عقیدت انسانی زندگی کے خوب صورت جذبات میں سے ایک ہے۔ یہ محبت کو گہرائی، تعلق کو استحکام اور شخصیت کو کسی اعلیٰ مقصد سے وابستگی عطا کرتی ہے۔ مگر یہی عقیدت جب عقل، سوال اور تنقیدی شعور سے بے نیاز ہو جائے تو انسان سوچنے کے بجائے سر جھکانے اور تحقیق کے بجائے تقلید پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ بقول مولانا ابوالکلام آزاد ”اندھی عقیدت ایک خطرناک نفسیاتی مرض ہے جو پتھر کو معبود، بندوں کو خدا، دین فروشوں کو عالم اور لٹیروں کو لیڈر بنا دیتی ہے“ ۔ اس قول کی مستند نسبت کی تصدیق اپنی جگہ، مگر اس میں پوشیدہ خیال ہمارے مذہبی، سیاسی اور معاشرتی رویوں پر ایک گہرا سوال اٹھاتا ہے : انسان کسی شخصیت یا نظریے سے محبت کرتے کرتے اپنی سوچنے کی آزادی کیوں کھو بیٹھتا ہے؟
انسان ہمیشہ سے معنی اور یقین کی تلاش میں رہا ہے۔ زندگی، موت، کائنات، انصاف اور مستقبل کے سوالات اسے فلسفے، مذہب، ادب اور سائنس کی طرف لے جاتے ہیں۔ لیکن سوال اپنے ساتھ بے یقینی بھی لاتا ہے، اور ہر شخص اس بے یقینی کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ چنانچہ بعض لوگ کسی ایسے رہنما، پیشوا یا نظریے کا سہارا تلاش کرتے ہیں جو انہیں ہر سوال کا تیار جواب فراہم کر دے۔ یوں تحقیق کی دشوار راہ کے مقابلے میں غیر مشروط یقین کا آسان راستہ زیادہ پُرکشش محسوس ہونے لگتا ہے۔ عقیدت کا آغاز محبت سے ہوتا ہے، مگر جب اس میں سوال کی گنجائش ختم ہو جائے تو وہ فکری غلامی کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
تاریخ میں شخصیت پرستی کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں۔ کبھی بادشاہوں کو خدائی اختیارات کا حامل سمجھا گیا، کبھی مذہبی پیشواؤں کو خطا سے بالاتر قرار دیا گیا اور کبھی سیاسی رہنماؤں کو قوم کا واحد نجات دہندہ بنا کر پیش کیا گیا۔ زمانہ بدلا، مگر انسانی نفسیات کی یہ کمزوری برقرار رہی۔ پہلے کسی شخصیت کے گرد تقدس کا ہالہ بنانے میں برسوں لگتے تھے، آج سوشل میڈیا چند گھنٹوں میں کسی عام انسان کو غیر معمولی مسیحا بنا سکتا ہے۔ ایک تصویر، جذباتی تقریر، پُرجوش نعرہ اور لاکھوں بار دہرایا جانے والا پیغام مل کر ایسی اجتماعی فضا پیدا کرتے ہیں جس میں دلیل کی آواز مدھم پڑ جاتی ہے۔
مذہبی عقیدت کا معاملہ خاص طور پر حساس ہے، کیونکہ مذہب انسان کی روحانی اور اخلاقی زندگی میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایمان اور اندھی تقلید کو ایک سمجھنا درست نہیں۔ ایمان اگر انسان میں انکسار، دیانت، انصاف اور خدمت کا جذبہ پیدا کرے تو معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔ لیکن جب کوئی شخص مذہب کی تشریح پر اپنی اجارہ داری قائم کر کے اپنے ہر قول کو حتمی حقیقت قرار دینے لگے تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ کسی عالم کا احترام اور اسے ناقابلِ سوال سمجھنا دو مختلف رویے ہیں۔ علم کی دنیا میں سوال گستاخی نہیں بلکہ فہم کی بنیادی شرط ہے۔ جو علم سوال سے خوفزدہ ہو، اسے اپنی بنیادوں پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔
سیاست میں اندھی عقیدت کے نتائج زیادہ نمایاں اور بعض اوقات زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اصولوں، منشور اور عوامی مسائل کے حل کے لیے قائم ہوتی ہیں، مگر جب جماعت کسی ایک شخصیت کے گرد گھومنے لگے تو اصول رفتہ رفتہ شخصیت کے تابع ہو جاتے ہیں۔ محبوب رہنما کی غلطی کو سیاسی حکمتِ عملی، جبکہ مخالف کے اسی عمل کو بدعنوانی یا نا اہلی قرار دیا جاتا ہے۔ احتساب کا معیار بدل جاتا ہے اور وفاداری، سچائی سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ یہ رویہ کسی ایک جماعت، ملک یا نظریے تک محدود نہیں۔ جہاں شخصیت کو اصول سے بلند مقام دے دیا جائے وہاں جمہوری شعور کمزور پڑنے لگتا ہے، کیونکہ جمہوریت افراد کی غیر مشروط اطاعت نہیں بلکہ اداروں، قانون اور جواب دہی کا نام ہے۔
نفسیات اس کیفیت کی ایک دلچسپ وضاحت پیش کرتی ہے۔ انسان عموماً ایسی معلومات قبول کرنے میں زیادہ سہولت محسوس کرتا ہے جو اس کے پہلے سے قائم عقائد کی تائید کرتی ہوں۔ اسے *تصدیقی تعصب* کہا جاتا ہے۔ ہم اپنی پسندیدہ شخصیت کی تعریف سن کر خوش ہوتے ہیں، مگر اس پر تنقید کو ذاتی حملہ سمجھ لیتے ہیں۔ جب کسی جماعت، گروہ یا نظریے سے وابستگی ہماری شناخت کا حصہ بن جائے تو اختلاف ہمیں اپنی ذات کے لیے خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ نتیجتاً ہم دلیل کا جواب دینے کے بجائے دلیل پیش کرنے والے کی نیت پر حملہ کرتے ہیں۔ اسی مقام پر مکالمہ ختم اور محاذ آرائی شروع ہو جاتی ہے۔
تعلیم کا بنیادی مقصد اس فکری جمود کو توڑنا ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے بعض تعلیمی رویے بھی سوال کے بجائے اطاعت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ طالب علم اگر استاد، کتاب یا کسی مروجہ تصور پر سوال اٹھائے تو اسے کبھی غیر ضروری بحث کرنے والا سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ انسانی علم کی تاریخ سوالات ہی سے آگے بڑھی ہے۔ سقراط نے سوال کو فلسفے کا وسیلہ بنایا، گلیلیو نے مشاہدے کی بنیاد پر رائج کائناتی تصورات کو چیلنج کیا اور آئن اسٹائن نے زمان و مکان کے بارے میں مسلمہ تصورات کو نئے انداز سے سمجھنے کی کوشش کی۔ اگر ہر قائم شدہ تصور کو ناقابلِ سوال قرار دے دیا جاتا تو انسانی فکر شاید اپنی ابتدائی منزلوں سے آگے نہ بڑھ پاتی۔
مشاہدہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سائنسی طرزِ فکر انسان کو انکسار سکھاتا ہے۔ سائنس کسی نظریے کو محض اس لیے درست نہیں مانتی کہ اسے کسی عظیم سائنس دان نے پیش کیا ہے۔ نیوٹن کی عظمت اپنی جگہ، مگر ان کے قوانین کے اطلاق کی حدود بعد کی تحقیقات سے واضح ہوئیں۔ آئن اسٹائن کی غیر معمولی علمی حیثیت کے باوجود ان کے نظریات بھی تجرباتی جانچ سے مستثنیٰ نہیں۔ سائنس کا حسن یہی ہے کہ یہاں شخصیت نہیں، شواہد فیصلہ کرتے ہیں۔ ایک نوجوان محقق کی درست دلیل کسی نامور سائنس دان کی غلط رائے پر فوقیت رکھ سکتی ہے۔ کاش یہی اصول ہماری سماجی اور سیاسی زندگی میں بھی رائج ہو جائے۔
البتہ عقل کی اہمیت تسلیم کرنے کا مطلب جذبات سے انکار نہیں۔ انسان صرف منطق کا مجموعہ نہیں ؛ اس کے اندر محبت، وفاداری، احترام اور وابستگی بھی موجود ہیں۔ والدین سے محبت، استاد کا احترام، وطن سے تعلق اور مذہبی عقیدت زندگی کو معنی عطا کرتے ہیں۔ مسئلہ جذبات کا نہیں بلکہ ان کا بے لگام ہو جانا ہے۔ محبت جب انصاف پر غالب آ جائے، وفاداری سچائی کو پس پشت ڈال دے اور احترام سوال کی اجازت چھین لے تو خوب صورت جذبات بھی نقصان دہ نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ کسی سے محبت کا مطلب اس کی ہر غلطی کو خوبی قرار دینا نہیں۔ بعض اوقات حقیقی خیرخواہی اسی میں ہوتی ہے کہ انسان اپنے محبوب شخص کو اس کی غلطی سے آگاہ کرے۔
ہمارے معاشرے میں عقیدت اور مفاد کے درمیان تعلق بھی خاصا دلچسپ ہے۔ بعض لوگ کسی طاقتور شخصیت کے گرد اس لیے جمع ہوتے ہیں کہ انہیں اس کی بصیرت پر یقین ہوتا ہے، جبکہ بعض کے نزدیک قربت ہی اصل سرمایہ ہوتی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں سے لے کر تعلیمی اور سماجی اداروں تک ایسے کردار نظر آتے ہیں جو طاقتور کی ہر بات میں حکمت تلاش کر لیتے ہیں۔ صاحبِ اقتدار خاموش ہوں تو اسے تدبر، بولیں تو بصیرت، مسکرائیں تو خوش اخلاقی اور ناراض ہوں تو اصول پسندی کہا جاتا ہے۔ اقتدار بدلتے ہی یہی تمام خوبیاں بعض اوقات نئے صاحبِ اقتدار میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اصول نہیں، عقیدت کا قبلہ تبدیل ہوا ہو۔
سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ معلومات کی فراوانی کے باوجود تحقیق اور تصدیق کی عادت کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ کوئی موثر جملہ کسی مشہور مفکر کے نام سے منسوب کر دیا جائے تو ہزاروں لوگ اسے بغیر تصدیق آگے بڑھا دیتے ہیں۔ اس مضمون کی بنیاد بننے والے قول کے ساتھ بھی یہی احتیاط ضروری ہے۔ کسی فکر کی معنویت اور اس کی تاریخی نسبت دو الگ معاملات ہیں۔ محض کسی معروف شخصیت کے نام سے منسوب ہونے کی وجہ سے ایک قول کو مستند سمجھ لینا خود اسی غیر تنقیدی رویے کی مثال ہے جس پر ہم گفتگو کر رہے ہیں۔
ایک صحت مند معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ وہاں سب ایک جیسا سوچتے ہوں، بلکہ یہ ہے کہ اختلاف رکھنے والے ایک دوسرے کو سننے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ ہمیں بچوں کو سکھانا ہو گا کہ کسی شخصیت سے متاثر ہونا اچھی بات ہے، مگر اسے خطا سے بالاتر سمجھنا نہیں۔ کسی نظریے کو قبول کرنا شعوری عمل ہونا چاہیے، محض وراثت میں ملنے والی عادت نہیں۔ سیاسی قیادت کی حمایت کارکردگی اور اصولوں کی بنیاد پر ہو، جبکہ مذہبی اور علمی شخصیات کا احترام تحقیق اور سوال کے حق میں رکاوٹ نہ بنے۔
بات عقیدت کو ختم کرنے کی نہیں، اسے شعور، اعتدال اور اخلاقی ذمہ داری کے تابع کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسا معاشرہ چاہیے جہاں استاد کا احترام ہو مگر سوال کی آزادی بھی، مذہبی رہنما کی عزت ہو مگر تحقیق کا دروازہ کھلا رہے، سیاسی قیادت کی حمایت ہو مگر احتساب کا حق محفوظ رہے، اور محبت ہو مگر اس کی قیمت عقل کی قربانی نہ ہو۔
انسان کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں کہ وہ کسی غلط بات کو درست سمجھ بیٹھے ؛ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ یہ یقین کر لے کہ اس کا محبوب شخص، گروہ یا نظریہ کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتا۔
عقیدت آنکھوں میں روشنی پیدا کرے تو نعمت ہے، اور آنکھوں پر پٹی باندھ دے تو المیہ۔


