کوئی ایسی سبیل ہو جائے
عشق میرا وکیل ہو جائے
تو مری اک نگاہ کو ترسے
اس قدر دل بخیل ہو جائے
آنکھ تصویر اس کو کر لے اگر
درد میں خود-کفیل ہو جائے
اس کو بس پیار کی حرارت دو
روح جب بھی علیل ہو جائے
تلخ لہجے سے وار ہوتے ہیں
ختم جب بھی دلیل ہو جائے
نفرتوں کے جہان میں زریںؔ
پیار میرا قبیل ہو جائے


