انسان کی سب سے بڑی شکست یہ نہیں کہ کوئی دوسرا اس پر حکومت کرنے لگے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی سوچنے کی صلاحیت بھی کسی دوسرے کے حوالے کر دے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض مذہبی، روحانی اور سیاسی شخصیات کے گرد ایسی فضا قائم کر دی گئی ہے جہاں سوال کرنے والا گستاخ، اختلاف کرنے والا دشمن اور اندھی تقلید کرنے والا وفادار سمجھا جاتا ہے۔
جب کسی معاشرے میں سچ کی پیمائش دلیل کے بجائے شخصیت کے مرتبے سے ہونے لگے تو وہاں اصلاح کے دروازے خود بخود بند ہونے لگتے ہیں۔ روحانیت انسان کو اپنے نفس کا محاسبہ کرنا، دوسروں کے دکھ کو سمجھنا، کمزور کا ہاتھ تھامنا اور اپنے کردار کو بہتر بنانا سکھاتی ہے۔ مگر جب اس پاکیزہ تصور کو ذاتی اثر و رسوخ، مالی منفعت اور موروثی برتری کے لیے استعمال کیا جائے تو مذہب کی تعلیمات اور ان کے نام پر قائم کیے گئے مفادات کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا ہو جاتی ہے۔
ہر پیر، مرشد یا مذہبی رہنما کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا انصاف نہیں، لیکن کسی کو اس لیے تنقید سے مستثنیٰ کر دینا کہ اس کے گرد عقیدت مندوں کا ہجوم ہے، عقل کے ساتھ نا انصافی ہے۔ کسی شخص کی بزرگی کا فیصلہ اس کے لباس، خاندان، مریدوں کی تعداد یا مزار کی شہرت سے نہیں، اس کے علم، دیانت، کردار اور خدمت سے ہونا چاہیے۔ جو شخص لوگوں کو اپنی ذات کا محتاج بنائے، ان کی فکری آزادی کا احترام نہ کرے اور اپنی حیثیت سے فائدہ اٹھائے، اس کے دعووں کو پرکھنا تو اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔
اندھی عقیدت صرف انفرادی کمزوری نہیں، اس کے پیچھے ایک پورا سماجی ماحول کام کرتا ہے۔ جب کسی غریب کو علاج میسر نہ ہو، بے روزگار نوجوان کو روزگار کی امید نظر نہ آئے، عدالتوں میں انصاف مہنگا پڑے اور سرکاری اداروں سے اعتماد اٹھنے لگے تو وہ کسی ایسے سہارے کی تلاش کرتا ہے جو اسے فوری تسلی دے سکے۔ اس کی بے بسی کو محض جہالت قرار دینا آسان ہے، مگر اس بے بسی کو جنم دینے والے حالات پر بات کرنا زیادہ ضروری ہے۔ جہاں ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی، وہاں غیر رسمی طاقتیں جگہ بنا لیتی ہیں۔
بعض لوگ اس خلا کو خدمت سے پُر کرتے ہیں، جبکہ بعض اسے کاروبار میں بدل دیتے ہیں۔ اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ ہم کمزور انسان کا مذاق اڑانے کے بجائے اس نظام کو بدلنے کی کوشش کریں جو اسے بار بار دوسروں کا محتاج بناتا ہے۔ اگر کوئی روحانی رہنما بیمار کو علاج کے بجائے صرف تعویذ دے، طبی مدد سے روکے یا مالی نذرانے کو شفا اور نجات کی شرط بنا دے تو یہ محض ذاتی رائے کا معاملہ نہیں رہتا، انسانی ذمہ داری کا سوال بن جاتا ہے۔ دعا، عبادت اور روحانی تسلی اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہیں، لیکن انہیں طبی علاج کا متبادل قرار دینا خطرناک ہے۔ جو شخص اپنی بیماری میں ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے، اسے دوسروں کے لیے بھی علاج کی اہمیت تسلیم کرنی چاہیے۔ اپنے لیے جدید سہولتیں اور دوسروں کے لیے بے بنیاد تسلیاں تجویز کرنا اس دوہرے معیار کی علامت ہے جسے عقیدت کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ذرا اس معاشرتی منظر پر غور کیجیے کہ ایک طرف کوئی شخص اپنے بچوں کی فیس ادا کرنے، گھر کا راشن خریدنے یا بیمار ماں کا علاج کرانے کے لیے پریشان ہے، دوسری طرف وہی شخص اپنی محدود آمدنی میں سے کسی پہنچی ہوئی شخصیت کو اس امید پر رقم دیتا ہے کہ اس کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ عقیدت مند کو بھی اپنے ضمیر سے پوچھنا چاہیے کہ وہ اپنے گھر کی بنیادی ضروریات پوری کیے بغیر دوسروں کی آسائشوں کا بوجھ کیوں اٹھا رہا ہے۔ محبت انسان کو ایثار سکھاتی ہے، مگر کسی کے مفاد کے لیے اپنے بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگانا دانش مندی نہیں۔
شخصیت پرستی کی یہی بیماری سیاست میں بھی اپنی پوری طاقت کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ بعض امیدوار عوام کے سامنے اپنی کارکردگی پیش کرنے کے بجائے پہنچی ہوئی شخصیت کی حمایت حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی پہنچی ہوئی شخصیت کی تائید حاصل ہو جائے تو ووٹروں کے ایک حصے تک پہنچنا آسان ہو سکتا ہے۔ یوں عوامی رائے کو تعلیم، صحت، روزگار، پانی، سڑکوں اور انصاف جیسے حقیقی مسائل سے ہٹا کر شخصیات کی وفاداریوں کے گرد گھمایا جانے لگتا ہے۔ اس صورت حال میں سیاست دان بھی جواب دہی سے بچتا ہے اور ووٹر بھی اپنے حقِ انتخاب کی اہمیت بھولنے لگتا ہے۔ ووٹ کسی پیر، سردار، وڈیرے یا سیاسی خاندان کی ملکیت نہیں، شہری کی امانت ہے۔ جو شخص اپنے ووٹ کا فیصلہ دوسروں کے دباؤ پر کرتا ہے، وہ صرف ایک امیدوار کو منتخب نہیں کرتا، اپنی آئندہ نسلوں کے لیے بھی فیصلوں کا اختیار کسی اور کے حوالے کر سکتا ہے۔
اس پورے نظام کو برقرار رکھنے میں خوشامد کرنے والوں کا کردار بھی کم اہم نہیں۔ ہر پہنچی ہوئی شخصیت کے گرد ایسے لوگ جمع ہو جاتے ہیں جو اس کی ہر بات کو درست ثابت کرنے، معمولی واقعات کو غیر معمولی کرامت بنانے اور تنقید کرنے والوں کو بدنام کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ ان کا مقصد حقیقت کی تلاش نہیں، اپنی قربت سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔ جب جھوٹ بولنے والے کو انعام اور سچ کہنے والے کو سزا ملے تو رفتہ رفتہ ادارے اور معاشرے دونوں اپنی اصلاح کی صلاحیت کھونے لگتے ہیں۔ یہ رویہ صرف خانقاہوں تک محدود نہیں، سیاسی جماعتوں، سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور گھروں میں بھی پایا جاتا ہے۔ جہاں خوشامد قابلیت سے زیادہ قیمتی ہو جائے، وہاں نا اہلی ترقی کرتی ہے اور دیانت دار انسان خود کو تنہا محسوس کرنے لگتا ہے۔
تعلیم اس ذہنی غلامی کے خلاف سب سے موثر راستہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ اسے صرف امتحان پاس کرنے اور سند حاصل کرنے کا ذریعہ نہ سمجھا جائے۔ نقل، سفارش اور رٹے کے ذریعے حاصل کی گئی کامیابی بظاہر نوجوان کو آگے بڑھا دیتی ہے، لیکن اسے زندگی کے پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنے کے لیے ضروری فکری قوت نہیں دیتی۔ ہمیں ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو بچے کو سوال کرنے، ثبوت تلاش کرنے، مختلف آرا سننے اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ دے۔ جس نوجوان کو بچپن سے بتایا جائے کہ اختیار رکھنے والے سے سوال نہیں کیا جاتا، وہ عملی زندگی میں بھی طاقت کے سامنے خاموش رہنے کا عادی ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو نسل دلیل اور تحقیق کی اہمیت سمجھتی ہے، اسے جھوٹے دعووں، سیاسی نعروں اور غیر حقیقی وعدوں کے ذریعے آسانی سے قابو میں نہیں رکھا جا سکتا۔
خاندانی نسبت، مذہبی شناخت اور تاریخی وابستگیوں کے معاملے میں بھی ہمیں یہی اصول اپنانا ہو گا۔ اہلِ بیت اور صحابۂ کرام کا احترام مسلمانوں کے مذہبی شعور کا اہم حصہ ہے، لیکن ان عظیم شخصیات سے محبت کا حقیقی تقاضا ان کی تعلیمات، اخلاق اور طرزِ عمل سے رہنمائی حاصل کرنا ہے۔ کسی خاندان سے نسبت رکھنے والے شخص کو اس نسبت کی وجہ سے عزت مل سکتی ہے، مگر یہ عزت اسے دوسروں کی تذلیل یا اپنے ہر عمل کی توثیق کا حق نہیں دیتی۔ اسی طرح چند افراد کی غلطیوں کو بنیاد بنا کر پورے خاندان یا طبقے کو نشانہ بنانا بھی نا انصافی ہے۔ عزت کا معیار کردار ہونا چاہیے اور احتساب کا اصول سب کے لیے یکساں۔ نہ خاندانی نام کسی کو قانون اور اخلاق سے بالاتر کرتا ہے، نہ اختلاف کسی کی تضحیک کا جواز بنتا ہے۔
اصلاح کی ذمہ داری صرف عقیدت مندوں پر ڈال دینا بھی درست نہیں۔ ریاست کو معیاری تعلیم، قابلِ رسائی علاج اور موثر انصاف فراہم کرنا ہو گا۔ مذہبی و روحانی رہنماؤں کو اپنی سماجی ذمہ داری سمجھتے ہوئے لوگوں کو علم، خودداری اور خدمت کی طرف بلانا چاہیے۔ سیاست دانوں کو ووٹروں کو ذاتی وفاداریوں کے بجائے کارکردگی کی بنیاد پر جواب دینا ہو گا۔ والدین کو بچوں میں خوف کے بجائے سمجھ بوجھ پیدا کرنی ہو گی، جبکہ عام شہری کو اپنے رویوں کا جائزہ لینا ہو گا۔
اگر ہم ہر خرابی کا ذمہ دار صرف کسی دوسرے کو ٹھہرا کر خود کو بری الذمہ سمجھتے رہیں تو تبدیلی کا آغاز کبھی نہیں ہو گا۔ معاشرہ اسی وقت بہتر ہوتا ہے جب اختیار رکھنے والے جواب دہ ہوں اور عام لوگ اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں۔
سب سے خطرناک جہالت وہ نہیں جس میں انسان پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو، بلکہ وہ ہے جس میں وہ حقیقت سامنے آنے کے باوجود اسے قبول کرنے سے انکار کر دے۔ کسی شخص سے محبت کیجیے، اس کا احترام کیجیے، اس کی اچھی بات اپنائیے، لیکن اپنے ضمیر اور عقل کو اس کے حوالے مت کیجیے۔ اپنے بچوں کو ایسا مستقبل دیجیے جس میں وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے علم اور محنت سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ کسی مزار کی تعمیر پر اعتراض کرنے سے پہلے یہ بھی دیکھیے کہ اس کے نام پر جمع ہونے والے وسائل سے کتنے ضرورت مندوں کی مدد ہو سکتی ہے اور کسی شخصیت کی مخالفت کرنے سے پہلے اپنے دل میں تعصب کے امکان کو بھی پرکھیے۔
معاشرے کی نجات نہ اندھی مخالفت میں ہے، نہ اندھی حمایت میں، بلکہ سچ کو سچ اور غلط کو غلط کہنے کی اخلاقی جرات میں ہے۔ عقیدت کا تقاضا اندھی حمایت نہیں، سچ کا ساتھ دینا ہے۔ ورنہ چند لوگ طاقت ور اور عوام بے بس رہیں گے۔


