شرح سود بارہ فیصد، مگر عام آدمی کی زندگی کا حساب کون دے گا؟
ملک میں شرح سود بڑھ کر بارہ فیصد ہوگئی۔ فیصلہ کرنے والوں کے لیے یہ صرف آدھے فیصد کا اضافہ ہے۔ مگر عام آدمی پوچھ رہا ہے کہ پہلے ہی مشکل سے چلنے والی زندگی میں اب مزید آسانی کہاں سے آئے گی؟
یہ سوال کسی حکومت کی مخالفت نہیں۔ یہ اس مزدور کی آواز ہے جس کی اجرت محدود ہے۔ اس دکاندار کی پریشانی ہے جس کی دکان کا خرچ بڑھ رہا ہے۔ اس نوجوان کی بے چینی ہے جو نوکری کی تلاش میں اپنی جوانی گزار رہا ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ معیشت کو سنبھالنا ہے۔ مرکزی بنک کہتا ہے کہ مہنگائی کو قابو میں رکھنا ہے۔ دونوں باتیں اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن عوام کا سوال بھی کم اہم نہیں۔ معیشت سنبھالتے سنبھالتے کہیں عام آدمی ہی نہ ٹوٹ جائے۔
شرح سود بڑھانے کی وجہ سمجھنا مشکل نہیں۔ دنیا میں تیل مہنگا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے تجارت اور توانائی کے اخراجات بڑھا دئیے ہیں۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بیرونی منڈیوں پر انحصار کرتا ہے۔ وہاں قیمت بڑھتی ہے تو یہاں اس کا اثر محسوس ہوتا ہے۔ مرکزی بینک کا خیال ہے کہ مہنگائی کے خطرے کو ابھی سے روکنا ضروری ہے۔ اس دلیل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ مہنگائی بھی ایک خاموش ظلم ہے۔ یہ کسی کے دروازے پر دستک نہیں دیتی۔ سیدھی باورچی خانے میں داخل ہوتی ہے۔ آٹے کا تھیلا مہنگا ہوتا ہے۔ دودھ کم خریدا جاتا ہے۔ بچوں کی خواہشیں مؤخر ہوتی ہیں۔ گھر کا بجٹ ہر مہینے نئے سرے سے بنتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ مہنگائی روکنے کے لیے قرض مہنگا کرنا ہی کافی ہے؟ اور اگر قرض مہنگا ہوگا تو کاروبار کیسے بڑھے گا؟ایک چھوٹا صنعت کار نئی مشین خریدنا چاہتا ہے۔ اسے قرض درکار ہے۔ ایک نوجوان ورکشاپ کھولنا چاہتا ہے۔ اسے سرمایہ چاہیے۔ ایک خاتون گھر سے چھوٹا کاروبار شروع کرنا چاہتی ہے۔ اسے مالی مدد کی ضرورت ہے۔ جب قرض کی لاگت بڑھتی ہے تو ان میں سے کئی لوگ اپنے منصوبے مؤخر کر سکتے ہیں۔ نئی مشین نہیں آئے گی تو پیداوار بڑھانا مشکل ہوگا۔ کاروبار نہیں پھیلے گا تو نئی ملازمتوں کے مواقع بھی محدود رہ سکتے ہیں۔ یہ کوئی لازمی نتیجہ نہیں، مگر ایک حقیقی خطرہ ضرور ہے۔ ہماری معیشت کی سب سے بڑی ضرورت صرف پیسے کا حساب درست کرنا نہیں، لوگوں کو کام دینا بھی ہے۔
ذرا ایک نوجوان کی زندگی دیکھئے۔ باپ نے اپنی ضرورتیں کم کرکے اسے پڑھایا۔ ماں نے بچوں کے حصے کی خوشیاں بچا کر فیس ادا کی۔ نوجوان نے ڈگری حاصل کی۔ گھر میں امید پیدا ہوئی کہ اب حالات بدلیں گے۔ پھر نوکری کی تلاش شروع ہوئی۔ ایک دفتر سے دوسرے دفتر۔ ایک درخواست کے بعد دوسری درخواست۔ کبھی تجربہ مانگا گیا، کبھی سفارش کی ضرورت محسوس ہوئی، کبھی آسامی ہی نہ نکلی۔ آخر وہ سوچتا ہے کہ اپنا کاروبار شروع کر لے۔ لیکن کاروبار کے لیے سرمایہ کہاں سے آئے؟
