میں انصاف کے لیے چیخنا پڑے، وہاں خاموش انسانوں کے دکھ کا اندازہ کون کرے گا؟
آج میرا سوال صرف حکومت سے نہیں، ہر اس شخص سے ہے جو کبھی اقتدار میں رہا، آج اقتدار میں ہے یا کل اقتدار حاصل کرنا چاہتا ہے کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کی سیاسی کامیابی کا جشن منانے والے اس ملک میں کتنے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی اپنے بچوں کی آسودگی دیکھتے ہوئے کسی مزدور کے بچے کی محرومی محسوس کی ہے؟ کیا آپ نے کبھی اپنی میز پر سجے کھانے کو دیکھ کر ان گھروں کا تصور کیا ہے جہاں رات کا کھانا ایک سوال بن جاتا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر آپ نے سیاست کی طاقت تو دیکھی ہے، اس کی ذمہ داری نہیں سمجھی اگر نہیں، تو آپ نے حکومت کا منصب تو پایا ہے، حکمرانی کا اخلاقی تقاضا نہیں پہچانا اور اگر یہ سب جانتے ہوئے بھی آپ کے دل میں کوئی بے چینی پیدا نہیں ہوتی تو پھر مسئلہ صرف مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کا نہیں مسئلہ احساس کے مر جانے کا بھی ہے۔
میرے وطن کے صاحبانِ اقتدار!
اس ملک کے غریب کو خیرات سے زیادہ عزت چاہیے اسے وقتی تسلی سے زیادہ مستقل روزگار چاہیے اسے وعدوں سے زیادہ انصاف چاہیے اسے تقریروں سے زیادہ روٹی چاہیے اسے ہمدردی کے اعلانات سے زیادہ ایسی پالیسیاں چاہییں جو اس کے گھر کی زندگی بدل سکیں وہ آپ سے محلات نہیں مانگتا وہ آپ سے شاہانہ زندگی نہیں مانگتا وہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ اس کی محنت اس کے بچوں کی بھوک مٹا سکے، بیماری اس کے خاندان کو قرض میں نہ ڈبو دے، تعلیم اس کے بچوں کے لیے ناممکن خواب نہ بنے، اور بڑھاپا اس کے لیے بے بسی کا دوسرا نام نہ ہو۔ کیا یہ خواہشیں بہت بڑی ہیں؟ کیا ایک آزاد ریاست اپنے شہریوں کو اتنا اطمینان بھی نہیں دے سکتی؟
آج میرا قلم کسی فیصلے کا اعلان نہیں کر رہا یہ صرف ایک نوحہ لکھ رہا ہے اس ماں کا نوحہ جو اپنی بھوک چھپا کر بچوں کو کھلاتی ہے اس باپ کا نوحہ جو سارا دن محنت کے بعد بھی گھر لوٹتے ہوئے شرمندہ ہوتا ہے اس نوجوان کا نوحہ جس کے خواب اس کی عمر سے پہلے بوڑھے ہو گئے اس بزرگ کا نوحہ جس نے ساری زندگی وطن کے لیے محنت کی، مگر زندگی کے آخری حصے میں بھی سکون نہ پا سکا اور اس قوم کا نوحہ جس کے پاس صلاحیت بھی ہے، محنت بھی ہے، وسائل بھی ہیں، مگر عام انسان کی زندگی میں آسودگی اب بھی ایک ادھورا وعدہ ہے۔
اے تخت نشینو!
کبھی اپنی کرسی سے اتر کر اس زمین کو بھی دیکھو جس پر غریب ننگے پاؤں چلتا ہے کبھی اپنی تقریر روک کر اس کی خاموشی بھی سنو کبھی اپنے اقتدار کی مدت گننے کے بجائے اس مزدور کی زندگی کے وہ سال گنو جو محض زندہ رہنے کی جدوجہد میں گزر گئے۔
یاد رکھو!
تاریخ ہمیشہ یہ نہیں پوچھتی کہ کس نے کتنے سال حکومت کی وہ یہ بھی پوچھتی ہے کہ ان برسوں میں کتنے آنسو پونچھے گئے، کتنے گھروں میں چراغ جلے، کتنے بچوں کو تعلیم ملی اور کتنے انسانوں کو عزت سے جینے کا موقع ملا اور اگر کسی دن اس ملک کا غریب اپنے بچوں کی بھوک سے شکست کھا کر آسمان کی طرف دیکھے اور صرف اتنا کہے: ‘‘یا اللہ! اس زمین پر میرے لیے کوئی جگہ بھی ہے؟’’
تو سوچنا، اس سوال کا جواب صرف خدا کے حضور نہیں، اپنے ضمیر کے سامنے بھی دینا ہوگا خدارا! غریب کی خاموشی کو اس کی رضامندی نہ سمجھو وہ خاموش ہے کیونکہ اس کے کندھوں پر بچوں کی ذمہ داری ہے وہ صبر کر رہا ہے کیونکہ اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں وہ جیتا جا رہا ہے کیونکہ مرنے سے پہلے بھی اسے اپنے گھر والوں کی فکر ہے لیکن اس کی خاموشی کے اندر ایک پوری تاریخ کا دکھ دفن ہے۔
اور میری آخری التجا صرف اتنی ہے: حکمرانو! اپنے اقتدار کو بچانے کی فکر ضرور کرو، مگر کبھی ان انسانوں کو بچانے کی فکر بھی کر لو جن کے نام پر تم اقتدار حاصل کرتے ہو کیونکہ جس دن غریب کی آنکھ کا آخری خواب بھی مر گیا، اس دن صرف ایک انسان نہیں ہارے گا، ریاست کے اخلاقی وجود کا ایک حصہ بھی مر جائے گا اور پھر تاریخ کے سامنے ایک ہی سوال باقی رہ جائے گا: جب غریب رو رہا تھا، تو اس کے حکمران کیا کر رہے تھے؟
بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت

