سست عدالتی نظام کا دوراہا

شیئر کریں

کبھی کبھی معاشرہ دو ایسی تلخ حقیقتوں کے درمیان پھنس جاتا ہے جن میں سے کسی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طرف وہ متاثرین ہوتے ہیں جن کی زندگیاں مبینہ ظلم، دھوکے اور استحصال نے تباہ کر دی گئی ہوتی ہیں۔ دوسری طرف ایسا عدالتی نظام ہوتا ہے جو بعض اوقات اتنی سست رفتاری سے چلتا ہے کہ متاثرہ خاندان انصاف کی امید کھونے لگتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان ایک خطرناک راستہ نکلتا ہے کہ ملزم کی موت کو انصاف سمجھ کر خوشی منانا۔

ملتان کے پندرہ سالہ یتیم بچے وسیم عباس کی المناک موت اور امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والی طالبہ لائبہ اعجاز کے ساتھ مبینہ مالی فراڈ نے لوگوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ لیکن ان مقدمات کے مرکزی ملزمان کی بعد ازاں ہونے والی اموات نے ایک اور اہم سوال پیدا کیا ہے کہ کیا ہم عدالتوں کے ذریعے انصاف چاہتے ہیں یا ایسا نظام قبول کر رہے ہیں جس میں ملزمان اپنے مقدمات کا سامنا کرنے سے پہلے ہی مر جائیں؟

وسیم عباس کی عمر صرف پندرہ برس تھی جسے سی سی ٹی وی فوٹیج میں ٹھیکیدار توقیر نذیر کی گاڑی کو اس کا تعاقب کرتے اور اسے ٹکر مارتے دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں اسے جان لیوا چوٹیں آئیں۔ 21 اکتوبر 2026 کو پولیس نے بتایا کہ توقیر نذیر بہاولپور کے قریب پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مبینہ مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق، وہ حراست سے فرار ہو گیا تھا۔ یہ پولیس کا بیان ہے، جس کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

دوسرا واقعہ ذہین طالبہ لائبہ اعجاز کا ہے، جو امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھتی تھی۔ اطلاعات کے مطابق، ایک ایجنٹ نے جعلی داخلہ اور سفری دستاویزات کے ذریعے اس کے خاندان سے تقریباً پچاس لاکھ روپے ہتھیا لیے۔ مالی تباہی اور شدید ذہنی اذیت کے بعد لائبہ کی موت کی خبر سامنے آئی، جسے مبینہ خودکشی قرار دیا گیا۔ 20 اور 21 اکتوبر کی خبروں کے مطابق، نعمان نامی مرکزی ملزم اسلام آباد میں اپنے مبینہ ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔ یہ اطلاع اس دعوے سے مختلف ہے کہ اسے پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

یہ جرائم جواب دہی کا تقاضا کرتے ہیں۔ اگر ان مقدمات میں لگائے گئے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ان میں بیان کیے گئے افعال انتہائی ظالمانہ ہیں اور قانون کے مطابق سنگین نتائج کے مستحق ہیں۔ کسی بچے کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانا، اگر ثابت ہو جائے، ناقابلِ دفاع ہے۔ اسی طرح جعلی تعلیمی داخلوں اور ویزا دستاویزات کے ذریعے کسی خاندان کی جمع پونجی ہتھیانا اعتماد کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

وسیم کو زندگی گزارنے، ہنر سیکھنے اور اپنا مستقبل بنانے کا موقع ملنا چاہیے تھا۔ لائبہ کو دھوکے کے بغیر تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کا حق حاصل تھا۔

لیکن غصے میں ہمیں وہ اصول ترک نہیں کرنے چاہئیں جو متاثرین اور بے گناہ شہریوں، دونوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ خوفناک جرم کے الزام کا سامنا کرنے والے شخص کو بھی منصفانہ عدالتی کارروائی کا حق حاصل ہے۔ جب پولیس یہ اعلان کرتی ہے کہ کوئی ملزم حراست سے فرار ہونے یا فائرنگ کے تبادلے کے بعد مارا گیا ہے تو عوام کو محض ایک مختصر سرکاری بیان پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ قابلِ اعتماد شواہد، آزادانہ تحقیقات اور حقائق کو جانچنے کا شفاف عمل ضروری ہے۔

اگر عملی طور پر پولیس یہ طے کرنے لگے کہ ملزم کو مقدمہ چلانے کے بجائے مر جانا چاہیے تو پھر غلطی کی صورت میں کیا ہو گا؟ اگر کسی بے گناہ کو غلط طور پر ملزم بنا دیا جائے تو اس کے تحفظ کی ضمانت کون دے گا؟ اگر کوئی با اثر شخص پولیس کو اپنے مخالف کے خلاف استعمال کرے تو عام شہری کہاں جائے گا؟ یہ سوالات مجرموں کے لیے بہانے نہیں ہیں۔ یہ ریاستی طاقت کی حدود سے متعلق سوالات ہیں۔ پولیس کی ذمہ داری قانون نافذ کرنا، شہریوں کی جان بچانا، ملزمان کو گرفتار کرنا، شواہد محفوظ رکھنا اور مقدمات عدالتوں میں پیش کرنا ہے۔

سست عدالتی نظام بھی اس زوال پذیر سسٹم کی شناخت ہے جس میں عدالت کے ساتھ وکلاء اور پولیس کا کردار بھی زیر بحث لانا ضروری ہے۔ تاہم عوام کی مایوسی کو بھی نظرانداز کرنا نا انصافی ہو گی۔ بہت سے لوگ برسوں تک انصاف کے انتظار میں رہتے ہیں۔ مقدمات ملتوی ہوتے رہتے ہیں، گواہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں، شواہد کمزور پڑ جاتے ہیں۔ با اثر ملزمان بعض اوقات اپنے وسائل کے ذریعے کارروائی میں تاخیر پیدا کرتے ہیں۔ پولیس بھی ناقص مقدمات، ناکافی تفشیس کے ذریعے ملزمان کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ملک میں کوئی ایسا شفاف اور لائق بھرہسہ نظام نظر نہیں آتا جہاں ناقص یا ناکافی تفتیش کی وجہ سے ملزمان بری ہو گئے ہوں اور متعلقہ پولیس ایلکارون کے خلاف مثالی محکمہ جاتی تادیبی کارروائی کی گئی ہو۔

متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ صورت حال ناقابلِ برداشت ہو سکتی ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ملزم آزاد گھوم رہا ہے جبکہ ان کی زندگی غم میں گزر رہی ہے۔ جب لوگوں کا عدالتوں پر اعتماد ختم ہونے لگتا ہے تو ماورائے عدالت ہلاکت انہیں فوری سزا کا راستہ دکھائی دے سکتی ہے۔ یہی وہ دوراہا ہے جس میں ہم پھنسے ہوئے ہیں کہ انصاف میں تاخیر سے اعتماد ختم ہوتا ہے، لیکن عدالتی عمل کے باہر ہلاکتوں کو قبول کرنا انہی اداروں کو کمزور کرتا ہے جنہیں مستقل انصاف فراہم کرنا چاہیے۔

حل یہ نہیں کہ ہم کسی ایک انتہا کو درست قرار دے دیں۔ نہ لامتناہی تاخیر اور مجرموں کی جواب دہی سے فرار قبول کیا جا سکتا ہے، نہ ہی عدالتی فیصلے کے متبادل کے طور پر موت کو تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ جو ملزم مارا جائے، اس سے کھلی عدالت میں سوالات نہیں کیے جا سکتے، وکیل اس کے خلاف شواہد اور گواہیوں کو قانونی طریقے سے نہیں پرکھ سکتا، اور عدالت وجوہات پر مبنی فیصلہ نہیں دے سکتی۔ ممکنہ ساتھیوں، مالی لین دین اور ادارہ جاتی ناکامیوں کے کئی پہلو بھی پوشیدہ رہ سکتے ہیں۔ متاثرہ خاندان شاید کبھی پوری حقیقت جان ہی نہ سکے۔

لہذا ایسے عدالتی نظام کی ضرورت ہے جو دیانت داری کے ساتھ تیزی سے کام کرے۔ تفتیش پیشہ ورانہ انداز میں ہو، فرانزک شواہد محفوظ کیے جائیں، گواہوں کو تحفظ ملے اور استغاثہ کو مناسب وسائل فراہم کیے جائیں۔ عدالتوں کے پاس اتنے وسائل ہونے چاہئیں کہ سنگین مقدمات غیر ضروری التوا کے بغیر سنے جا سکیں۔ ناقص یا ناکافی تفشیس کی صورت میں عدالت کو متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی فیصلہ دینے کا اجتیار ہونا چاہیے کیونکہ اس کا امکان بہت کم ہے کہ ایسے اہکاروں کے خلاف محکمہ جاتی موثر اور بروقت کارروائی ہو گی۔

بیرونِ ملک داخلوں اور ویزوں کے نام پر ہونے والے فراڈ کے خلاف بھی منظم کارروائی ضروری ہے۔ رقم کا سراغ لگایا جائے، ساتھیوں کی نشاندہی کی جائے، جعلی دستاویزات کی جانچ ہو اور طلبہ کے لیے یونیورسٹیوں سے براہِ راست داخلے کی تصدیق کے آسان طریقے فراہم کیے جائیں۔ فراڈ کے شکار خاندانوں کو عملی رہنمائی اور قانونی چارہ جوئی کے مواقع ملنے چاہئیں۔

اسی طرح بچوں کے تحفظ کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ کمزور بچے استحصال کرنے والے بالغ افراد کے رحم و کرم پر نہ رہیں۔ ہنر سیکھنے والے ہر بچے کے لیے محفوظ ماحول، بدسلوکی کی شکایت کا راستہ اور ذمہ دار سرپرستوں یا متعلقہ اداروں تک رسائی ہونی چاہیے۔

انصاف غریب اور امیر دونوں کے لیے یکساں قابلِ رسائی ہونا چاہیے۔ ورنہ عوام کا اعتماد مزید کم ہوتا جائے گا۔

معاشرے کو بھی لمحاتی غصے سے آگے سوچنا ہو گا۔ جب کسی بچے کو قتل کر دیا جائے یا کسی طالب علم کا مستقبل دھوکے سے تباہ ہو جائے تو غصہ آنا فطری ہے۔ ملزمان کو سزا ملنے کی خواہش بھی قابلِ فہم ہے۔ لیکن ایسا نظام قبول کرنا جو مناسب عدالتی کارروائی کے بغیر ملزمان کو مار سکتا ہو، دراصل ایسی طاقت کو قبول کرنا ہے جو کسی دن کسی کے خلاف بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ آج نشانہ ایسا شخص ہو سکتا ہے جسے عوام مجرم سمجھتے ہوں۔ کل کوئی بے گناہ، مخالف، گواہ یا عام شہری بھی اس کی زد میں آ سکتا ہے۔

انصاف کا امتحان یہ نہیں کہ عوام ایک دن کے لیے مطمئن ہو جائیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ حقیقت سامنے آئے، ذمہ داری ثبوتوں سے ثابت ہو، قانون سب پر یکساں لاگو ہو اور مستقبل کے متاثرین کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

ہمیں ظلم کو مسترد کرنا ہے، مگر اپنی انسانیت کو قربان کیے بغیر۔ ہمیں سزا کا مطالبہ کرنا ہے، مگر قانونی طریقۂ کار کو ترک کیے بغیر۔ اور ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ ریاست بھی قانون کی پابند ہو، چاہے ملزم عوام میں کتنا ہی ناپسندیدہ کیوں نہ ہو۔


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے