پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوارِ حکومت: معاشی کارکردگی کا تقابلی جائزہ – ڈاکٹر نیاز عازم

شیئر کریں

پاکستان میں 2008 سے 2018 کا عشرہ معاشی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو عالمی مالیاتی بحران، توانائی کے شدید بحران، دہشت گردی اور کمزور زرمبادلہ ذخائر جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ 2013 میں مسلم لیگ (ن) کو نسبتاً کمزور شرحِ نمو، بجلی کے بڑے گردشی قرضے، توانائی کی قلت اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ والی معیشت ورثے میں ملی۔ اس لیے دونوں ادوار کا موازنہ کرتے وقت صرف اختتامی اعداد نہیں بلکہ ابتدائی حالات، عالمی ماحول اور پالیسیوں کے اثرات کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔

1۔ غیر ملکی قرضوں میں اضافہ

پیپلز پارٹی کے دور کے اختتام، یعنی جون 2013 پر پاکستان کا کل بیرونی قرض و واجبات تقریباً 59.8 ارب ڈالر تھے۔ جون 2008 کے مقابلے میں اس میں اضافہ ہوا تھا، تاہم 2013 کے آخری سال میں بیرونی قرض و واجبات میں ایک غیر معمولی کمی بھی ہوئی، جس کی بڑی وجہ IMF کو تقریباً 2.9 ارب ڈالر کی ادائیگی تھی۔

مسلم لیگ (ن) کے دور میں بیرونی قرض اور واجبات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2018 تک کل بیرونی قرض و واجبات 95.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ جون 2013 میں یہ تقریباً 59.8 ارب ڈالر تھے۔ یوں پانچ سال میں تقریباً 35.3 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 59 فیصد اضافہ ہوا۔ جون 2018 میں صرف حکومت کا بیرونی قرض تقریباً 64.1 ارب ڈالر تھا۔

State Bank of Pakistan

لہٰذا مطلق اضافے کے لحاظ سے مسلم لیگ (ن) کے دور میں بیرونی قرض و واجبات کا اضافہ کہیں زیادہ رہا۔

2۔ غیر ملکی قرضوں پر سود اور قرضوں کی لاگت

یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے: بیرونی قرضوں کے لیے ایک ہی ’’سود کی شرح‘‘ نہیں ہوتی، کیونکہ پاکستان کے قرضے IMF، عالمی مالیاتی اداروں، دوطرفہ قرض دہندگان، یورو بانڈز اور کمرشل بینکوں سمیت مختلف ذرائع سے مختلف شرائط پر لیے جاتے ہیں۔ اس لیے زیادہ بامعنی پیمانہ بیرونی قرض پر ادا کیا جانے والا سالانہ سود ہے۔

2012-13 میں پاکستان نے سرکاری بیرونی قرض پر تقریباً 800 ملین ڈالر سود ادا کیا۔ بعد کے برسوں میں یہ رقم بڑھتی گئی۔ 2016-17 میں بیرونی سرکاری قرض پر سود تقریباً 1.31 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ SBP کے مطابق FY18 میں بیرونی سرکاری قرض کے سود کی ادائیگی تقریباً 1.79 ارب ڈالر رہی۔

اس اضافے کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ مسلم لیگ (ن) کے آخری برسوں میں پاکستان نے زیادہ مقدار میں کمرشل قرضے اور بانڈز حاصل کیے، جن کی شرحِ سود عموماً Concessional Multilateral Loans سے زیادہ ہوتی ہے۔ SBP نے بھی نشاندہی کی کہ نئے بیرونی قرضوں کی اوسط مدت FY18 میں کم ہو کر 10.9 سال رہ گئی، جبکہ کمرشل قرض نسبتاً زیادہ شرح اور کم مدت پر حاصل کیے گئے؛ اس کے نتیجے میں سودی بوجھ بڑھا۔

اس اعتبار سے دونوں ادوار کا فرق یہ ہے کہ PPP دور کے آخر میں بیرونی قرض کی Servicing پہلے ہی دباؤ کا باعث تھی، لیکن PML-N دور میں قرض کا حجم بڑھنے کے ساتھ ساتھ سودی ادائیگی بھی واضح طور پر بڑھی۔

3۔ برآمدات

پیپلز پارٹی کے دور میں برآمدات نے ابتدا میں خاصی بہتری دکھائی۔ 2010-11 میں برآمدات تقریباً 25 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں؛ حکومت نے 2011-12 میں بھی 25 ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات کا ہدف حاصل کیا تاہم عالمی معاشی حالات، توانائی کی قلت اور صنعتی مسائل کے باعث اس رفتار کو مستقل طور پر برقرار نہیں رکھا جا سکا۔

Finance Division

2013 میں مسلم لیگ (ن) کے اقتدار میں آنے کے بعد برآمدات میں ابتدا میں معمولی استحکام رہا، لیکن بعد کے برسوں میں ان میں کمی آئی۔ FY2016-17 میں Goods Exports تقریباً 22.0 ارب ڈالر رہیں، جبکہ FY2017-18 میں کچھ بہتری کے بعد یہ تقریباً 24.77 ارب ڈالر ہو گئیں۔

یوں برآمدات کے لحاظ سے مسلم لیگ (ن) کا پورا دور کوئی مسلسل Upward Trend پیش نہیں کرتا۔ 2017-18 میں برآمدات دوبارہ تقریباً 24.8 ارب ڈالر تک پہنچیں، لیکن یہ 2011-12 کے تقریباً 25 ارب ڈالر کے بلند مقام سے بہت زیادہ مختلف نہیں تھیں۔ اس کے برعکس اس عرصے میں درآمدات بہت تیزی سے بڑھیں، جس نے بیرونی شعبے کا مسئلہ زیادہ سنگین بنا دیا۔

4۔ تجارتی خسارہ

یہ وہ شعبہ ہے جہاں دونوں ادوار کا فرق خاص طور پر نمایاں ہے۔

2012-13 میں پاکستان کی اشیا کی برآمدات تقریباً 24.8 ارب ڈالر جبکہ درآمدات تقریباً 44.9 ارب ڈالر تھیں، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ تقریباً 20 ارب ڈالر کے قریب رہا۔

 2017-18 میں برآمدات 24.77 ڈالر جبکہ درآمدات 56.59 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس سے تجارتی خسارہ تقریباً 31.82 ارب ڈالر ہو گیا۔ یہ اس وقت تک پاکستان کا انتہائی بلند سالانہ تجارتی خسارہ تھا۔

یعنی تقریباً پانچ سال میں تجارتی خسارہ 20 ارب ڈالر سے بڑھ کر 31.8 ارب ڈالر تک پہنچا۔ اس کی ایک وجہ برآمدات کی کمزور کارکردگی تھی، جبکہ دوسری بڑی وجہ درآمدات میں غیر معمولی اضافہ تھا۔

 اس کا نتیجہ زرمبادلہ پر شدید دباؤ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی صورت میں نکلا۔

5۔ بجلی اور گیس کا گردشی قرضہ

توانائی کا بحران دونوں ادوار کی معیشت کا اہم مسئلہ رہا۔

پیپلز پارٹی کے دور کے آخری حصے تک بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ تقریباً 503 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق مئی 2013 میں پاور سیکٹر کا گردشی قرض 503 ارب روپے تھا، جس کی بڑی وجوہات میں بجلی کے نرخوں اور لاگت کا فرق، لائن لاسز، کم ریکوری، سرکاری اداروں کے واجبات اور سبسڈی کی ادائیگیوں میں تاخیر شامل تھیں۔

مسلم لیگ (ن) نے اقتدار سنبھالتے ہی اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی اور جون/جولائی 2013 میں تقریباً 480 ارب روپے کے گردشی قرضے کو مختلف طریقوں سے Settle کیا۔

لیکن یہ مستقل حل ثابت نہ ہوا۔ اگلے برسوں میں گردشی قرض دوبارہ بڑھتا گیا اور 2018 تک پاور سیکٹر کا Accumulated Circular Debt تقریباً 12 کھرب روپے کی سطح تک پہنچ چکا تھا۔ IMF کے بعد کے تجزیے میں بھی بتایا گیا کہ پاور سیکٹر کا گردشی قرض FY2013 کے تقریباً 450 ارب روپے سے بڑھ کر بعد کے برسوں میں تیزی سے بڑھا۔

گیس کے معاملے میں صورت حال قدرے مختلف تھی۔ گیس سیکٹر کا باقاعدہ بڑا گردشی قرض بعد کے برسوں میں زیادہ نمایاں ہوا؛ SBP کے مطابق جون 2018 میں گیس سیکٹر کا Circular Debt تقریباً 3 ارب روپے کے قریب شمار کیا گیا، جبکہ بعد کے برسوں میں یہ بہت تیزی سے بڑھا۔ � بعض ذرائع گیس کمپنیوں کے مختلف Receivables اور Tariff Differentials کو شامل کر کے 2018 کی بڑی رقم بیان کرتے ہیں، اس لیے گیس کے معاملے میں اعداد کا تقابل کرتے وقت Definition کا فرق ضرور ملحوظ رکھنا چاہیے۔

6۔ GDP Growth میں اضافہ

GDP Growth دونوں ادوار کے درمیان سب سے نمایاں فرق پیش کرتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور میں پاکستان کی حقیقی GDP Growth مجموعی طور پر کمزور رہی۔ 2008-09 میں Growth تقریباً 0.36 فیصد رہی، جبکہ 2009-10 میں 2.58، 2010-11 میں 3.66، 2011-12 میں 4.36 اور 2012-13 میں 3.59 فیصد رہی۔

اس کے برعکس مسلم لیگ (ن) کے دور میں Growth نسبتاً تیز ہوئی۔ حکومت کے آخری Economic Survey کے مطابق 2013-18 کے پانچ سال میں اوسط GDP Growth تقریباً 4.8 فیصد رہی، جبکہ 2017-18 میں Growth 5.79 فیصد تک پہنچ گئی، جو اس وقت تقریباً 13 سال کی بلند ترین شرح تھی۔ ایک زاویہ سے دیکھا جائے تو جی ڈی پی گروتھ کے معاملے میں ہمیں ن لیگ کی کارکردگی بہتر نظر آتی ہےکہ اس کے دور حکومت میں جی ڈی پی گروتھ زیادہ تھی ۔دوسرے زاویہ نظر سے دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی کو 0.036 فیصد گروتھ والی معیشت ملی ۔اتنی کم گروتھ کو 3.59 فیصد تک لے کر جانا بھی بہت بڑی کامیابی ہے ۔

یہاں بھی احتیاط ضروری ہے کہ ن لیگ دور حکومت میں ہونے والا Growth میں اضافہ صرف حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں تھا۔ عالمی تیل کی نسبتاً کم قیمتیں، CPEC کے تحت سرمایہ کاری، بجلی کی دستیابی میں بہتری، انفراسٹرکچر اخراجات اور عالمی معاشی حالات نے بھی کردار ادا کیا۔ اسی طرح PPP دور میں عالمی مالیاتی بحران، سیلاب، دہشت گردی اور توانائی کے بحران نے Growth کو متاثر کیا. مختصر طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو جی ڈی پی نیم مردہ حالت میں ملی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس کی سانسیں بحال کر کے اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔ اس کے بعد ن لیگ نے مقامی اور بین الاقوامی سازگار حالات کا فائدہ اٹھا  کر اسے مزید تندرست و توانا کیا۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ پی پی دور حکومت میں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 109 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں جبکہ ن لیگ کے دور میں یہ قیمتیں 45 ڈالر فی بیرل تک گر گئی تھیں ۔ اس سب کے باوجود پیپلز پارٹی کی حکومت کی معاشی کارکردگی ہمیں واضح طور پر بہتر نظر آتی ہے ۔

بشکریہ: ہم سب


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے