اداریہ و آراء

ہم دوسروں کی بنائی ہوئی بساط پر مہرہ بن کر کھیلیں گے یا اپنی بساط خود بچھائیں گے؟

دنیا میں جنگیں ہمیشہ ہوتی رہی ہیں، مگر آج کی جنگوں کی آواز توپوں سے پہلے بازاروں میں سنائی دیتی ہے۔ کبھی ایک میز پر بیٹھا ہوا صدر فیصلہ کرتا ہے اور ہزاروں میل دور کسی غریب کے چولہے کی آگ مدھم پڑ جاتی ہے۔ کبھی کسی دور دراز سمندر میں ایک بحری جہاز رک

پاکستان کا اصل امتحان

پاکستان میں سیاسی تبدیلیاں اثر و رسوخ، مراعات اور رسائی کے گہرے ڈھانچوں کو تبدیل کرنے میں کیوں ناکام رہتی ہیں؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں حکومتیں بدلتی رہی ہیں۔ کبھی ایک جماعت اقتدار میں آتی ہے، کبھی دوسری۔ کبھی منتخب حکومت اپنی مدت پوری کرتی ہے اور کبھی سیاسی بحران اسے راستے سے ہٹا

ہمارے بزرگوں نے پاکستان کیوں بنایا؟

اگر پڑوسی کا گھر جل رہا ہو تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ جلنے دو چونکہ اس سے کم از کم ہمارے گھر میں تو روشنی ہو رہی ہے۔ اسی طرح اگر کسی دوسرے ملک میں نا انصافی ہو رہی ہو تو کیا اس سے یہ جواز فراہم ہو سکتا ہے کہ ہمارے

تصادم یا طاقت کا نشہ : پاکستانی قیادت کی شناخت

پاکستان کی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف حکومت ہے، دوسری طرف تحریک انصاف کا لانگ مارچ، اور درمیان میں وہ عوام ہیں جو سیاسی کشمکش، معاشی دباؤ، مہنگائی، بے یقینی اور مسلسل محاذ آرائی کی قیمت ادا کرتے چلے آ رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کون درست

پاکستان کو ترقی کے لیے نئے منصوبوں کے ساتھ نئے شہری رویے بھی درکار ہیں

صبح لاہور کی کسی سڑک پر ایک گاڑی سرخ بتی توڑ کر آگے نکل جاتی ہے، ٹریفک وارڈن اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے تو ڈرائیور فوراً موبائل نکالتا ہے، کسی صاحب کو فون ملاتا ہے اور چند لمحوں بعد معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ شام کو یہی شخص دوستوں میں بیٹھ کر بڑے دکھ

کام کی جگہ پر خواتین سے بدسلوکی اور غیر محفوظ ماحول کے نتائج

ستمبر 2026 میں وفاقی آئینی عدالت نے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ کے قانون کی تشریح کرتے ہوئے ایک مقدمہ میں اہم فیصلہ سنایا۔ یہ مقدمہ نیشنل بینک آف پاکستان کی ایک ملازمہ نادیہ سرور کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے سے متعلق تھا۔ انہوں نے اپنے ساتھی

خطے کے ممالک ہم سے آگے کیسے نکل گئے؟

1980 تک پاکستان اپنے خطے کے کئی ملکوں سے آگے تھا۔ اس وقت پاکستان کی جی ڈی پی 24 ارب ڈالر، سری لنکا کی 4، بنگلہ دیش کی 18 اور بھارت کی 189 ارب ڈالر تھی۔ لیکن یہ صورت حال صرف چار دہائی میں بالکل تبدیل ہو گئی۔ 2025 میں بنگلہ دیش کی جی ڈی

غذائی تحفظ اور پاکستان کا مستقبل

کچھ افراد انسانیت سے ہمدردی کے بلندو بانگ دعووں کے باوجود انسانیت کے لیے دردسر بن کے رہ گئے ہیں۔ امریکی سرمایہ دار بل گیٹس ان افراد میں سر فہرست ہیں۔ ایسا معلوم ہونے لگا ہے کہ کوئ پتھر بھی اٹھاؤ تو نیچے سے ان صاحب کا کوئ نیا کارنامہ برآمد ہوگا۔ نیویارک میں اقوام

ڈیجیٹل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال

پاکستان ایک مسلم اکثریتی ملک ہے، جہاں آبادی کی تقریباً 98 فیصد اکثریت مسلمان ہے۔ ایسے معاشرے میں سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ اور منفی استعمال نہ صرف غلط معلومات، نفرت انگیز مواد، اشتعال انگیزی اور فکری انتشار کے فروغ کا باعث بن رہا ہے، بلکہ مذہبی اور مسلکی حساسیت کو بھی متاثر کر

مکالمے کی صلاحیت سے محروم ہماری قیادت

پاکستان کی سیاست اس وقت بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہوئی ہے اور ہر طرف ماچس کی تیلیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک طرف حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا دروازہ تقریباً بند ہے، دوسری طرف خیبر پختونخوا کی حکومت کے خلاف وائٹ پیپر سامنے آ چکا ہے، سہیل آفریدی کے مستقبل

خوراک کا ضیاع صرف ایک سماجی عادت نہیں بلکہ انسانی، معاشی اور ماحولیاتی مسئلہ ہے

ایک شادی کی تقریب ختم ہوتی ہے۔ مہمان اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، میزیں خالی ہو جاتی ہیں، لیکن کچرے کے ڈبوں میں پڑا ہوا کھانا ایک سوال چھوڑ جاتا ہے: جو خوراک کسی انسان کی بھوک مٹا سکتی تھی، وہ کچرے کے ڈھیر تک کیوں پہنچی؟ یہ منظر صرف شادی ہال یا کسی

کمزور موبائل اور انٹرنیٹ سروس کے ساتھ ڈیجیٹل معیشت کا خواب

جب موبائل کا سگنل غائب ہوتا ہے تو صرف فون کال نہیں رکتی، کسی طالب علم کی کلاس چھوٹ جاتی ہے، کسی فری لانسر کا کام رک جاتا ہے، کسی تاجر کا آرڈر ضائع ہو جاتا ہے اور کسی کاروبار کی ایک دن کی کمائی متاثر ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں موبائل فون اور انٹرنیٹ

سیاسی تدبر، برداشت اور مذاکرات ہی سے نظام مستحکم ہو گا

پاکستان کی سیاسی فضا گزشتہ چند ہفتوں سے مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ستمبر کا مہینہ سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث ایک غیر معمولی صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ ایک طرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی بڑھ رہی ہے، تو دوسری جانب مختلف سیاسی و سماجی حلقے اپنے مطالبات کے

حوصلہ شکن ناکام امتحانی نظام

پاکستان میں تعلیم پہلے ہی بے شمار مسائل کا شکار ہے، مگر امتحانی نظام سے متعلق حالیہ صورتحال ایک الگ اور سنجیدہ سوال اٹھاتی ہے : کیا ہمارے تعلیمی بورڈز کا اصل مقصد طلبہ کی قابلیت کو منصفانہ انداز میں جانچنا ہے یا ایسا نظام بن چکا ہے جس میں طالب علم ہر مرحلے پر

ہماری قیادت اور نظام ہمارے معاشرے کا عکس ہے!

ہم اپنے معاشرے کی خرابیوں کا ذکر کرتے ہوئے اکثر انگلی کسی دوسرے کی طرف اٹھاتے ہیں۔ کبھی مسئلہ سیاست دانوں میں نظر آتا ہے، کبھی جرنیلوں میں، کبھی ججوں اور افسروں میں، کبھی مولویوں میں اور کبھی کسی اور طبقے میں۔ یوں ہم مسئلے کو اپنے سے باہر دھکیل کر خود کو بری الذمہ

یمن اب صرف صنعا، تہران یا ریاض کا مسئلہ نہیں

یمن ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے ہوئے تزویراتی نقشے کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ چند برس کی نسبتاً خاموشی، غیر علانیہ جنگ بندی اور سعودی عرب و حوثیوں کے درمیان مذاکرات کے بعد مغربی یمن میں لڑائی کے اچانک بھڑک اٹھنے کو محض ایک مقامی فوجی پیش رفت قرار نہیں دیا

مزاحمت کا اخلاق اور در گذر کا ظرف

کچھ واقعات اپنی ظاہری جسامت سے کہیں بڑے ہوتے ہیں۔ بظاہر وہ سڑک پر ہونے والی ایک تلخ کلامی، کسی با اثر شخص کے محافظوں کی زیادتی یا دو افراد کے درمیان پیدا ہونے والا تنازع دکھائی دیتے ہیں، لیکن کبھی کبھی انہی واقعات کے اندر پورے معاشرے کی نفسیات چھپی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عارف

اے آئی صرف ٹیکنالوجی نہیں معاشی طاقت بھی ہو گی، قومی سلامتی بھی اور خودمختاری بھی

اے آئی کی اصل جنگ اب شروع ہو چکی ہے، اور اس وقت سب سے بڑا مقابلہ امریکہ اور چین کے درمیان ہے۔ سادہ الفاظ میں سمجھیں تو جو ملک اگلے چند سال میں اے آئی میں آگے نکل گیا، وہ معیشت، صنعت، تحقیق، دفاع اور کاروبار میں بھی دوسروں سے بہت آگے نکل سکتا

اسلام آباد کو کنٹینروں کا قلعہ بنانے کے بجائے مکالمے کا مرکز بنائیں

پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ لوگ احتجاج کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ حکومتیں سیاسی احتجاج کا جواب سیاسی مذاکرات کے بجائے کنٹینروں سے دینے کی عادی ہو چکی ہیں۔ جماعتِ اسلامی، کسانوں اور تحریکِ انصاف کی احتجاجی سرگرمیوں کے باعث اسلام آباد ایک بار پھر سیاسی کشمکش کا

مستقبل کے حکمران یا پاکستان کے مسائل حل کرنے والے افسران!

پاکستان میں مقابلے کا امتحان محض ایک امتحان نہیں بلکہ اس نوجوان کے خواب کی علامت ہے جو کسی سیاسی خاندان، جاگیردارانہ پس منظر، سرمایہ دارانہ طاقت یا سفارش کے بغیر اپنی قابلیت اور محنت کے ذریعے ریاست کے اہم ترین انتظامی عہدوں تک پہنچنا چاہتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں طاقت کے مراکز تک