کچھ لوگ پوچھتے ہیں یہ اسرائیل کو اچانک کیا ہوا کہ شام پر چڑھ دوڑا، اس کے صدارتی محل کے نزدیک، فوجی ہیڈ کوارٹر پر پے در پے بمباریاں کیں اور شامی فوج کے درجنوں ٹھکانوں اور قافلوں کو نشانہ بنایا۔
اچانک کچھ نہیں ہوا۔ شام پر سے بشارالاسد حکومت کا خاتمہ جتنا بڑا سانحہ ایران کیلئے تھا، اتنا ہی یا شاید اس سے بھی بڑا سانحہ اسرائیل کیلئے بھی تھا۔ اسد ارالوائٹ قبیلے کی حکومت شمالی اسرائیل کیلئے ’’شہر پناہ‘‘ تھی، اب یہ فصیل ٹوٹ گئی۔ شام کی حکومت سے فی الوقت اسرائیل کو ذرا بھی خطرہ نہیں ہے۔ احمد الشرع الجولانی کی حکومت کے پاس نہ فضائیہ ہے نہ بحریہ، نہ میزائل نہ اور بڑھے ہتھیار۔ اس کے پاس وہی اسلحہ ہے جو کسی بھی گوریلا فوج کے پاس ہوتا ہے یعنی چھوٹی مارٹر توپیں، بندوقیں، نزدیک سے مار کر نے والے راکٹ ’’چھوٹے میزائل‘‘ بارودی سرنگیں اور کچھ ٹینک۔ شام کی موجودہ فوج زیادہ تر اسی گوریلا فورس پر مبنی ہے۔ جب سے الشرع کی حکومت آئی ہے، اسرائیل شام کی حکومت پر سو سے زیادہ فضائی حملے کر چکا ہے، بشار کے دور میں اس نے ایک بھی ایسا حملہ نہیں کیا تھا، تب اس نے جو سینکڑوں حملے کئے تھے وہ ایرانی ٹھکانوں اور حزب اللہ کے کیمپوں پر کئے تھے۔
احمد الشرع اردن کی ساری فورس کا پس منظر ’’اخوان المسلمون‘‘ کا ہے جو امریکہ اور یورپ کو قبول ہے نہ مصر، اردن، اسرائیل، سعودی عرب اور ترکی کو۔ ترک حکمرانوں کے اسرائیلی لیڈروں سے ذاتی دوستانے ہیں۔ اردگان بھی ایسے ’’سیاسی اسلام‘‘ کیخلاف ہیں جس کی پرچارک اخوان یا پاکستان کی جماعت اسلامی ہے۔ لطیفہ یہ ہے کہ اردگان کی ساری پارٹی کا پس منظر اخوان المسلمون کا ہے۔ اس کا ’’نظریاتی نصاب‘‘ سید قطب اور مولانا مودودی مرحوم کی کتابوں پر مشتمل ہے لیکن اردگان صاحب نہ جانے کیسے اوپر آ گئے اور اسرائیل کا سہارا بن گئے۔
شروع میں ایران اسرائیل کا کوئی جھگڑا نہیں تھا پھر ایران نے ’’حماس‘‘ کو یہ ترغیب دینے میں کامیابی حاصل کر لی کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مسلح جنگ چھیڑ دے۔ ایران کے کچھ خاص سیاسی مقاصد اس واردات سے وابستہ تھے ورنہ وہ حماس سے اتنی ہی ’’محبت‘‘ کرتا تھا جتنی کہ مصر کا السیسی صدر مرسی مرحوم سے۔ اس معاملے سے اسرائیل اور ایران میں دشمنی کا آغاز ہوا۔ بیچ میں اصل گھاٹا غزہ والوں کا ہوا۔ سارا غزہ ختم ہو گیا۔ صرف کھنڈرات رہ گئے اردن میں بھٹکتے فلسطینی جو صبح شام سینکڑوں کے حساب سے مارے جا رہے ہیں۔
بشار الاسد کی حکومت ختم ہوئی تو پاکستان کے ’’سیاسی مبصرین‘‘ جو دنیا بھر سے زیادہ علم رکھتے ہیں اور دنیا کی ہر چیز کو دنیا بھر سے زیادہ جانتے ہیں کہنے لگے کہ شام میں انقلاب امریکہ اور اسرائیل نے برپا کیا ہے۔ ان مبصرین کی جہالت کو اکٹھا کر کے پہاڑ کی شکل دے دی جائے تو کوہ ہمالیہ سے بڑا کوہ جہالیہ وجود میں آ جائے گا۔
ان لوگوں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ کس طرح بشار کے جاتے ہی اسرائیل نے شام کا وہ دیو قامت جنگی مشن تباہ کر کے رکھ دیا جو الوائٹ حکومت نے بنایا تھا۔ اس کے سارے فوجی ٹھکانے، صحرائی کتب خانوں میں چھپے اس کے میزائلوں کے گودام، توپ خانے، لڑاکا اور بمبار طیارے، سمندری اڈے، ایک ایک شے تباہ کر دی تاکہ احمد الشرع کی حکومت کو اس میں سے کچھ بھی نہ ملنے پائے اور یہی ہوا اور یہ خبر تو پھر خود روسی اور اسرائیلی ذرائع سے منکشف ہوئی کہ شامی فوجی تنصیبات کا، جو سینکڑوں مقامات پر کھلے عام یا خفیہ موجود تھیں سارا نقشہ خود بشار نے اسرائیل کو دیا تو یہ تھی احمد الشرع کی وہ حکومت جسے اسرائیل اور امریکہ خود لائے تھے۔
اسرائیل کو شامی حکومت سے براہ راست کوئی خطرہ نہیں، اس کے پاس ہتھیاروں کے نام پر کچھ ہے نہ فضائی دفاع، اسرائیل کو خطرہ یہ ہے کہ اب شام میں ’’انڈی پینڈنٹ‘‘ گروپ بن سکتے ہیں جو گولان یا جنوبی لبنان کے علاقوں سے در اندازی کر کے اسرائیل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور طویل المیعاد خطرہ یہ ہے کہ شامی حکومت جس دن ’’قوت‘‘ بن گئی، بذات خود وہ اسرائیل کے لئے خطرہ بن جائے گی۔
اسی کی پیش بندی کے طور پر احمد الشرع کی حکومت آتے ہی اس نے دو کام کئے۔ ایک تو وہی سارے ہتھیار تباہ کرنے والا، دوسرا یہ کہ ایک بیان دے کہ اسرائیل نے مطالبہ کر دیا کہ جنوب کے دروزیوں اور مغرب کے الوائٹس کے علاقوں پر مشتمل ایک نیا ملک، شام سے کاٹ کر بنایا جائے۔ دروزی اور الوائٹ تاریخی اور روایتی طور پر مسلمانوں کے مقابلے میں یہودیوں کے اتحادی رہے ہیں اور جنگ میں مسلمانوں کے خلاف انہوں نے اسرائیل کا ساتھ دیا ہے۔ کل ہی اسرائیل نے تین بیانات جاری کئے جن میں دروزیوں کو اپنا اتحادی نہیں، اپنا بھائی کہا اور یہ بھی کہا کہ اپنے بھائیوں کو بچانے کیلئے ہر حد تک جائیں گے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کائر نے کہا، شامی حکمرانوں کو درد ناک سبق سکھایں گے۔ ادھر امریکہ اس علاقے میں نیا فساد اپنے مقاصد کیخلاف سمجھتا ہے اس لئے وہ اسرائیلی مہم جوئی روکنے کیلئے زور دے رہا ہے۔
حالیہ تنازعہ بدوؤں اور دروزیوں میں لڑائی سے شروع ہوا۔ جھڑپوں میں 90 سے لے کر ایک سو تک دروزی، دس بدو مارے گئے۔ شامی فوج معاملات کنٹرول کرنے کے لئے آئی تو دروزیوں نے اس پر حملہ کر کے 93 فوجی مار ڈالے۔ کئی درجن فوجی اسرائیلی حملوں میں مارے گئے۔
دروز کون ہیں؟ ایک صاحب کسی چینل پر بتا رہے تھے کہ یہ اہل تشیع ہیں۔ دروز ایک بالکل الگ مذہب ہے۔ گیارہویں صدی میں اہل تشیع کے فرقے اسمعیلیہ سے ایک مذہبی رہنما ’’حاکم‘‘ الگ ہو گئے اور پیغمبری بلکہ خدائی کا دعویٰ کر دیا۔ یہ نہیں کہا کہ میں خدا ہوں، یہ کہا کہ خدا مجھ میں حلول کر گیا ہے۔ کئی اسماعیلی اس کے مذہب میں آ گئے۔ اس نے قرآن پاک سمیت تمام سابقہ الہامی کتب اور سابقہ پیغمبروں کی شریعت منسوخ کر دی اور عیسائی، یہودی اور ہندو مت کے عقائد کو ملا کر ایک ’’کاک ٹیل‘‘ بنا دیا۔ روزہ، حج وغیرہ عبادات کو بھی منسوخ کر دیا اور یوں ایک نیا مذہب وجود میں آیا۔ یہ لوگ چونکہ کوہ دروز کے علاقے میں زیادہ تر آباد تھے، چنانچہ اسی پہاڑ کی مناسبت سے دروزی کہلائے۔ اسنے ’’آواگون‘‘ کو عقیدہ بنایا (بعض لوگ گون بروزن کون پڑھتے ہیں در اصل یہ بروزن چمن، دمن ہے اور آوا (آیا) گوا (گیا) سے نکلا ہے۔
دروزی جنوبی شام، شمالی اسرائیل اور لبنان میں آباد ہیں۔ ان کا سب سے بڑا مرکز ’’السوید‘‘ ہے جس پر شامی فوج نے قبضہ کر لیا ہے۔ بہت سے دروز شامی حکومت سے صلح چاہتے ہیں اور اسرائیلی دروزی جنگ کے حامی ہیں۔
