علاج امیروں کے لیے سہولت، غریبوں کے لیے آزمائش کیوں؟ پاکستان کے نظامِ صحت کا ایک اہم سوال – عرفان ہارون

شیئر کریں

رات کے کسی پہر ایک باپ اپنے بیمار بچے کو گود میں اٹھائے اسپتال کے دروازے پر کھڑا ہے۔ بچے کو فوری علاج کی ضرورت ہے، لیکن باپ کی جیب میں اتنے پیسے نہیں کہ وہ ضروری ٹیسٹ کروا سکے یا دوائیں خرید سکے۔ ایک طرف بچے کی تکلیف سے بے قرار ماں کی آنکھوں میں آنسو ہیں، تو دوسری طرف باپ کی بے بسی ہے، جو اپنے بچے کو درد سے تڑپتا تو دیکھ سکتا ہے، لیکن اس کی تکلیف کم کرنے کے لیے ضروری علاج خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ یہ محض ایک خاندان کی کہانی نہیں، بلکہ اس تلخ حقیقت کی عکاسی ہے جس کا پاکستان میں بہت سے خاندانوں کو بیماری کے وقت سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بیماری امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتی، لیکن علاج تک رسائی کا انحصار اکثر انسان کی مالی حیثیت پر ہوتا ہے۔ صاحبِ ثروت شخص مہنگے اسپتال میں ماہر ڈاکٹروں، جدید تشخیصی سہولتوں اور بہتر علاج سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جب کہ محدود آمدنی والے خاندان کے لیے ڈاکٹر کی فیس ادا کرنا، ٹیسٹ کروانا اور ضروری دوائیں خریدنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ امیر کے لیے علاج کا انتخاب ایک سہولت ہو سکتا ہے، لیکن غریب کے لیے یہی انتخاب اکثر مجبوری اور بے بسی میں بدل جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر صحت ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے تو پھر پاکستان میں معیاری علاج کا حصول مالی استطاعت سے مشروط کیوں ہے؟

یہ مسئلہ محض نجی اسپتالوں کے بھاری بلوں یا ادویات کی قیمتوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق ریاستی ترجیحات، سرکاری بجٹ برائے صحت، طبی سہولتوں کی دستیابی اور شہریوں کو مالی تحفظ فراہم کرنے والے نظام سے بھی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب اس کا کوئی شہری بیمار پڑتا ہے۔ کیا اسے بروقت علاج ملتا ہے؟ کیا وہ علاج کے اخراجات برداشت کر سکتا ہے؟ اور کیا علاج کے بعد اس کا خاندان معاشی مشکلات سے محفوظ رہتا ہے؟

اگر پاکستان میں صحت کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو بعض شعبوں میں بہتری کے آثار ضرور دکھائی دیتے ہیں، لیکن بنیادی مسائل اب بھی موجود ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے پاکستان اکنامک سروے 2025۔ 26 کے مطابق، مالی سال 2024۔ 25 کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے صحت پر مجموعی اخراجات تقریباً 942.2 ارب روپے رہے، جب کہ مالی سال 2023۔ 24 میں یہ رقم 924.9 ارب روپے تھی۔ اس طرح ان اخراجات میں تقریباً 1.9 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم، اسی سروے کے مطابق مالی سال 2024۔ 25 میں صحت پر سرکاری اخراجات مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے محض 0.8 فیصد کے برابر تھے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اخراجات میں اضافہ اپنی جگہ، لیکن بڑھتی ہوئی آبادی، مہنگائی اور علاج کی ضروریات کے مقابلے میں شعبۂ صحت کے لیے وسائل کی فراہمی اب بھی ایک بڑا سوال ہے۔ صرف بجٹ میں رقم بڑھانا کافی نہیں، بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس رقم کے نتیجے میں عام شہریوں کو کتنی اور کس معیار کی سہولتیں حاصل ہوئیں۔

اس صورتِ حال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ شہری صحت کی سہولتوں پر اپنی جیب سے کتنا خرچ کرتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی نیشنل ہیلتھ اکاؤنٹس پاکستان 2021۔ 22 کی رپورٹ کے مطابق، گھرانوں نے ایک سال کے دوران صحت کی خدمات پر مجموعی طور پر 983.7 ارب روپے اپنی جیب سے خرچ کیے۔ دوسری جانب، عالمی ادارۂ صحت کے گلوبل ہیلتھ ایکسپینڈیچر ڈیٹابیس کے مطابق، پاکستان میں صحت کے مجموعی اخراجات کا تقریباً 52.9 فیصد حصہ 2023 میں شہریوں نے براہِ راست اپنی جیب سے ادا کیا۔ یہاں یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ گھرانوں کے اخراجات سے متعلق مذکورہ رقم مالی سال 2021۔ 22 کی ہے، جب کہ 52.9 فیصد کا تناسب 2023 سے متعلق ہے۔ یہ دونوں اعداد و شمار ایک ہی سال کے نہیں، لیکن مل کر اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ پاکستان میں علاج کا بڑا مالی بوجھ اب بھی عوام ہی برداشت کر رہے ہیں۔

کم آمدنی والے خاندان کے لیے یہ خرچ محض بجٹ کی ایک مد نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مطلب گھر کے راشن میں کمی، بچوں کی اسکول فیس کی ادائیگی میں تاخیر، قرض کا بوجھ یا کسی دوسری ضروری ضرورت سے دست بردار ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ اگر گھر کا کفیل بیمار ہو جائے تو روزگار بند ہو سکتا ہے، اور اگر بچے کو طویل علاج کی ضرورت پیش آ جائے تو والدین کی ساری جمع پونجی ختم ہو سکتی ہے۔ بہت سے خاندان علاج کے لیے قرض لیتے ہیں، زیورات فروخت کرتے ہیں یا اپنی دوسری ضروریات قربان کر دیتے ہیں۔ اس طرح بیماری محض جسمانی تکلیف تک محدود نہیں رہتی، بلکہ غربت کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ اگر علاج پر خرچ ہونے والی رقم کسی خاندان کو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے محروم کر دے تو یہ محض انفرادی مسئلہ نہیں، بلکہ نظامِ صحت میں مالی تحفظ کی کمی کا ثبوت ہے۔

پاکستان اکنامک سروے 2025۔ 26 میں صحت کے بعض اشاریوں میں بہتری کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پیدائش کے وقت متوقع اوسط عمر 2018 میں 66.5 سال سے بڑھ کر 2024 میں 67.8 سال ہو گئی۔ اسی طرح مالی سال 2024۔ 25 کے دوران بچوں کو بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگانے کی شرح 73 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا، جب کہ نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات 2018۔ 19 میں ہر ایک ہزار زندہ پیدائشوں پر 41 سے کم ہو کر 2024۔ 25 میں 35 رہ گئی۔ اس کے باوجود جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان کی صورتِ حال تشویش ناک نظر آتی ہے۔ 2024 میں خطے میں پیدائش کے وقت متوقع اوسط عمر 72.6 سال تھی، جب کہ پاکستان میں یہ 67.8 سال تھی۔ اسی طرح خطے میں ایک سال سے کم عمر بچوں کی شرحِ اموات ہر ایک ہزار زندہ پیدائشوں پر 23.2 تھی، جب کہ پاکستان میں یہ شرح 47 تھی۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ محض اخراجات میں اضافہ کافی نہیں، بلکہ ان اخراجات کو صحت کے بہتر نتائج میں تبدیل کرنا بھی ضروری ہے۔

یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ عالمی ادارۂ صحت اور عالمی بینک کی جانب سے دسمبر 2025 میں شائع ہونے والی ہر فرد کے لیے صحت کی جامع کوریج سے متعلق رپورٹ کے مطابق، 2023 میں دنیا بھر میں تقریباً 4.6 ارب افراد ضروری صحت کی خدمات کی مکمل کوریج سے محروم تھے، جب کہ 2022 میں 2.1 ارب افراد کو طبی اخراجات کے باعث مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سے تقریباً 1.6 ارب افراد ایسے تھے جو پہلے ہی غربت میں زندگی گزار رہے تھے یا طبی اخراجات کے باعث مزید غربت کی طرف دھکیل دیے گئے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صحت کی سہولتوں تک رسائی اور علاج کے اخراجات سے مالی تحفظ فراہم کرنا پوری دنیا کے لیے بڑے چیلنج ہیں۔ تاہم، کسی مسئلے کا عالمی سطح پر موجود ہونا کسی ملک کی اس ذمہ داری کو کم نہیں کرتا کہ وہ اپنے شہریوں کے لیے علاج کو آسان اور قابلِ رسائی بنائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ بیماری کسی خاندان کو معاشی تباہی کے دہانے پر نہ پہنچا دے۔

پاکستان میں سرکاری اسپتال اور بنیادی مراکزِ صحت لاکھوں شہریوں کو طبی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود بہت سے ڈاکٹر، نرسیں اور طبی عملے کے دیگر ارکان قابلِ قدر خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن سہولتوں کی دستیابی اور معیار ہر علاقے میں یکساں نہیں۔ جب کسی مریض کو سرکاری اسپتال میں ضروری دوا، ٹیسٹ یا بروقت علاج نہیں ملتا تو اسے نجی طبی مرکز کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں اخراجات اس کی مالی استطاعت سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں بڑے شہروں تک سفر، رہائش اور مریض کی دیکھ بھال کے اخراجات ان مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ کسی مریض کے لیے صرف ڈاکٹر تک پہنچ جانا کافی نہیں، بلکہ اسے درست تشخیص، ضروری ادویات، مناسب علاج اور مسلسل نگہداشت بھی ملنی چاہیے۔ اگر علاج کے ایک مرحلے کو مکمل کرنے کے لیے بھی اسے بار بار اپنی جیب سے رقم خرچ کرنا پڑے تو صحت کی سہولتوں تک رسائی کا دعویٰ عملی طور پر نامکمل رہ جاتا ہے۔

اس صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت صحت کے بجٹ میں مناسب اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال میں شفافیت اور جواب دہی کو بھی یقینی بنائے۔ حکومتوں کو واضح کرنا چاہیے کہ مختص کی گئی رقم کہاں خرچ ہوئی، مریضوں کو کتنی ادویات اور کون سی طبی سہولتیں فراہم کی گئیں اور ان اخراجات کے نتیجے میں صحت کے شعبے میں کیا بہتری آئی۔ کامیابی کا معیار محض نئی عمارتیں، جدید آلات یا اعداد و شمار میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ بروقت علاج، ادویات کی دستیابی، تربیت یافتہ عملے اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی معیاری سہولتوں کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ بجٹ میں اضافہ اسی وقت حقیقی پیش رفت بنے گا جب اس کے فوائد بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے شہروں، دیہی علاقوں اور کم آمدنی والے خاندانوں تک بھی پہنچیں گے۔

اس کے ساتھ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے موثر مالی تحفظ فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے۔ ایسے پروگراموں میں صرف اسپتال میں داخلے کے اخراجات شامل کرنے کے بجائے ضروری ٹیسٹوں، ادویات اور اہم طبی خدمات تک رسائی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ اہلیت کے واضح اصول، شفاف نگرانی اور شکایات کے ازالے کا موثر نظام اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ امداد حقیقی مستحقین تک پہنچے۔ ایسا نظام بھی ضروری ہے جس میں کسی مستحق مریض کو مالی امداد حاصل کرنے کے لیے پیچیدہ کارروائیوں، غیر ضروری انتظار یا بار بار دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ کسی غریب خاندان کے لیے یہ سہولت محض مالی مدد نہیں، بلکہ اس یقین کا نام ہے کہ بیماری کے وقت اسے اپنے پیاروں کے علاج اور گھر کا چولہا جلانے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں ہونا پڑے گا۔ علاج کے اخراجات کے خلاف ایسا تحفظ فراہم کرنا ریاست کی بنیادی سماجی ذمہ داریوں میں شامل ہونا چاہیے، تاکہ کسی خاندان کی جمع پونجی ایک بیماری کے باعث ختم نہ ہو اور علاج کے لیے لیا گیا قرض اسے طویل عرصے تک غربت میں جکڑے نہ رکھے۔

ادویات کی قیمتوں، معیار اور دستیابی کی موثر نگرانی بھی اسی قدر اہم ہے۔ معیاری اور کم قیمت متبادل ادویات کے مناسب استعمال کی حوصلہ افزائی، غیر معیاری مصنوعات کی روک تھام اور غیر ضروری ٹیسٹوں و علاج کی حوصلہ شکنی کے ذریعے مریضوں کے اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ادویات کے معیار اور قیمتوں کی نگرانی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ سرکاری مراکزِ صحت میں ضروری ادویات باقاعدگی سے دستیاب ہوں۔ اگر مریض کو سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر کی سہولت تو مل جائے، لیکن نسخے میں لکھی گئی دوائیں باہر سے خریدنا پڑیں، تو علاج کی لاگت پھر بھی اس کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی رہے گی۔ اس کے علاوہ صاف پانی، صفائی ستھرائی، حفاظتی ٹیکہ جات، ماں اور بچے کی صحت اور بیماریوں کی بروقت تشخیص پر سرمایہ کاری بھی ضروری ہے، کیونکہ موثر حفاظتی اقدامات نہ صرف انسانی تکلیف کو کم کرتے ہیں، بلکہ علاج کے بھاری اخراجات سے بچنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ نظامِ صحت کی کامیابی صرف بیماریوں کا علاج کرنے میں نہیں، بلکہ بیماریوں سے بچاؤ اور شہریوں کو صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنے میں بھی ہے۔

آخرکار، سوال یہ نہیں کہ امیر علاج کروا سکتا ہے یا غریب نہیں کروا سکتا، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا کسی انسان کو محض اس لیے علاج سے محروم رہنا چاہیے کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں؟ کیا کسی ماں کو اپنے بیمار بچے کی دوا اور گھر کے راشن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑنا چاہیے؟ اور کیا کسی باپ کو اپنے پیارے کو تکلیف میں دیکھتے ہوئے صرف اس لیے بے بس رہنا چاہیے کہ اس کی جیب علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی اجازت نہیں دیتی؟ یہ سوالات کسی ایک خاندان، کسی ایک اسپتال یا کسی ایک حکومت تک محدود نہیں، بلکہ اس بنیادی سوچ سے تعلق رکھتے ہیں کہ کیا ہم صحت کو ایک مشترکہ ذمہ داری سمجھتے ہیں یا اسے محض فرد کی مالی استطاعت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔

ایک مہذب معاشرے میں ان سوالات کے جواب صرف ہمدردی کے الفاظ تک محدود نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ ان کا عملی اظہار موثر پالیسیوں، شفاف نظام اور ہر شخص کی پہنچ میں موجود طبی سہولتوں کی صورت میں ہونا چاہیے۔ بیماری پہلے ہی انسان سے صحت، سکون اور بعض اوقات زندگی کی امید بھی چھین لیتی ہے ؛ علاج کے اخراجات اسے معاشی تباہی کی طرف دھکیلنے کا سبب نہیں بننے چاہئیں۔ پاکستان میں صحت کے شعبے میں حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہو گی جب ایک عام شہری بھی عزت، اعتماد اور مالی تحفظ کے ساتھ علاج حاصل کر سکے گا۔ علاج کسی خاندان کی مالی استطاعت کا امتحان نہیں، بلکہ ہر ضرورت مند انسان کے لیے قابلِ رسائی ایک بنیادی سہولت ہونا چاہیے۔

بشکریہ: ہم سب

 


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے