کیا پولیس عدالتوں سے بہتر اور فوری انصاف فراہم کرسکتی ہے؟

شیئر کریں

سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں نے ملک میں فوری انصاف اور قانون کی بالادستی سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عوام کا ایک حلقہ ایسے واقعات کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی قرار دیتا ہے، جبکہ وکلا، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کسی ملزم کی ہلاکت کو عدالتی فیصلے کا متبادل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پولیس کا کام ملزم کو گرفتار کرنا، شواہد جمع کرنا اور اسے عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے، جرم ثابت ہونے اور سزا دینے کا اختیار عدالت کے پاس ہے۔

ملتان میں کم عمر وسیم عباس کی گاڑی تلے کچلے جانے سے موت اور اسلام آباد کی طالبہ لائبہ اعجاز کے مقدمے نے پہلے ہی عوام میں غم و غصہ پیدا کر رکھا تھا۔ ان مقدمات کے ملزمان کی پولیس کارروائیوں میں ہلاکت کے بعد بحث کا رخ اس سوال کی طرف مڑ گیا کہ اگر ملزم عدالت میں پیش ہونے سے پہلے ہی ہلاک ہوجائے تو پھر مکمل تفتیش، شواہد کی جانچ اور قانونی کارروائی کیسے آگے بڑھے گی؟

ملتان واقعے کے ملزم توقیر نذیر کی ہلاکت پر کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پولیس نے موقف اختیار کیا کہ ملزم پولیس تحویل سے فرار ہوا اور بعدازاں بہاولپور میں مبینہ مقابلے کے دوران ہلاک ہوگیا۔

اسلام آباد پولیس نے بھی ملزم محمد نعمان کی ہلاکت کے بارے میں بتایا کہ اسے لے جانے والی پولیس پارٹی پر مبینہ طور پر اس کے ساتھیوں نے فائرنگ کی، جس کے دوران وہ اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے زخمی ہوکر دم توڑ گیا۔ ان واقعات کی اصل صورت حال اور پولیس کے مؤقف کی تصدیق کے لیے شفاف تحقیقات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

بچوں اور خواتین کے خلاف سنگین جرائم کی خبریں سامنے آنے پر عوامی غصہ فطری ہے اور ریاست سے فوری کارروائی کا مطالبہ بھی جائز ہے۔ ان واقعات پر عوامی ردعمل دو مختلف زاویوں سے سامنے آیا ہے۔ ایک طبقے کا کہنا ہے کہ سنگین جرائم کرنے والوں کو فوری اور سخت سزا ملنی چاہیے، کیونکہ طویل عدالتی کارروائیوں اور نظام کی کمزوریوں کے باعث متاثرہ خاندان انصاف کے لیے برسوں انتظار کرتے ہیں۔

تاہم دوسرے حلقے کا سوال ہے کہ اگر کسی ملزم کی ہلاکت کو انصاف قرار دے دیا جائے تو پھر عدالتوں، تفتیش اور قانونی کارروائی کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ وکلا اور صحافیوں نے حالیہ واقعات پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کے خلاف شواہد موجود ہوں تب بھی اسے عدالت میں پیش کر کے قانون کے مطابق سزا دلوانا ضروری ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا کہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کو معمول سمجھ لیا گیا تو قانون کی بالادستی مزید کمزور ہوسکتی ہے۔

اگر فیصلہ پولیس مقابلے میں گولی کرے گی تو قانون اور عدالتوں پر عوام کا اعتماد مزید کمزور ہونے کا خطرہ رہے گا۔ لیکن اگر پولیس مجرم کو گرفتار کرے، عدالت شواہد کی بنیاد پر  جلد فیصلہ دے اور سزا پر قانون کے مطابق عمل ہو تو یہی انصاف کی اصل صورت ہے۔ ہمارے نظام انصاف کئ طوالت اور تاخیر سے ملک میں رائج نظام انصاف سے عوامی مایوسی نوشتہ دیوار ہے۔

یہاں بنیادی سوال کسی ملزم سے ہمدردی کا نہیں، بلکہ اس اصول کا ہے کہ ریاست قانون کے مطابق کام کرے۔ آج اگر کسی ایسے شخص کی ہلاکت پر خوشی منائی جاتی ہے جس پر سنگین جرم کا الزام ہے تو کل کسی بے گناہ شخص کے ساتھ بھی ایسا ہونے کی صورت میں انصاف کی ضمانت کون دے گا؟

وسیم عباس اور لائبہ اعجاز جیسے واقعات کے متاثرین اور ان کے خاندانوں کو انصاف ملنا چاہیے۔ ان کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتیوں کی مکمل تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی اور عدالت سے سزا دلوانا ریاست کا فرض ہے۔ لیکن کسی ملزم کی ہلاکت سے عوامی غصہ وقتی طور پر کم ہونے کے باوجود یہ ضروری نہیں کہ اصل جرم کے تمام پہلو بھی سامنے آگئے ہوں۔ ممکنہ ساتھیوں، مالی معاملات، دیگر متاثرین اور متعلقہ شواہد کی تحقیقات بھی اہم رہتی ہیں۔ اسے بھی خارج از امکان نہیں کہا جا سکتا کہ یہ جرائم سیاسی قیادت میں موجود مجرمانہ ذہنیت اور پولیس کی سرپرستی میں فروغ پا رہے ہوں۔ ایسا صرف پاکستان نہیں دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ہوتا ہے۔

کیا پولیس کو جان لینے کا اختیار ہے؟ اس سوال کا جواب واضح ہے کہ پولیس کو کسی شخص کو محض الزام یا شبہے کی بنیاد پر ہلاک کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ پولیس کو جرائم کی روک تھام، گرفتاری، تفتیش اور قانون کے مطابق طاقت استعمال کرنے کے اختیارات حاصل ہیں، لیکن یہ اختیارات غیر محدود نہیں۔ اگر کسی کارروائی کے دوران کسی کی جان کو فوری خطرہ لاحق ہو تو ضروری اور قانونی حدود میں طاقت استعمال کرنے کا معاملہ الگ ہے۔ اس کے برعکس کسی گرفتار ملزم کی ہلاکت، یا کسی مبینہ مقابلے میں پیش آنے والی موت، خودبخود قانونی کارروائی ثابت نہیں ہوجاتی۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسے واقعات میں پولیس کے بیان کو حتمی حقیقت ماننے کے بجائے شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کی جائیں۔ جائے وقوعہ کا معائنہ، فرانزک شواہد، گولیوں کے خول، زخمیوں اور عینی شاہدین کے بیانات، دستیاب ویڈیو ریکارڈنگ اور پولیس کارروائی کی تفصیلات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔ اگر قانون کی خلاف ورزی سامنے آئے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہیے۔

فروری 2026 میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں سی سی ڈی کی کارروائیوں کے بارے میں اپنی رپورٹ میں 2025 کے آٹھ ماہ کے دوران کم از کم 670 مبینہ پولیس مقابلوں اور 924 مشتبہ افراد کی ہلاکتوں کا ذکر کیا تھا۔ کمیشن نے ان واقعات کی اعلیٰ سطح پر عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ یہ اعدادوشمار کمیشن کی رپورٹ میں درج ہیں؛ انہیں عدالت سے ثابت شدہ جعلی مقابلوں کی تعداد سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

دوسری جانب متعلقہ محکمے نے کمیشن کے الزامات کو مسترد کیا تھا۔ اس اختلاف کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی آزادانہ جانچ کی ضرورت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

پولیس مقابلوں کا حل کیا ہے؟ اس مسئلے کا حل پولیس کو کمزور کرنا نہیں، بلکہ اسے مؤثر، پیشہ ور اور جوابدہ بنانا ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، لیکن کارروائی کی کامیابی کا پیمانہ ملزمان کی ہلاکتیں نہیں بلکہ جرائم میں کمی، شواہد پر مبنی تفتیش، کامیاب استغاثہ اور قانون کے مطابق سزائیں ہونا چاہیے۔

سب سے پہلے، پولیس مقابلے میں ہونے والی ہر مشتبہ ہلاکت کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مؤثر نظام قائم ہونا چاہیے۔ اگر کسی ملزم کی پولیس تحویل سے فرار ہونے کی اطلاع دی جائے تو اس کی بھی الگ سے جانچ ہونی چاہیے کہ حراست اور نگرانی میں غفلت کہاں ہوئی۔ اسی طرح اگر پولیس پر حملے یا فائرنگ کا دعویٰ کیا جائے تو اس دعوے کی تصدیق شواہد کے ذریعے کی جانی چاہیے۔

دوسرا، گرفتار افراد کو قانون کے مطابق عدالت میں پیش کرنے، حراست کا مکمل ریکارڈ رکھنے اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ کسی شخص کو غیر قانونی حراست میں رکھنا یا اسے قانونی کارروائی سے محروم کرنا قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔

تیسرا، پولیس تفتیش اور استغاثہ کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ سنگین جرائم کے ملزمان کے خلاف مضبوط مقدمات تیار ہوں۔ اگر مقدمات کمزور تفتیش، ناقص شواہد یا استغاثہ کی خامیوں کے باعث ناکام ہوتے ہیں تو ان وجوہات کو دور کیا جائے۔ عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد بحال کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

چوتھا، اگر کسی پولیس اہلکار کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد ملیں تو اس کا احتساب بھی قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزت اور ساکھ اسی وقت مضبوط ہوگی جب عوام کو یقین ہو کہ پولیس نہ صرف جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کرتی ہے بلکہ خود بھی قانون کی پابند ہے۔

ریاست کی ذمہ داری صرف مجرم کو سزا دینا نہیں، بلکہ یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ بے گناہ کو سزا نہ ملے اور کسی شخص کو قانون سے بالاتر ہوکر نقصان نہ پہنچایا جاسکے۔

پولیس کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کا پورا اختیار ہونا چاہیے، لیکن اس اختیار کے ساتھ جوابدہی بھی لازم ہے۔ عدالتوں کو بروقت انصاف فراہم کرنا ہوگا اور تفتیشی اداروں کو شواہد کی بنیاد پر مقدمات ثابت کرنے ہوں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے نظام انصاف پر عوام کا اعتماد بحال اور جرائم کے خلاف ریاستی کارروائی مضبوط ہو سکتی ہے۔


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے