کوئی بارہ سال پرانی بات ہے۔ استاذِ محترم پروفیسر عمران احسن خان نیازی نے مجھے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فاضل جج ہبہ اور وصیت سے متعلق ایک مقدمے میں کچھ سوالات پر گفتگو کرنا چاہتے تھے، تو میں نے آپ کا نمبر دے دیا ہے۔ کچھ دیر بعد جج صاحب کی کال آئی اور رسمی گفتگو کے بعد اصل موضوع پر آنے سے قبل کہا: ’’ہم نے تو رٹ درخواستوں سے یونیورسٹی کی جان چھڑا لی ہے۔‘‘انھی دنوں ان کا فیصلہ آیا تھا کہ عدالتیں یونیورسٹی کے خلاف رٹ جاری نہیں کرسکتیں، شاید وہ یہ سمجھتے تھے کہ میں ان کے اس فیصلے کی تحسین کروں گا۔ میں نے بے ساختہ کہا: ’’جی ہاں، اور یہ آپ نے بہت برا کیا ہے؟‘‘ ان کو دھچکا سا لگا۔ پوچھا: ’’جی؟‘‘ میں نے کہا: ’’جی ہاں، یہ بہت ہی برا فیصلہ ہے کیونکہ آپ نے یونیورسٹی کے ہزاروں ملازمین کو انتظامیہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔‘‘وہ تھوڑا سنبھل کر بولے: ’’چلیں، اس فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل میں بڑا بنچ تشکیل دے دیا گیا ہے، وہاں آپ بھی دلائل دے دیجیے گا۔‘‘ میں نے کہا: ’’ضرور، ان شاء اللہ، اور میں پہلے ہی اس اپیل میں فریق بننے کی درخواست دائر کرچکا ہوں۔‘‘اس کے بعد گفتگو ہبہ اور وصیت کے موضوع کی طرف چلی گئی۔
یونیورسٹیوں اور اسی طرح دیگر ’’خود مختار‘‘ اداروں کے ملازمین کیوں اپنی انتظامیہ کی غیر قانونی کارروائی کے خلاف ہائی کورٹ میں رٹ درخواست دائر نہیں کرسکتے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے پہلے آئین کی دفعہ 199 پر ایک نظر ڈال لیجیے جس میں کسی ایسے ’’شخص‘‘ کو، جو سرکاری امور سے متعلق فرائض سرانجام دے رہا ہو، رٹ جاری کرنے کا اختیار ہائی کورٹ کو دیا گیا ہے۔ مثلاً ادارے کے سربراہ نے ادارے میں ملازمت کرنے والے کسی فرد کو قانون میں دیے گئے طریقِ کار پر عمل کیے بغیر ملازمت سے برطرف کردیا، تو اس اقدام کے خلاف متاثرہ فرد ہائی کورٹ میں رٹ کی درخواست دائر کرسکتا ہے، اگر دفعہ 199 میں مذکور شرائط پوری ہورہی ہوں، تو ہائی کورٹ اس غیر قانونی برطرفی کے حکم کو معطل یا منسوخ کرکے ادارے کے سربراہ کو قانون کی پابندی کا حکم دے سکتی ہے۔
ہائی کورٹ کا یہ اختیار دو وجوہات کی بنا پر بہت اہم ہے: ایک، رٹ درخواست کا معاملہ جلدی نمٹ جاتا ہے، جبکہ عام دیوانی مقدمے میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے؛ دو، عام دیوانی مقدمے میں اگر ثابت بھی ہوجائے کہ اس ملازم کے خلاف اقدام قانوناً غلط تھا، تو اس کی ملازمت پر بحالی کا حکم جاری نہیں کیا جاتا، بلکہ زیادہ سے زیادہ اسے زرِ تلافی کی ادائیگی کا کہا جاتا ہے اور اس زرِ تلافی کی مثال انگریزی محاورے کے مطابق ’’مونگ پھلی‘‘ کی ہوتی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے مذکورہ فاضل جج نے یونیورسٹی کے خلاف رٹ جاری کرنے سے انکار کے لیے بنیاد یہ ذکر کی تھی کہ یونیورسٹی دفعہ 199 میں مذکور تعریف پر پورا نہیں اترتی۔ اس بات کو انٹرا کورٹ اپیل میں بڑے بنچ نے مستردکردیا اور قرار دیا کہ سرکاری خزانے سے چلنے والی یونیورسٹیاں، جن کا انتظام بھی سرکار کے تحت ہو، اس تعریف میں شامل ہیں کیونکہ تعلیم کی فراہمی بھی سرکاری امور میں سے ہے۔
بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ فاضل جج نے یونیورسٹی کے خلاف رٹ درخواستیں روکنے کا ایک اور راستہ ڈھونڈ لیا۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ کے کسی غیر قانونی اقدام کے خلاف رٹ درخواست آتی، تو فاضل جج درخواست گزار پر اخلاقی دباؤ ڈالنا شروع کریتے کہ اپنی ہی یونیورسٹی کو بدنام نہ کریں اور درخواست واپس لیں۔ اگر وہ درخواست واپس نہ لیتا، تو یا تو لمبی تاریخ اور پھر تاریخوں پر تاریخیں دیتے، یا اگر فیصلہ ہی دیتے، تو یہ قرار دے کر درخواست مستردکردیتے کہ ہم تو صرف قانون کی خلاف ورزی پر ہی رٹ جاری کرسکتے ہیںجبکہ یونیورسٹی کی انتظامیہ پر جن ’’قواعد‘‘ (Rules)کی خلاف ورزی کا الزام ہے، یہ ’’قانون‘‘ کی تعریف پر پورا نہیں اترتے کیونکہ یہ قواعد مقننہ نے نہیں بنائے بلکہ یونیورسٹی نے اپنے اندرونی امور کے لیے بنائے ہیں۔
بعض فاضل جج ایک اور راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جب ان کے سامنے اس ’’قانون‘‘ کی خلاف ورزی کا معاملہ رکھ دیا جاتا ہے، جو مقننہ ہی نے بنایا ہے اور جس کے تحت یونیورسٹی وجود میں آئی ہے، تو وہ قرار دیتے ہیں کہ رٹ تو ایک غیر معمولی داد رسی ہے جو غیر معمولی حالات میں ہی دی جاسکتی ہے، اس لیے آپ پہلے یونیورسٹی کے اندر ہی متعلقہ فورم کو اپیل کریں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بات بھی نظر انداز کردیتے ہیں کہ یونیورسٹی کے اندر متعلقہ فورم اپنے سربراہ کے فیصلے کے خلاف اپیل یا تو سنتا ہی نہیں، یا اسے سننے میں غیر معمولی تاخیر کرتا ہے یا صریح نا انصافی کرتا ہے، اور شاذ و نادر ہی انصاف کے تقاضے پورا کرتا ہے۔
اگر یونیورسٹیوں کے اندر متعلقہ فورم بالآخر فیصلہ کر ہی دیتا ہے جس سے مذکورہ ملازم مطمئن نہ ہو، تو کیا وہ سرکاری ملازموں کے لیے بنائی گئی ’’سروس ٹریبیونل‘‘ میں جاسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہے کیونکہ یہ ملازمین بے شک ایک سرکاری یونیورسٹی کے ملازم ہوں، لیکن یہ ’’سرکاری ملازمین‘‘ نہیں ہیں!
یہاں وہ قانونی رکاوٹ سامنے آتی ہے جس کا میں نے انھی کالموں میں بارہا ذکر کیا ہے۔ یونیورسٹی قانون کی نظر میں ایک ’’فرضی شخص‘‘ ہے اور یونیورسٹی سے وابستہ افراد کا تعلق سرکار کے ساتھ اس فرضی شخص کے واسطے سے ہوتا ہے، نہ کہ براہِ راست۔ گویا سرکار اور ان ملازمین کے درمیان یونیورسٹی کی ’’فرضی شخصیت‘‘ کا پردہ حائل ہوتا ہے۔ اس فرضی شخصیت کا یونیورسٹی کی انتظامیہ کو ایک یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ اگر کبھی ان کا غیر قانونی اقدام ثابت بھی ہوجائے، تو ان کے خلاف ذاتی حیثیت میں کارروائی نہیں کی جاسکتی۔
پس ان ملازمین کے پاس دیوانی عدالت ہی بچتی ہے جہاں وہ اس غیر قانونی اقدام کے خلاف دعوی دائر کرسکتے ہیں۔ اب ایک تو دیوانی مقدمہ اتنا لمبا کھینچا جاسکتا ہے کہ وہ ان ملازمین کو دیوانہ ہی بنادے، اور پھر اگر مقدمہ ان کے حق میں ہو بھی جائے، تو اپیل در اپیل کا راستہ اسے مزید کھینچنے کے لیے کھلا رہتا ہے۔ حتمی فیصلے میں دس دس سال اور بعض اوقات اس سے بھی زیادہ لگ جاتے ہیں، اور جیسا کہ ذکر کیا گیا وہ حتمی فیصلہ ملازم کی بحالی کا نہیں ہوسکتا، بلکہ زرِ تلافی کی ادائیگی کا ہوتا ہے۔
دیوانی عدالت بحالی کا حکم اس لیے جاری نہیں کرسکتی کہ اس کے لیے یہ’’آقا اور نوکر‘‘ کے درمیان’’ملازمت کے معاہدے کی خلاف ورزی‘‘کا مقدمہ ہوتا ہے۔ آقا اور نوکر؟ جی ہاں، انگریزوں کی باقیات میں ایک یہ چیز بھی ہماری عدالتوں نے اب تک سینے سے لگائی رکھی ہے اور ہمارے روشن دماغ جج اکثر اپنے فیصلوں میں یہ ترکیب دہراتے رہتے ہیں!
رٹ درخواست دائر نہیں کرسکتے، سروس ٹریبیونل میں جا نہیں سکتے اور دیوانی عدالت میں آقا کے نوکر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اب تْو ہی بتا، تیرا مسلمان کدھر جائے!
بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز

