عام انسانوں کے لیے ایک ریاست – ڈاکٹر ناظر محمود

شیئر کریں

کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جب کوئی ملک بہت عظیم دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان نے بھی ایسے لمحات دیکھے ہیں۔ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ فوجی تصادم کے بعد عوام کی ایک بڑی تعداد نے اطمینان اور تحسین کے ساتھ ردِعمل ظاہر کیا۔ حالیہ عرصے میں امریکا اور ایران کے گرد ہونے والی سفارتی سرگرمیوں نے بھی اسلام آباد کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک مستقل دست نگر کے بجائے خطے کے ایک کارآمد کردار کے طور پر پیش کرے۔

یہ معمولی کامیابیاں نہیں ہیں۔ جو ملک اپنا دفاع کر سکے اور اپنے مخالفین کے ساتھ بات چیت بھی کر سکے، اس کے پاس ایسی صلاحیتیں ہوتی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ریاستیں تقریبات کے لیے قائم نہیں ہوتیں ؛ وہ انسانوں کے لیے قائم کی جاتی ہیں۔ مضبوط دفاع بذاتِ خود کوئی آخری منزل نہیں۔ اس کا مقصد لوگوں کی جانوں، گھروں، روزگار، اسکولوں، اسپتالوں، کھیتوں، گلیوں اور مستقبل کا تحفظ ہونا چاہیے۔ سفارت کاری کا مطلب صرف غیرملکی دارالحکومتوں میں نمایاں نظر آنا بھی نہیں۔ اس کا مقصد شہریوں کے لیے ایسی گنجائش پیدا کرنا ہونا چاہیے جہاں وہ نسبتاً کم خوف اور بے یقینی میں زندگی گزار سکیں۔ اگر ریاست سرحد پر دباؤ کے وقت اور مذاکراتی میز پر کارکردگی دکھا سکتی ہے تو اسے بازار، کلاس روم، کلینک، بس اسٹاپ اور کچی آبادی میں بھی کارکردگی دکھانی چاہیے۔

حکمرانی کا اصل امتحان یہ نہیں کہ حکومت چند ڈرامائی ہفتوں تک کسی بحران کو کیسے سنبھالتی ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ وہ ان کروڑوں لوگوں کی روزمرہ زندگی کو کتنا قابلِ برداشت بناتی ہے جو سرکاری تصویروں میں کبھی نظر نہیں آتے۔ اس تصویر کے دو باہم مربوط پہلو ہیں : ایک طرف غصے اور بے یقینی کا شکار نوجوان آبادی، جس کی مادی زندگی غیرمحفوظ ہے، اور دوسری طرف ایسی نازک معاشی استحکام کی صورت حال جو اتنے بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرنے کے قابل نہیں کہ ملکی ضرورت پوری ہو سکے۔

سب سے بنیادی مسئلہ روزگار کا ہے۔ ہر سال پاکستان میں تقریباً 20 لاکھ افراد کام کرنے کی عمر یا روزگار تلاش کرنے والی آبادی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ معیشت کے بارے میں بحالی کے دعوے کیے بھی جائیں تو یہ اتنے باوقار روزگار پیدا نہیں کرتی جتنی ضرورت ہے۔

بہت سے نوجوان مرد عارضی ملازمتوں، موٹر سائیکل پر اشیا پہنچانے، کم اجرت کی سیلز نوکریوں، کال سینٹروں، ٹیوشن پڑھانے اور خاندان پر انحصار کے درمیان بھٹکتے رہتے ہیں۔ بہت سی نوجوان خواتین محنت سے تعلیم حاصل کرتی ہیں، مگر بعد میں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ روزگار کی منڈی انہیں خوش آمدید کہنے کے لیے بنائی ہی نہیں گئی۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 2020۔ 21 میں 6.3 فیصد سے بڑھ کر 2024۔ 25 میں 6.9 فیصد ہو گئی، اور نوجوانوں اور خواتین کو سب سے زیادہ بے روزگاری کا سامنا ہے۔

دوسرا مسئلہ مہنگائی ہے۔ یہ محض ایک مجرد عدد نہیں۔ مہنگائی کا مطلب کھانے میں کمی کرنا، دوا کی خرید مؤخر کرنا، رشتہ داروں سے ملنے کا پروگرام منسوخ کرنا، باورچی خانے کی میز پر بحث و تکرار، اور مہینہ ختم ہونے سے پہلے قرض مانگنے کی خاموش ذلت ہے۔

اپریل 2026 میں پاکستان میں سالانہ مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد بتائی گئی، جو مارچ میں 7.3 فیصد تھی۔ رہائش، یوٹیلٹی بلوں، خوراک اور نقل و حمل کے اخراجات میں خاصا اضافہ ہوا۔ متوسط طبقے کے لیے اس کا مطلب بے چینی ہے۔ غریبوں کے لیے اس کا مطلب بھوک ہے۔ نچلے متوسط طبقے کے لیے اس کا مطلب یہ خوف ہے کہ برسوں تک عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کے باوجود وہ غربت میں جا گرے گا۔

تیسرا مسئلہ تعلیم ہے۔ پاکستان میں نوجوانوں کو آبادیاتی فائدہ یا Demographic Dividend قرار دینے کی بات مسلسل ہوتی رہتی ہے۔ مگر منافع اسی وقت ملتا ہے جب پہلے سرمایہ کاری کی گئی ہو۔ یونیسف کے اندازے کے مطابق پاکستان میں پانچ سے سولہ برس عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو اس عمر کے بچوں کا لگ بھگ 35 فیصد بنتے ہیں۔ یوں پاکستان دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔

یہ محض تعلیم کا بحران نہیں۔ یہ آئینی، معاشی، اخلاقی اور سلامتی کا بحران ہے۔ آج اسکول سے باہر رہنے والا بچہ کل کم اجرت والا کارکن، ناراض شہری، یا عوام کو جذباتی نعروں سے ورغلانے والوں، فرقہ ورانہ عناصر اور آن لائن نفرت پھیلانے والی مشینوں کے لیے آسان ہدف بن سکتا ہے۔

چوتھا مسئلہ صحت ہے۔ جو حکومت اپنے شہریوں کو علاج کے لیے زیورات بیچنے، رشتہ داروں سے قرض لینے یا بیماری کا علاج مؤخر کرنے پر مجبور چھوڑ دے، وہ دیانت داری سے یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ وہ ان کا تحفظ کر رہی ہے۔ پاکستان کا سرکاری نظامِ صحت اب بھی بہت کمزور، بہت گنجان اور شدید عدم مساوات کا شکار ہے۔ غریب گھرانے میں کوئی سنگین بیماری برسوں کی محنت کو لمحوں میں ضائع کر سکتی ہے۔

عالمی بینک کے صحت سے متعلق اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں علاج کے اخراجات کا بڑا حصہ اب بھی لوگوں کو اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتا ہے۔ یعنی بیماری کے وقت مالی بوجھ براہِ راست خاندانوں پر پڑتا ہے۔ جس جمہوریہ میں بیماری اتنی آسانی سے قرض میں بدل جائے، اس نے ابھی سماجی تحفظ کا مفہوم پوری طرح نہیں سمجھا۔

پانچواں مسئلہ رہائش اور شہری وقار کا ہے۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں وہ لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو دوسروں کے گھر صاف کرتے ہیں، گاڑیاں چلاتے ہیں، عمارتوں کی حفاظت کرتے ہیں، کھانا پکاتے ہیں، پلازے تعمیر کرتے ہیں، سڑکیں صاف کرتے ہیں اور پارسل پہنچاتے ہیں، مگر جب انہیں اپنے رہنے کے لیے جگہ درکار ہو تو انہیں غیرقانونی قرار دے دیا جاتا ہے۔ غریب بطور کارکن مفید ہے، مگر بطور ہمسایہ ناقابلِ قبول۔

کچی آبادیوں کو شہر کی بدصورتی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جبکہ اشرافیہ کی تجاوزات کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی جاتی ہے، خوبصورت بنایا جاتا ہے اور انہیں یوٹیلٹی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ بلڈوزر طبقاتی پالیسی کا ایک ہتھیار بن چکا ہے۔ وہ وہاں نہیں پہنچتا جہاں قانون کی خلاف ورزی سب سے زیادہ ہو، بلکہ وہاں پہنچتا ہے جہاں قانون توڑنے والا سب سے کمزور ہو۔

یہیں بھارت کے ساتھ امن اور بنیادی انسانی ضروریات پر توجہ ایک ہی دلیل کے دو حصے بن جاتے ہیں۔ پاکستانی اور بھارتی نوجوانوں کو ایک دوسرے سے نفرت کرنا سکھایا جاتا ہے، حالانکہ دونوں غیرمحفوظ روزگار، ناقابلِ برداشت رہائشی اخراجات، آلودہ فضا، ناقص عوامی ٹرانسپورٹ، مہنگی تعلیم اور سکڑتی ہوئی امیدوں کا سامنا کرتے ہیں۔ بھارتی مقتدرہ کا اپنا اکثریتی قوم پرستانہ منصوبہ ہے، اپنی پروپیگنڈا مشینیں ہیں، اور مسلمانوں، دلتوں، آدی واسیوں اور دیگر کمزور طبقات کے خلاف اپنی نا انصافیاں ہیں۔

پاکستان کا بھی اپنا تصوراتی نظام ہے جس میں بھارت ایک مستقل دشمن کی حیثیت سے نہایت کارآمد ہے اور تقریباً ہر مسئلے کی وضاحت اسی کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ لیکن دونوں جانب کے عام لوگوں میں ایک دوسرے کے ساتھ ان اشرافیہ کی نسبت کہیں زیادہ مشترک چیزیں ہیں جو انہیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتی ہیں۔

سستی حکمرانی کے لیے کسی فعال اسکول، بنیادی مرکزِ صحت، منصفانہ اجرت کی پالیسی، صاف پانی یا قابلِ اعتبار مقامی حکومت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے صرف ایک اسکرین، ایک نعرہ اور ایک ہدف چاہیے۔ سوشل میڈیا نے اس کام کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ اشتعال کی یہ مشین نوجوانوں کی مایوسی پر پلتی ہے۔ بے روزگار نوجوان کسی دوسرے ملک کے لوگوں کو آن لائن گالیاں دے کر خود کو طاقتور محسوس کر سکتا ہے۔

سیاسی طور پر نظر انداز کیے گئے شہری کو فخر کا نشہ دیا جا سکتا ہے۔ مگر فخر کرایہ ادا نہیں کرتا۔ وہ اسکول کی فیس کم نہیں کرتا، انسولین کو سستا نہیں بناتا، خواتین کے لیے بس کا سفر محفوظ نہیں کرتا اور بارش کے بعد کسی بستی سے سیوریج کا پانی نہیں نکالتا۔

حکومت کے حامی کہیں گے کہ معاشی استحکام پہلے ضروری تھا۔ یہ بات ایک حد تک درست ہے۔ کوئی سنجیدہ شخص ادائیگیوں کے توازن کے ایک اور بحران، بے قابو مہنگائی یا خالی پٹرول پمپوں کا خواہاں نہیں ہو سکتا۔ حالیہ معاشی انتظام نے کچھ فوری تباہیوں سے ملک کو بچایا ہے۔ سرکاری بیانات بروقت ایندھن کی قیمتوں میں رد و بدل اور توانائی کی فراہمی کے سلسلے کو محفوظ رکھنے جیسی حکمتِ عملی کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہیں۔

مگر حکمتِ عملی کی کامیابی سماجی معاہدے کا متبادل نہیں۔ ریاست اپنے شہریوں سے ہمیشہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ آج تکلیف برداشت کرو تاکہ کل استحکام آ سکے، جبکہ وہ کل کبھی ایک معقول ملازمت، فعال اسپتال یا واقعی تعلیم دینے والے اسکول کی صورت اختیار ہی نہ کرے۔

سماجی اخراجات کو خیرات بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ پیداواری سرمایہ کاری ہے۔ بچوں کو مناسب غذا دینا ان کے سیکھنے کی صلاحیت بہتر کرتا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم آمدنی، صحت کے نتائج اور شہری شرکت میں بہتری لاتی ہے۔ بنیادی صحت کی بہتر سہولت تباہ کن طبی اخراجات میں کمی کرتی ہے۔ عوامی ٹرانسپورٹ لوگوں کے لیے روزگار تک رسائی بڑھاتی ہے۔ کم قیمت رہائش خاندانوں کو استحکام دیتی ہے۔ صاف پانی بیماری سے بچاتا ہے۔ مقامی حکومتیں چھوٹے مسائل کو بڑے بحران بننے سے پہلے حل کرتی ہیں۔

یہ نرم یا ثانوی مسائل نہیں۔ یہ ایک فعال معاشرے کا سخت بنیادی ڈھانچہ ہیں۔

پاکستان کو سلامتی کے تصور پر بھی ازسرِنو غور کرنا چاہیے۔ سلامتی محض ایک میزائل، ایک ٹینک یا کسی انٹیلی جنس فائل کا نام نہیں۔ سلامتی یہ اعتماد ہے کہ کوئی بچہ غذائی قلت کے باعث جسمانی نشوونما میں پیچھے نہیں رہ جائے گا؛ ایک بیٹی محفوظ طریقے سے کالج جا سکے گی؛ باپ کی بیماری پورے خاندان کو دیوالیہ نہیں کرے گی؛ مزدور کو وقت پر اجرت ملے گی؛ کسی بوڑھی عورت کو طلوعِ فجر سے پہلے گھر سے بے دخل نہیں کیا جائے گا؛ اور کسی کسان کی زمین، پانی اور روزگار اگلے قیاس آرائی پر مبنی منصوبے کی نذر نہیں ہوں گے۔

موسمیاتی تبدیلی سلامتی کے اس وسیع تر مفہوم کو ناگزیر بناتی ہے۔ سیلاب، گرمی کی لہریں، سموگ اور پانی کی قلت نہ سرحدوں کا لحاظ کریں گے، نہ صوبوں کا اور نہ جماعتی نعروں کا۔ ان کا سب سے پہلا اور شدید وار غریبوں پر ہو گا۔

اس لیے حکومت کو ایک سادہ مگر بنیادی رخ اختیار کرنا چاہیے۔ کامیابی کو صرف غیرملکی تعریف، ”لچک“ اور ”استقامت“ جیسے رسمی فقروں یا مالیاتی اشاریوں میں عارضی سکون سے ناپنا بند کرنا چاہیے۔ اس کے بجائے اسے عوامی فلاح کا ایک واضح پیمانہ شائع کرنا اور اس کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے : رسمی معیشت میں پیدا ہونے والی ملازمتوں کی تعداد؛ اسکول میں داخل اور تعلیم جاری رکھنے والے بچوں کی تعداد؛ سرکاری مراکز میں بنیادی ادویات کی دستیابی؛ شہری راستوں پر شامل کی جانے والی بسیں ؛ کم آمدنی والے خاندانوں کے گھروں کو بے دخلی سے ملنے والا تحفظ؛ صاف پانی رکھنے والی یونین کونسلیں ؛ اجرتی روزگار میں شامل ہونے والی خواتین؛ اور ایسے گھرانے جو غربت سے نکلیں اور دوبارہ اس میں نہ گریں۔

یہ سب دفاع یا سفارت کاری کی جگہ نہیں لے گا۔ یہ انہیں معنی دے گا۔

بشکریہ: ہم سب


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے