ویب ڈیسک

تعلیمی مشیر یا فراڈیے – رسول بخش رئیس

پہلے تو وضاحت کرتا چلوں کہ اُن مشیروں کی بات نہیں جو حکومت میں عہدوں کا حلف اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ ایسے محب وطن، دیانتداری اور قومی خدمت کے جذبے سے لبریز مخلص شرفا کو کون فراڈیے کہہ سکتا ہے۔ مبادا کسی کے ذہن کوئی غلط فہمی پیدا ہو، اسی لیے مشیر سے پہلے تعلیمی

سیکھنے کے بغیر تعلیم – ندیم الحق و شاہد ستار

پاکستان کا تعلیمی بحران گہری جڑیں رکھنے والی حد سے بڑھی ضابطہ بندی اور سیاسی کنٹرول کا نتیجہ ہے، جس سے اسکولوں کی خودمختاری محدود ہو رہی ہے اور ملک کے لیے مصنوعی ذہانت کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار کرنے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ پاکستان کے تعلیمی بحران

سہیل آفریدی سہولت کار – بلوچستان میں کون؟ امتیاز عاصی

آخر حکومت نے وہ کام کر دکھایا جس کا ڈر تھا۔ مان لیا سہیل آفریدی دہشت گردوں کا سہولت کار تھا لیکن بلوچستان میں دہشت گردوں کا سہولت کار کون ہے اس کا بھی پتہ چلنا چاہیے؟ نواب اکبر خان بگٹی، سردار عطاء اللہ مینگل، خان عبدل ولی خان اور سردار شیر باز خان مزاری

تاریکیوں کے بعد نمود سحر بھی ہو – بیگم سلطانہ ذاکر ادا

تاریکیوں کے بعد نمود سحر بھی ہو اک صبح با جمال خدایا ادھر بھی ہو ہوں چار سو بہاروں کے موسم سجے ہوئے گرویدہ کوئی پھولوں کی چشم بشر بھی ہو غنچوں کی بود و باش سے رہتا ہو با خبر دزدیدۂ نظر بھی ہو اور دیدہ ور بھی ہو جو روک دے خزاں کے

صحت مند معاشرے کی پہچان اور ہمارا فکری زوال

عقیدت انسانی زندگی کے خوب صورت جذبات میں سے ایک ہے۔ یہ محبت کو گہرائی، تعلق کو استحکام اور شخصیت کو کسی اعلیٰ مقصد سے وابستگی عطا کرتی ہے۔ مگر یہی عقیدت جب عقل، سوال اور تنقیدی شعور سے بے نیاز ہو جائے تو انسان سوچنے کے بجائے سر جھکانے اور تحقیق کے بجائے تقلید

سرکاری اداروں کے ملازم یا آقا کے نوکر؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کوئی بارہ سال پرانی بات ہے۔ استاذِ محترم پروفیسر عمران احسن خان نیازی نے مجھے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فاضل جج ہبہ اور وصیت سے متعلق ایک مقدمے میں کچھ سوالات پر گفتگو کرنا چاہتے تھے، تو میں نے آپ کا نمبر دے دیا ہے۔ کچھ دیر بعد جج صاحب کی

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوارِ حکومت: معاشی کارکردگی کا تقابلی جائزہ – ڈاکٹر نیاز عازم

پاکستان میں 2008 سے 2018 کا عشرہ معاشی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو عالمی مالیاتی بحران، توانائی کے شدید بحران، دہشت گردی اور کمزور زرمبادلہ ذخائر جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ 2013 میں مسلم لیگ (ن) کو نسبتاً کمزور شرحِ نمو، بجلی کے بڑے گردشی قرضے، توانائی

ڈیجیٹل دور میں جرائم – ضیاء الاسلام زبیری

ایک وقت تھا جب مسافروں کو کھلی سڑکوں پر سفر کے دوران ڈاکوؤں کا خوف رہتا تھا۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں لٹیرے قافلوں کو لوٹتے تھے۔ پھر سڑکوں پر راہ زنوں کا دور آیا، جن کا اصل ہدف بٹوے اور نقدی ہوتے تھے۔ اس کے بعد موبائل فون چوروں کا اگلا نشانہ بن گئے۔

اگر سب سچ کے متوالے ہوئے ہیں – یعقوب تصور

اگر سب سچ کے متوالے ہوئے ہیں زباں پر قفل کیوں ڈالے ہوئے ہیں سنا ہے چوریاں ہو جائیں گی بند کہ اب رہزن ہی رکھوالے ہوئے ہیں غبار آلود ہے فصل بہاراں گل خوش رنگ مٹیالے ہوئے ہیں اک انجانا سا ڈر ہے دل پہ طاری کہ دشمن اب تو گھر والے ہوئے ہیں

جمہوری قوتوں کی مسلسل پسپائی

موجودہ مخلوط حکومت میں جمہوری پسپائی کے قدم رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ جمہوری پسپائی کا ایک اور بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ 2018 سے شروع ہونے والے موجودہ جمہوری زوال کا سفر غیر جمہوری حکمرانی کا دورانیہ طویل کرتا جا رہا

لائبہ کی موت کے ہم کتنے ذمہ دار ہیں؟ ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

لائبہ کی خود کشی میرے لیے دہرا صدمہ ہے۔ ایک تو پاکستان کی نہایت ہونہار بیٹی کی اندوہناک موت اور دوسرا، اس کا تعلق انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے تھا، جو یونیورسٹی آج بھی میری یادوں اور دعائوں کا حصہ ہے۔ سالہا سال سے ہمارے معاشرے میں ایسی دل دہلا دینے والی خودکشیاں ہوتی

جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ ہیں! سید مجاہد علی

وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی اور گورنر رول کی مخالفت کرنے والے ایک لیڈر اس انتظام میں حصہ نہ ملنے پر ناراض ہیں۔ ان کا یہ بھی یہ دعویٰ تھا کہ یہ سیاست دان خیبر پختون خوا کی گورنر شپ حاصل کرنے میں ناکام ہونے پر

خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل: احتساب یا نئی لوٹ مار؟ قریش خٹک

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی بحث کے ساتھ ہی صوبے کے قدرتی وسائل پر اختیار اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن کا سوال بھی ایک مرتبہ پھر زیرِ بحث ہے۔ یہ محض معدنی لائسنسوں یا چند کمپنیوں کے کاروبار کا معاملہ نہیں، بلکہ صوبائی خودمختاری، آئینی حقوق، شفافیت اور مقامی آبادی

بگڑنے والا کسی دن سنور ہی جائے گا – سبیلہ انعام صدیقی

بگڑنے والا کسی دن سنور ہی جائے گا مزاج دوست بالآخر سدھر ہی جائے گا مریض عشق ابھی بیکلی میں ہے لیکن بخار ایک دن اس کا اتر ہی جائے گا جو پھول آج سر شاخ ہے مہکتا ہوا وہ ایک موج صبا میں بکھر ہی جائے گا گزر رہی ہے پریشان زندگی لیکن چلے

خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان میں ہمارا حصہ: کیا صرف حکومتیں ذمہ دار ہیں؟

یوں تو کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر میں ہم آئے دن کچھ نہ کچھ سنتے رہتے ہیں۔ موبائل فون چھیننے کے واقعات، قتل، ڈکیتیاں، مزاحمت پر فائرنگ اور دیگر جرائم گویا روزمرہ کی خبروں کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان واقعات کو اب ہم معمول کے واقعات کہنے لگے ہیں، حالاں کہ کسی بھی مہذب معاشرے

بدلتا موسم، بدلتی صحت: موسمی فلو سے بچاؤ اور جسم کی حفاظت – ڈاکٹر سائرہ بانو

موسم بدل رہا ہے: کبھی صبح ہلکی خنکی، دوپہر میں گرمی اور شام کو ٹھنڈی ہوا—اور پھر اچانک کسی کے گلے میں خراش، کسی کو چھینکیں، کسی کو ناک بہنے کی شکایت اور کسی کو کھانسی شروع ہو جاتی ہے۔ اکثر ہم کہتے ہیں: “موسم بدل رہا ہے، اس لیے نزلہ زکام ہو گیا ہے۔”

پشاور اسکول سانحہ: کون ذمہ دار ہے؟ بوسیدہ عمارتوں میں تعلیم اور نظام کی ناکامی – شاہد نعیم

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پشاور کی دیر کالونی میں 15 اکتوبر 2026 کو پیش آنے والا دلخراش سانحہ، جس میں ایک نجی اسکول کی 3 منزلہ بوسیدہ عمارت گرنے سے 29 سے 35 تک معصوم بچے اور اساتذہ جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، محض ایک حادثہ نہیں، ایک قتل ہے۔ ابتدائی

مزاروں میں قید بلاول بھٹو اور اعجاز الحق – روف کلاسرا

پارلیمنٹ میں جنرل ضیا الحق کے برخوردار، اعجاز الحق اور بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے درمیان بدھ کے روز جو تلخی ہوئی، اس سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ نئی نسلوں کو اپنی پرانی نسلوں کے فیصلوں کی قیمت چکانا پڑتی ہے، چاہے اس میں ان کا کچھ کردار نہ ہو۔

بند گلی سے راستہ نکالیں – نسیم شاہد

سیاسی معجزوں میں ایک معجزہ یہ بھی ہوا ہے کہ اب پیراشوٹرز آسمان سے اترتے ہیں اور سیاسی اُفق پر چھا جاتے ہیں۔ وہ ہر چینل پر آکر بھاشن دیتے ہیں، عوام کو نہیں بلکہ سیاستدانوں کو، انہیں ڈراتے ہیں، خوفزدہ کرتے ہیں کہ بندے بن جاؤ وگرنہ تمہارا حشر دنیا دیکھے گی، یہ مخلوق

جہاں بھر میں مرے دل سا کوئی گھر ہو نہیں سکتا – غلام حسین ساجد

جہاں بھر میں مرے دل سا کوئی گھر ہو نہیں سکتا کہ ایسی خاک پر ایسا سمندر ہو نہیں سکتا رواں رہتا ہے کیسے چین سے اپنے کناروں میں یہ دریا میری بیتابی کا مظہر ہو نہیں سکتا کسی کی یاد سے دل کا اندھیرا اور بڑھتا ہے یہ گھر میرے سلگنے سے منور ہو