پاکستان کی سیاسی تاریخ میں وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی کشمکش کوئی نئی بات نہیں اور یہ ایک المیہ رہا ہے۔ مختلف ادوار میں سیاسی اختلافات، امن و امان کی صورتِ حال، حکومتوں کے درمیان عدم اعتماد اور آئینی بحرانوں نے ملک کے جمہوری نظام کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ قوم کو مارشل لا جیسے اقدامات کا متعدد بار سامنا کرنا پڑا۔
11 اکتوبر کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیے جانے کا اعلان ایک اہم سیاسی پیش رفت ہے۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کے لیے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور صوبائی حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات پر تحفظات کو بنیاد بنایا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے اس فیصلے کو اپنے انتخابی مینڈیٹ، جمہوری اختیار اور لانگ مارچ کے خلاف قرار دیا ہے۔ یہ معاملہ محض انتظامی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ آئینی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور عوامی نمائندگی کے ساتھ بھی منسلک ہے۔ میثاق جمہوریت کرنے والی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے آج مل کر خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا ہے۔
گورنر راج ایسی غیر معمولی آئینی صورتِ حال ہوتی ہے جس میں صوبائی حکومت کے تمام انتظامی اختیارات گورنر کے ذریعے استعمال کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کے آئین میں اس حوالے سے بنیادی طور پر آرٹیکل 234 اہمیت رکھتا ہے، جبکہ ایمرجنسی کے متعلق آرٹیکل 232 بھی موجودہ صورتِ حال میں زیرِ بحث ہے۔
جہموریت میں صوبے کا انتظامی اختیار منتخب وزیر اعلیٰ اور اس کی کابینہ کے پاس ہوتا ہے۔ صوبائی اسمبلی قانون سازی کرتی ہے اور صوبائی حکومت عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے چلائی جاتی ہے جو کہ عوام کے ووٹ سے آتی ہے۔ گورنر راج کی صورت میں آئین کے متعلقہ احکامات کے تحت وفاقی حکومت یا گورنر صوبے کے انتظامی امور میں غیر معمولی اختیارات استعمال کرتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں ماضی کے گورنر راج کے تین واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان میں 1975 اور 1994 کے واقعات گورنر راج کے اہم ادوار ہیں جبکہ 1999 میں فوجی اقتدار کی تبدیلی نے صوبائی حکومت کے نظام کو بھی متاثر کیا تھا۔
پہلا دور: 1975۔ سیاسی عدم استحکام اور صوبائی حکومت کی تبدیلی
فروری 1975 میں، وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں صوبہ سرحد میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس وقت صوبے میں سردار عنایت اللہ خان گنڈاپور کی حکومت تھی۔ اس واقعے نے صوبائی حکومت، وفاقی اختیار اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تعلقات کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے تھا۔ گورنر راج تقریباً 76 دن رہا اور 3 مئی 1975 کو اس کا خاتمہ ہوا۔ جس کے بعد نصراللہ خان خٹک نے وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالا۔
دوسرا دور: 1994۔ عوامی حکومت اور آئینی بحران
فروری 1994 میں صوبہ سرحد میں دوسری مرتبہ گورنر راج نافذ ہوا۔ اس وقت پیر صابر شاہ کی حکومت تھی۔ یہ دور بھی صوبے میں سیاسی عدم استحکام اور حکومت سازی کے بحران کے تناظر میں آیا۔ گورنر راج تقریباً دو ماہ تک رہا۔ 24 اپریل 1994 کو اس کو ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد آفتاب احمد خان شیرپاؤ دوبارہ وزیر اعلیٰ بنے۔
تیسرا دور: 1999۔ فوجی اقتدار
12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے ملک کا اقتدار سنبھالا تو ملک میں فوجی حکومت قائم ہو گئی۔ اس تبدیلی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پورے نظام کو متاثر کیا۔ خیبر پختونخوا میں بھی صوبائی انتظامیہ فوجی حکومت کے زیرِ اثر آ گئی۔
یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے کہ 1999 کا واقعہ صرف 1975 اور 1994 کی طرز کا گورنر راج نہیں تھا بلکہ پورے ملک میں اقتدار کی فوجی تبدیلی تھی۔ جس سے ملک کی ساری پالیسی تبدیل ہو گئی تھی۔
11 اکتوبر 2026 کو گورنر راج سے پہلے وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات شدت اختیار کر چکے تھے۔ صوبے کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور وفاقی حکومت کے درمیان اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ، امن و امان اور دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر نمایاں اختلاف رہا۔
وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے خطرات میں اضافہ اور صوبائی حکومت انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں موثر طور پر ادا نہیں کر رہی تھی، جبکہ پی ٹی آئی نے گورنر راج کے اقدام کو سیاسی اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔ اس کے نزدیک صوبے کے عوام نے منتخب نمائندوں کو حکومت کرنے کا اختیار دیا ہے اور اس اختیار کو ختم یا محدود کرنا عوامی مینڈیٹ کے خلاف ہے۔
اس سے دو بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں: کیا صوبے میں واقعی ایسی غیر معمولی صورتِ حال موجود ہے جس سے نمٹنے کے لیے آئینی مداخلت ناگزیر ہو؟ اور کیا گورنر راج کا نفاذ امن و امان بہتر بنانے میں مدد دے گا یا وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کرے گا؟
آئین کا آرٹیکل 232 جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی سنگین اندرونی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق ہے جس پر صوبائی حکومت قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہو۔ اندرونی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی کے لیے آئین میں صوبائی اسمبلی کی قرارداد سے متعلق شرط بھی موجود ہے۔ اگر صدر اپنے طور پر ایمرجنسی کا اعلان کرے تو اسے آئین کے مقرر کردہ طریقۂ کار کے مطابق پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا ہوتا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت اگر صدر کا خیال میں کسی صوبے میں حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاتی تو متعلقہ آئینی شرائط کے تحت صوبائی حکومت کے بعض یا تمام اختیارات گورنر کو منتقل کیے جاتے ہیں۔
ایمرجنسی اور گورنر راج کو ایک ہی قانونی اصطلاح سمجھنا درست نہیں ہے۔ ان کے اسباب، اختیارات اور آئینی تقاضوں کا الگ الگ جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔
کیا گورنر راج سے دہشت گردی کا مستقل خاتمہ ممکن ہے؟ خیبر پختونخوا طویل عرصے (افغان وار ) سے دہشت گردی اور بدامنی کے مسائل کا سامنا کرتا آیا ہے۔ اس لیے صوبے میں امن کا قیام محض ایک سیاسی جماعت یا ایک حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی اداروں، منتخب نمائندوں، مقامی آبادی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
گورنر راج کے ذریعے انتظامی فیصلوں میں تبدیلی تو ممکن ہو سکتی ہے لیکن پائیدار امن کے لیے موثر پولیسنگ، انٹیلی جنس تعاون، سرحدی انتظام، قانون کی عمل داری، متاثرہ علاقوں کی بحالی اور عوامی اعتماد کی بحالی بھی ضروری ہیں۔
اگر سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے مسئلے کو ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی تک محدود کر دیں تو اس کا نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ تو پھر ریاست کی ذمہ داریوں پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سلامتی کے معاملات پر اختلافات کے باوجود وفاق اور صوبے کے ادارے تعاون کریں۔ وفاقی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ امن و امان کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کرے جبکہ صوبائی حکومت اور منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور آئینی نظام کے تسلسل میں اپنا کردار ادا کریں۔ لیکن ان تمام اقدامات کی قانونی حیثیت، شفافیت اور عملی نتائج کو آئین اور قانون اور اپنی ذات سے بالا تر ہونا چاہیئے۔
خیبر پختونخوا کے عوام کو صرف سیاسی اختیارات کی کشمکش نہیں بلکہ امن، روزگار، تعلیم، صحت اور باعزت زندگی درکار ہے۔ گورنر راج کی کامیابی یا ناکامی کا حقیقی پیمانہ بھی یہی ہونا چاہیے کہ اس سے شہریوں کا تحفظ بہتر ہوا ہے یا نہیں، اداروں پر اعتماد بڑھا ہے یا نہیں اور جمہوری و آئینی نظام مضبوط ہوا ہے یا نہیں۔


