چند روز سے پنجاب میں تشدد کے ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں قانونی کارروائی اور انصاف کے شفاف راستے پر عمل درآمد کی بجائے ”تشدد کے بدلے تشدد“ اور بدلے کے رجحان کو فروغ دیا گیا ہے۔
جب ریاست کے ذمہ داران اور ادارے خود قانونی نظام کے تحت کارروائی کرنے کے بجائے انتقامی یا جذباتی فیصلوں کو ہوا دیں گے، تو عوام کا عدالتوں اور قانون پر سے رہا سہا اعتماد بھی اٹھ جائے گا اور معاشرہ جان کے بدلے جان اور تھپڑ کے بدلے تھپڑ کی اس آگ میں دھنستا چلا جائے گا۔ بدلے کی یہ روش کسی بھی مہذب معاشرے کا زوال قرار دی جا سکتی ہے۔
قدیم بابلی تہذیب کے بادشاہ حمورابی نے ”آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت“ کا تصور پیش کیا تھا۔ ہزاروں سال پہلے اس قانون کا بنیادی مقصد بے لگام قبائلی دشمنیوں کو حدود میں لانا اور بدلے کی ایک حد مقرر کرنا تھا، تاکہ ایک معمولی تنازع پر پورا خاندان یا قبیلہ قتل نہ کر دیا جائے۔ لیکن جیسے جیسے انسان نے ترقی کی اور ریاستوں و جدید قانونی نظام کا قیام عمل میں آیا، اس طرح کے غیر مہذب اصول تاریخ کے اوراق تک محدود ہو گئے۔ موہن داس گاندھی نے اس رویے پر کہا تھا، اگر ہم آنکھ کے بدلے آنکھ کے اصول پر چلتے رہے تو ایک دن پوری دنیا اندھی ہو جائے گی۔
ان دنوں رونما ہونے والے واقعات اس سماجی زوال اور بحران کا ثبوت ہیں کہ جہاں انصاف کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈال کر بدلے کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔
لاہور میں ایک خاتون کو سکوٹی چلاتے وقت ایک شہری نے سرِعام تشدد، بال کھینچنے اور شدید تحقیر کا نشانہ بنایا۔ تاہم اس واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ملزم کی گرفتاری کے بعد مبینہ طور پر متاثرہ خاتون کو پیغام بھجوایا کہ وہ ملزم کے منہ پر اتنے ہی تھپڑ مار کر اپنا بدلہ پورا کر سکتی ہے، تاہم اطلاعات کے مطابق اُس نوجوان لڑکی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
صوبے کی چیف ایگزیکٹو کا قانونی منصب اور آئینی فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ریاست میں قانون کی بالادستی، شفاف تفتیش اور عدالتوں کے ذریعے ملزم کو سخت سزا دلوانے کو یقینی بنائے ؛ نہ کہ یہ کہ وہ متاثرہ فرد کو پولیس کے سامنے ”تھپڑ کا بدلہ تھپڑ“ سے لینے کا مشورہ دے۔
لاہور ہی میں پیٹرول پمپ پر ایک غریب مزدور کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تو پولیس ملزم کو گرفتار کر کے تھانے لے گئی۔ لیکن وہاں قانون کے تحت چالان درج کر کے عدالتی سزا دلوانے کے بجائے مبینہ طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت اور پولیس کی موجودگی و سرپرستی میں اسی مظلوم مزدور کے ہاتھوں ملزم کو تھانے کے اندر تھپڑ مروائے گئے اور اس کی ویڈیو بھی وائرل کی گئی۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبے کی اعلیٰ ترین قیادت اور قانون کے محافظ خود شفاف عدالتی عمل اور آئینی تقاضوں کے بجائے ”آن دی اسپاٹ“ بدلے اور سستی شہرت پر مبنی سزاؤں کو تسکین کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔ جب ریاست خود تھانوں کو عدالتی کٹہرا بنا کر تھپڑ مروائے گی اور ویڈیو وائرل کر کے داد وصول کرے گی، تو عوام کو یہ پیغام جائے گا کہ عدالتوں اور آئین کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ رویہ معاشرے کو انارکی، خانہ جنگی اور جنگل کے قانون کی طرف دھکیلے گا جہاں ہر شخص خود منصف بن کر دوسروں پر تشدد کو جائز سمجھنے لگے گا۔
لاہور کے ایک سکول میں جب کسی بچے نے کینٹین سے کھانے کی کوئی چیز چوری کی، تو استاد نے سرزنش کے طور پر شاید ایک تھپڑ مار دیا ہو۔ اس پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مبینہ طور پر احکامات جاری کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ استاد کا منہ جوتیاں مار مار کر لال پیلا کر دیا جائے۔ یہی نہیں بلکہ پولیس نے استاد کی ہتھکڑی لگی تصویر بھی وائرل کر دی۔
صوبے کے حکمران کی جانب سے جوتیاں مارنے اور منہ لال پیلا کرنے جیسے جذبات کا اظہار کوئی قابلِ تعریف و تقلید عمل نہیں۔ استاد جیسے منصب کی یہ بے توقیری اور تشدد پر مبنی زبان کا استعمال انتقامی ذہنیت کا ثبوت ہے، جو تعلیمی اداروں میں عفو و درگزر اور اصلاح کا خاتمہ کر کے معاشرے کو بدلے کی دلدل میں دھکیل دے گی۔
ملتان میں یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی کی ٹکر سے کچل کر قتل کرنے کے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ لیکن اس کے بعد ہونے والی کارروائی پر بھی قانون کی بالادستی کے بجائے عدم اعتماد کی جھلک نظر آئی۔ ملزم کی عدالت پیشی کے دوران اس پر تشدد کیا گیا اور بعد ازاں ملزم پولیس حراست سے مبینہ فرار کے دوران مقابلے میں مارا گیا۔
یہ حقیقت ہے کہ بدلہ کبھی انصاف کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ قانون اور انصاف کا مقصد معاشرے میں امن، سکون اور اصلاح کا قیام ہے، جبکہ بدلہ صرف انا کی تسکین اور انتقام کی آگ کو مزید بھڑکاتا ہے۔
لہو سے لہو کبھی صاف نہیں کیا جا سکتا؛ انتقام یا بدلے کا سلسلہ رکنے کی بجائے نسل در نسل پھیلتا چلا جاتا ہے۔ جب حکومت، ادارے اور معاشرہ خود اس بدلے کے رجحان کی حوصلہ افزائی کریں گے، تو یہ آگ پورے معاشرے کو راکھ کا ڈھیر بنا دے گی۔ بدلے کا یہ فروغ انسان کو چند لمحوں کی وقتی تسکین تو دے سکتا ہے، لیکن یہ پورے معاشرے کو تباہی کے دہانے پر دھکیل سکتا ہے۔
بشکریہ: ہم سب