یہاں قرض کی بات سامنے آتی ہے۔ بنک کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے۔ کاغذات مانگے جاتے ہیں۔ ضمانت کا سوال آتا ہے۔ پھر قرض کی لاگت سامنے آتی ہے۔ نوجوان حساب لگاتا ہے اور خاموش ہو جاتا ہے۔ جس عمر میں اسے اپنا مستقبل بنانا تھا، وہ اسی عمر میں اپنے خوابوں کی قیمت گن رہا ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک نوجوان کی کہانی نہیں۔ ایسے بے شمار گھر ہیں جہاں تعلیم مکمل ہونے کے بعد بھی معاشی بے یقینی ختم نہیں ہوتی۔ حکومت کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ روزگار کے بغیر معاشی بہتری کا احساس ادھورا رہتا ہے۔ ملک کا خزانہ مضبوط ہو، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوں، قرضوں کی ادائیگی کا انتظام ہو، یہ سب ضروری ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ گھر میں چولہا جلے، نوجوان کو کام ملے اور چھوٹا کاروبار زندہ رہے۔
معیشت صرف بنکوں میں نہیں ہوتی۔ معیشت بازار، کھیت، کارخانے اور گھروں میں بھی سانس لیتی ہے۔ ایک دکاندار صبح دکان کھولتا ہے تو اسے معاشی رپورٹ نہیں، گاہک چاہیے۔ ایک کسان کھیت میں بیج ڈالتا ہے تو اسے تقریر نہیں، مناسب قیمت چاہیے۔ ایک مزدور دن بھر محنت کرتا ہے تو اسے اعداد و شمار نہیں، پوری اجرت چاہیے۔ اور ایک ماں کو اپنے بچوں کے لیے روٹی، تعلیم اور علاج چاہیے۔ یہ خواہشیں بہت بڑی نہیں۔ یہ زندگی کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔
اس لیے شرحِ سود کے فیصلے کے ساتھ حکومت کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔ مرکزی بنک کا کام قیمتوں کے استحکام پر توجہ دینا ہے۔ حکومت کا کام ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن میں کاروبار بڑھے، پیداوار بہتر ہو اور عوام کی مشکلات کم ہوں۔ اگر تمام امید صرف شرحِ سود کے فیصلے سے باندھ لی جائے تو یہ مسئلے کا ادھورا حل ہوگا۔
مہنگائی کی کئی وجوہ ہوتی ہیں۔
کبھی عالمی منڈی میں قیمت بڑھتی ہے۔ کبھی سامان کی رسد متاثر ہوتی ہے۔ کبھی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ کبھی بجلی اور نقل و حمل کے اخراجات کاروبار کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ ان مسائل کا حل صرف قرض مہنگا کرنے سے نہیں نکلتا۔ حکومت کو بازار کی نگرانی بہتر بنانا ہوگی۔ ضروری اشیا کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کرنے ہوں گے۔ کاروبار کے راستے میں کھڑی رکاوٹیں دور کرنا ہوں گی۔
یہ کام مشکل ضرور ہیں، مگر ناممکن نہیں۔
ایک اور سوال بھی اہم ہے۔ جب عوام سے کہا جاتا ہے کہ ملک مشکل معاشی حالات سے گزر رہا ہے، تو کیا سرکاری نظام میں بھی اسی کے مطابق سادگی نظر آتی ہے؟ عام آدمی اپنے اخراجات کم کرتا ہے۔ گھر میں بجلی بچاتا ہے۔ بچوں کی غیر ضروری خواہشیں پوری نہیں کر پاتا۔ کبھی علاج مؤخر کرتا ہے، کبھی کپڑے خریدنے کا ارادہ بدل دیتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ حکومتی اخراجات میں بھی احتیاط نظر آئے۔ یہ مطالبہ غلط نہیں۔ قربانی کا سبق تب اثر کرتا ہے جب ذمہ دار لوگ خود بھی اس پر عمل کرتے دکھائی دیں۔
ہمیں ٹیکس بھی چاہیے، مگر انصاف کے ساتھ۔ ہمیں قرضوں کا انتظام بھی چاہیے، مگر روزگار کی فکر کے ساتھ۔ ہمیں معاشی استحکام بھی چاہیے، مگر عام آدمی کی زندگی کو نظرانداز کیے بغیر۔
یہاں اپوزیشن کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ صرف حکومت پر تنقید کرنا آسان ہے۔ ہر معاشی فیصلے کو غلط کہنا بھی آسان ہے۔ لیکن عوام کو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ متبادل کیا ہے۔ اگر شرحِ سود بڑھانا مناسب نہیں تو مہنگائی کو قابو میں رکھنے کا دوسرا راستہ کیا ہوگا؟
اگر سرکاری اخراجات کم کرنے ہیں تو کن اخراجات سے آغاز کیا جائے؟ اگر روزگار بڑھانا ہے تو سرمایہ کہاں سے آئے گا؟
عوام کو سیاسی مقابلے سے انکار نہیں۔ لیکن وہ ایسا مقابلہ چاہتے ہیں جس میں مسائل کے حل کی بات ہو۔ حکومت اپنی کارکردگی بتائے۔ اپوزیشن اس کی جانچ کرے۔ ماہرین اپنی رائے دیں۔ اور عوام کو سچ بتایا جائے۔ یہی جمہوری ذمہ داری ہے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ کاروباری طبقے کی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔ ہر اضافی خرچ فوراً خریدار پر ڈال دینا آسان راستہ ہے۔ لیکن کاروبار میں شفافیت، مناسب منافع اور ملازمین کے حقوق کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح قرض لینے والے کو بھی ذمہ داری سے منصوبہ بنانا چاہیے۔ ہر کاروبار صرف قرض مل جانے سے کامیاب نہیں ہوتا۔ تربیت، بازار تک رسائی اور درست رہنمائی بھی درکار ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ چھوٹے کاروباروں کے لیے مالی سہولتوں کا واضح اور آسان نظام بنائے۔ ایسا نظام جس میں نوجوان کو قرض لینے کے لیے سفارش نہ ڈھونڈنی پڑے۔ درخواست کا جواب مقررہ وقت میں ملے۔ شرائط عام زبان میں سمجھائی جائیں اور قرض کے ساتھ کاروبار چلانے کی تربیت بھی فراہم کی جائے۔ ہر ضلع میں مقامی صنعت اور کاروبار کی ضرورت کے مطابق ہنر سکھائے جائیں۔
کسی علاقے میں زراعت کے مواقع ہیں تو وہاں زرعی تربیت ہو۔ کہیں دستکاری ہے تو اسے منڈی سے جوڑا جائے۔ کہیں صنعت ہے تو نوجوانوں کو اس کے مطابق تیار کیا جائے۔ صرف سرٹیفکیٹ بانٹنے سے روزگار پیدا نہیں ہوتا۔ ہنر تب فائدہ دیتا ہے جب اس سے روزی کمانے کا راستہ بھی کھلے۔
ہمارے ملک میں خواتین کی بڑی تعداد بھی معاشی مواقع کی منتظر ہے۔ کئی خواتین گھر سے کام کرنا چاہتی ہیں۔ کوئی سلائی جانتی ہے، کوئی کھانے کی اشیا تیار کرتی ہے، کوئی تعلیم یافتہ ہے اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کر سکتی ہے۔ انہیں محفوظ مواقع، تربیت اور بازار تک رسائی دی جائے تو خاندانوں کی آمدنی بہتر ہو سکتی ہے۔
معاشی ترقی کا فائدہ صرف چند بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ چھوٹے شہروں اور دیہات میں بھی کاروبار کے مواقع پیدا ہوں۔ کیونکہ پاکستان صرف بڑے بازاروں کا نام نہیں۔ یہ ان بستیوں کا بھی ملک ہے جہاں نوجوان کام کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑ دیتے ہیں۔ ان ماؤں کا بھی ملک ہے جو بیٹوں کو روزگار کے لیے دوسرے شہروں بھیجتے ہوئے آنسو چھپاتی ہیں۔ ان باپوں کا بھی ملک ہے جو بڑھاپے میں اس امید پر محنت کرتے رہتے ہیں کہ شاید بچوں کا مستقبل بہتر ہو جائے اور ان مزدوروں کا بھی ملک ہے جن کے ہاتھوں کی محنت سے عمارتیں کھڑی ہوتی ہیں، مگر اپنے گھر کی چھت کی فکر ختم نہیں ہوتی۔
یہ لوگ معاشی فیصلوں کے خاموش تماشائی نہیں۔ یہی معیشت کی اصل بنیاد ہیں۔
آج شرحِ سود بارہ فیصد ہوئی ہے۔ کل حالات بہتر ہوئے تو اس میں کمی بھی ہو سکتی ہے۔ معاشی فیصلے وقت اور حالات کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن ایک بات نہیں بدلنی چاہیے۔ ہر معاشی فیصلے کے مرکز میں عوام کی زندگی ہونی چاہیے۔ مہنگائی کم ہو مگر روزگار ختم نہ ہو۔ کاروبار بڑھے مگر عام شہری پر ناجائز بوجھ نہ پڑے۔ سرکاری خزانہ مضبوط ہو مگر غریب کا گھر کمزور نہ ہو۔ یہ توازن پیدا کرنا آسان نہیں، لیکن اسی کے لیے حکومتیں بنتی ہیں، ادارے کام کرتے ہیں اور معاشی پالیسیاں تیار ہوتی ہیں۔ ہمیں فوری معجزے نہیں چاہیں۔ ہمیں درست سمت چاہیے۔
ایسی سمت جس میں نوجوان کو امید ملے۔ دکاندار کو کاروبار کا اعتماد ہو۔ کسان کو محنت کا پھل ملے۔ مزدور کو مناسب اجرت ملے اور تنخواہ دار شخص کو ہر مہینے قرض لے کر گھر نہ چلانا پڑے۔ اگر مہنگائی کے خلاف فیصلہ کیا گیا ہے تو اس کے ساتھ عوام کو یہ بھی بتایا جائے کہ روزگار اور چھوٹے کاروبار کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات ہوں گے۔ یہی جواب دہی ہے۔ یہی ذمہ داری ہے۔ اور یہی معاشی پالیسی کو عوام کے قریب لانے کا راستہ ہے۔
پاکستان کے عوام نے بہت مشکل وقت دیکھا ہے۔ انہوں نے مہنگائی برداشت کی، بے روزگاری دیکھی، کاروبار بند ہوتے دیکھے اور اپنے بچوں کے خوابوں کو انتظار میں بدلتے دیکھا۔ اب انہیں صرف صبر کا مشورہ نہیں چاہیے۔ انہیں ایسے فیصلے چاہیں جن سے زندگی میں آسانی پیدا ہو۔ کیونکہ صبر بھی اسی گھر میں آسان ہوتا ہے جہاں شام کو چولہا جلتا ہو۔ اس لیے حکومت، اپوزیشن، مرکزی بنک اور کاروباری اداروں کو ایک بنیادی حقیقت یاد رکھنی چاہیے۔ معیشت انسان کے لیے ہے، انسان معیشت کے لیے نہیں۔ اگر مہنگائی کم کرنے کی کوشش میں کاروبار دبنے لگیں، نوجوان کے لیے راستے محدود ہو جائیں اور محنت کش کی مشکلات بڑھتی رہیں تو پالیسی کے دوسرے پہلوؤں پر بھی غور کرنا ہوگا۔ اور اگر سخت فیصلوں سے واقعی استحکام پیدا ہوتا ہے تو اس کا فائدہ بھی عوام تک پہنچنا چاہیے۔
آخر ایک عام پاکستانی کی خواہش کیا ہے؟ وہ چاہتا ہے کہ اس کے بچوں کی تعلیم نہ رکے۔ بیمار ماں کا علاج ہو سکے۔ گھر کا کرایہ ادا ہو جائے اور مہینے کے آخر میں اسے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ اسے شرحِ سود کی پیچیدہ بحث نہیں چاہیے۔ اسے اپنے گھر کے مستقبل کا یقین چاہیے۔ قرض مہنگا ہو یا سستا، اصل سوال یہ ہے کہ محنت کرنے والے کی زندگی کب آسان ہوگی؟ کیونکہ جس معیشت میں اعداد سنبھل جائیں مگر انسان ٹوٹتا رہے، وہاں کامیابی کا اعلان نہیں، ترجیحات کا دوبارہ جائزہ ضروری ہے۔
بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت




