پاکستان کو ترقی کے لیے نئے منصوبوں کے ساتھ نئے شہری رویے بھی درکار ہیں

شیئر کریں

صبح لاہور کی کسی سڑک پر ایک گاڑی سرخ بتی توڑ کر آگے نکل جاتی ہے، ٹریفک وارڈن اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے تو ڈرائیور فوراً موبائل نکالتا ہے، کسی صاحب کو فون ملاتا ہے اور چند لمحوں بعد معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ شام کو یہی شخص دوستوں میں بیٹھ کر بڑے دکھ سے کہتا ہے، ”اس ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں۔“ شاید پاکستان کے موجودہ معاشرتی تضاد کو سمجھنے کے لیے اس ایک منظر سے بہتر مثال مشکل ہو۔ ہم قانون چاہتے ہیں، مگر اپنے لیے اس میں استثنا بھی چاہتے ہیں ؛ ہم میرٹ کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر اپنے کسی عزیز کی باری آئے تو سفارش کو حق سمجھنے لگتے ہیں؛ ہم شفافیت چاہتے ہیں، مگر اپنی سہولت کے لیے بند دروازے کے پیچھے ہونے والا کام ہمیں ناگوار نہیں گزرتا۔ مسئلہ شاید یہ نہیں کہ ہمیں اصول معلوم نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم اصولوں کا اطلاق اپنے اوپر اسی شدت سے نہیں چاہتے جس شدت سے دوسروں پر چاہتے ہیں۔

یہ تضاد ہماری قومی زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں دکھائی دیتا ہے۔ کسی سرکاری دفتر میں لمبی قطار لگی ہو تو ہم اس شخص کو برا بھلا کہتے ہیں جو قطار توڑ کر اندر چلا جائے، لیکن اگر ہمارا کوئی جاننے والا اندر بیٹھا ہو تو ہم اسے فون کر کے کہتے ہیں، ”بس ذرا دیکھ لیجیے گا، بہت ضروری کام ہے۔“ یونیورسٹی میں داخلے یا ملازمت میں میرٹ کی پامالی ہو تو ہم احتجاج کرتے ہیں، لیکن اگر کسی امیدوار کی جگہ ہمارا اپنا بچہ کھڑا ہو تو اچانک ہمیں یہ دلیل سنائی دینے لگتی ہے کہ ”آخر تعلقات بھی کوئی چیز ہوتے ہیں۔“ ہم سفارش کو اصولاً غلط کہتے ہیں، لیکن اپنی سفارش کو ”ریفرنس“ کا مہذب نام دے دیتے ہیں۔ دوسرے کا تعلق اقرباپروری ہے، ہمارا تعلق صرف ”مدد“ ہے۔ دوسرے کی غلطی بدعنوانی ہے، ہماری غلطی مجبوری ہے۔ دوسرے کا قانون توڑنا قومی بگاڑ ہے، ہمارا قانون توڑنا صرف چند منٹ کی جلدی ہے۔

یہیں سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے، کیا ہم واقعی ایک بہتر ریاست چاہتے ہیں یا صرف ایسی ریاست چاہتے ہیں جو ہمارے لیے بہتر ہو؟ یہ سوال تلخ ضرور ہے، مگر شاید اسی کا جواب ہماری اجتماعی اصلاح کا آغاز بن سکتا ہے۔ کیونکہ ریاست معاشرے سے الگ کوئی جزیرہ نہیں۔ پولیس، عدالت، بیوروکریسی، یونیورسٹی، پارلیمنٹ، اسپتال اور دوسرے اداروں میں کام کرنے والے لوگ اسی معاشرے سے آتے ہیں۔ اگر معاشرے میں سفارش کو قابلِ قبول راستہ سمجھا جائے، اگر تعلق قابلیت پر فوقیت پا جائے، اگر قانون کو طاقتور کے لیے لچک دار اور کمزور کے لیے سخت تصور کیا جائے تو ریاستی ادارے بھی ان رویوں سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتے۔ ہم اکثر ریاستی اداروں کی کمزوری پر حیران ہوتے ہیں، مگر یہ کم ہی سوچتے ہیں کہ ان اداروں میں آنے والے افراد آخر کس معاشرتی تربیت سے گزر کر آئے ہیں۔

پاکستانی زندگی میں اس کی مثالیں تلاش کرنا مشکل نہیں۔ ایک والد اپنے بچے کے لیے اسکول میں داخلہ چاہتا ہے اور میرٹ کی فہرست میں نام نہ آنے کے بعد کسی جاننے والے سے فون کرواتا ہے۔ وہی والد چند برس بعد یونیورسٹی کے داخلوں میں سیاسی مداخلت یا سفارش پر تنقید کرتا ہے۔ ایک کاروباری شخص ٹیکس چوری کو کاروباری مجبوری سمجھتا ہے، پھر سرکاری خزانے کی بدعنوانی پر غصے کا اظہار کرتا ہے۔ ایک شہری سڑک پر غلط پارکنگ کر کے دوسروں کا راستہ روکتا ہے، پھر شہر کے ٹریفک نظام کو ناکام قرار دیتا ہے۔ کوئی شخص سرکاری اسپتال میں اپنے مریض کو لائن سے پہلے دکھانے کی کوشش کرتا ہے، پھر اسی معاشرے میں ”سب کے لیے برابر سہولت“ کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایک طالب علم امتحان میں نقل کر کے اچھے نمبر حاصل کرتا ہے، گھر والے اسے مبارک باد دیتے ہیں، اور چند سال بعد یہی خاندان شکایت کرتا ہے کہ ہمارے اداروں میں نا اہل لوگ کیوں بیٹھے ہیں۔

اس رویے کی جڑیں صرف سیاست میں نہیں، تربیت میں بھی ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو کامیاب ہونے کے طریقے تو بتاتے ہیں، مگر کامیابی کی اخلاقی حدود کم ہی سمجھاتے ہیں۔ انہیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ اچھے نمبر لاؤ، اچھی ملازمت حاصل کرو، آگے بڑھو؛ لیکن یہ سوال کم پوچھا جاتا ہے کہ آگے بڑھتے ہوئے کس کو پیچھے چھوڑ رہے ہو اور کس قیمت پر؟ اگر بچہ یہ دیکھے کہ گھر میں سفارش سے کام نکلوانا کامیابی ہے، امتحان میں نقل ”چالاکی“ ہے، قانون سے بچ نکلنا ”اسمارٹنیس“ ہے اور تعلقات کے ذریعے میرٹ کو پیچھے کرنا ”دنیا داری“ ہے تو پھر ہم اس سے عملی زندگی میں اصول پسندی کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟

یہی وجہ ہے کہ معاشرتی اصلاح محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے۔ ریاست قوانین بنا سکتی ہے، مگر ہر شہری کے ضمیر پر پولیس تعینات نہیں کر سکتی۔ حکومت سوشل میڈیا پر ہر جھوٹی خبر کے پیچھے نہیں جا سکتی۔ یونیورسٹی ہر طالب علم کی نقل نہیں روک سکتی۔ ٹریفک پولیس ہر چوک پر ہر گاڑی کو نہیں روک سکتی۔ کسی معاشرے کی اصل طاقت اس وقت سامنے آتی ہے جب شہری درست کام اس وقت بھی کریں جب انہیں کوئی دیکھنے والا نہ ہو۔

یہاں ہمارے تعلیمی اداروں کا کردار سب سے اہم ہو جاتا ہے۔ یونیورسٹی کا مقصد صرف ڈگریاں تقسیم کرنا نہیں ؛ اسے ایسے شہری پیدا کرنے چاہئیں جو اختلاف کو برداشت کر سکیں، دلیل سے بات کریں، علمی دیانت کو سمجھیں اور اپنے فائدے کے لیے اصول قربان نہ کریں۔

سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو ایک نئی جہت بھی دے دی ہے۔ آج ہم کسی خبر کو اس لیے آگے بڑھا دیتے ہیں کہ وہ ہمارے موقف کے حق میں ہے۔ اگر خبر ہمارے مخالف کو نقصان پہنچاتی ہو تو ہمیں تصدیق کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی؛ اگر یہی خبر ہمارے خلاف ہو تو ہم اسے جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔ یعنی سچ بھی کبھی کبھی ہماری پسند کا محتاج ہو جاتا ہے۔ یہ صرف معلومات کا مسئلہ نہیں، شہری کردار کا مسئلہ ہے۔ آزادیِ اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ دوسروں کی عزت اور سچائی کی ذمہ داری ختم ہو گئی۔

ہمیں اپنے سیاسی، سماجی اور مذہبی اختلافات میں بھی یہی تضاد دکھائی دیتا ہے۔ ہم اپنے لیے برداشت چاہتے ہیں، مگر مخالف کے لیے برداشت نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری رائے کو دلیل کے ساتھ سنا جائے، مگر دوسرے کی رائے کو سننے سے پہلے اس کے ارادے پر شک شروع کر دیتے ہیں۔ شاید کسی معاشرے کی پختگی کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہاں کتنے لوگ ایک جیسا سوچتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ مختلف سوچنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح رہتے ہیں۔

یہاں تاریخ ہمارے لیے ایک اہم سبق رکھتی ہے۔ مضبوط معاشرے صرف قوانین سے نہیں بنتے ؛ ان کے پیچھے شہری عادات اور اجتماعی اقدار بھی ہوتی ہیں۔ جنگوں اور تباہیوں سے گزرنے والے کئی معاشروں نے اپنی تعمیرِ نو میں صرف عمارتیں اور معیشتیں نہیں بنائیں، بلکہ نظم، محنت، قانون کی پابندی، تعلیم اور اجتماعی ذمہ داری کو بھی اپنی قومی ثقافت کا حصہ بنایا۔ پاکستان کو ترقی کے لیے نئے منصوبوں کے ساتھ نئے شہری رویے بھی درکار ہیں۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست اپنی ذمہ داری سے بری ہو جائے۔ بالکل نہیں۔ ریاست کو قانون کی بالادستی قائم کرنی ہے، اداروں کو شفاف بنانا ہے، میرٹ کو یقینی بنانا ہے، احتساب کو غیر جانب دار بنانا ہے اور شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنی ہیں۔

آج ہمیں ایک نئی اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے، جو اصول ہم ریاست سے چاہتے ہیں، وہی اصول ہمیں اپنی ذات پر بھی نافذ کرنے ہوں گے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ افسر سفارش نہ مانے تو ہمیں بھی سفارش کروانے سے انکار کرنا ہو گا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملازمت میرٹ پر ملے تو اپنے عزیز کے لیے میرٹ توڑنے کی کوشش نہیں کرنی ہو گی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہو تو اپنے لیے بھی وہی قانون قبول کرنا ہو گا جو ہم اپنے مخالف کے لیے چاہتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں سچائی ہو تو اپنے پسندیدہ موقف کے حق میں بھی جھوٹی خبر آگے نہیں بڑھانی ہو گی۔

یہ تبدیلی بظاہر بہت چھوٹی لگتی ہے، مگر قومیں چھوٹے رویوں سے ہی بنتی ہیں۔ شاید پاکستان کو بدلنے کے لیے ہر وقت کسی بڑے سیاسی واقعے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔

ریاست سے پہلے معاشرہ اسی لیے اہم ہے کہ ریاست ہمارے اجتماعی رویوں کا عکس بھی ہوتی ہے۔ ہم اگر اپنے لیے ہر جگہ سہولت اور استثنا چاہتے رہیں گے تو پھر ایسی ریاست کی تعمیر مشکل ہو گی جہاں سب کے لیے ایک ہی اصول ہو۔ ہم اگر سفارش کو اپنے لیے جائز اور دوسروں کے لیے ناجائز سمجھیں گے تو میرٹ صرف ایک خوبصورت لفظ بن کر رہ جائے گا۔ اور اگر ہم اپنے حق اور اپنی سہولت کے درمیان فرق نہیں کر سکیں گے تو انصاف کا تصور بھی ادھورا رہے گا۔

شاید ہمیں آج ریاست سے یہ پوچھنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ سے بھی ایک سوال پوچھنا چاہیے کیا میں وہی اصول اپنے لیے قبول کرنے کو تیار ہوں جس کا مطالبہ میں دوسروں کے لیے کرتا ہوں؟

اگر اس سوال کا جواب ”ہاں“ میں آنا شروع ہو جائے تو شاید معاشرتی اصلاح کا سفر شروع ہو جائے۔ پھر قانون صرف کتاب میں نہیں، سڑک پر بھی نظر آئے گا؛ میرٹ صرف تقریر میں نہیں، فیصلے میں بھی دکھائی دے گا؛ دیانت صرف دوسروں سے مطلوب نہیں ہو گی بلکہ ہماری اپنی زندگی کا اصول بھی بنے گی۔

اس کے لیے بہتر معاشرہ بھی بنانا ہو گا اور اس معاشرے کی تعمیر کا پہلا قدم کسی اور کے گھر سے نہیں، ہم میں سے ہر ایک کی اپنی ذات سے اٹھنا ہو گا۔


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے