پاکستان کی سیاست اس وقت بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہوئی ہے اور ہر طرف ماچس کی تیلیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک طرف حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا دروازہ تقریباً بند ہے، دوسری طرف خیبر پختونخوا کی حکومت کے خلاف وائٹ پیپر سامنے آ چکا ہے، سہیل آفریدی کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگائے جا رہے ہیں، اور سیاسی حلقوں میں ایمرجنسی سے لے کر گورنر راج تک کے امکانات زیرِ بحث ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ اگلا قدم کیا ہو گا؛ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست ایک بار پھر مکالمے سے فیصلہ کرے گی یا تصادم سے؟
اس وقت اسلام آباد سے پشاور تک سیاسی فضا میں ایک عجیب بے یقینی ہے۔ کوئی نا اہلی کی بات کر رہا ہے، کوئی گورنر راج کا امکان بیان کر رہا ہے، کوئی ایمرجنسی کے خدشے کا ذکر کر رہا ہے اور کوئی تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کی کہانیاں سنا رہا ہے۔ لیکن ان سب کے درمیان ایک حقیقت بالکل واضح ہے: سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، جبکہ سیاسی رابطہ سکڑ رہا ہے۔ یہی وہ امتزاج ہے جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی بن سکتا ہے۔
مگر یہاں احتیاط ضروری ہے۔ سیاسی افواہ کو سیاسی فیصلہ سمجھ لینا بھی غلط ہے اور ہر امکان کو سازش قرار دینا بھی۔ سہیل آفریدی کے حوالے سے کئی باتیں گردش کر رہی ہیں، لیکن معروف صحافی کے مطابق عمران خان اور سہیل آفریدی کے درمیان اختلاف کی خبریں درست نہیں۔ لہٰذا اصل سوال افواہوں کا تعاقب نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت، پی ٹی آئی اور متعلقہ ادارے آئینی و سیاسی دائرے میں کیا قدم اٹھاتے ہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ بحران کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے : پاکستان میں سیاسی لڑائی اب صرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نہیں رہی؛ یہ بیانیوں، اداروں، صوبائی اختیار اور سیاسی بقا کی بیک وقت لڑائی بن چکی ہے۔
حکومت کے پاس طاقت ہے تو اسے کارکردگی اور آئینی اختیار کے ساتھ استعمال کرنا ہو گا۔ پی ٹی آئی کے پاس سیاسی حمایت اور خیبر پختونخوا میں حکومت ہے تو اسے بھی نعروں کے بجائے کارکردگی کا حساب دینا ہو گا۔ وفاق نے صوبائی حکومت کے خلاف وائٹ پیپر جاری کیا ہے تو جواب میں جذباتی تقریر سے زیادہ موثر چیز اعداد و شمار، منصوبوں کی تکمیل اور عوامی کارکردگی کا ریکارڈ ہو گا۔ کیونکہ اب عوام شاید یہ سن سن کر تھک چکے ہیں کہ قصوروار ہمیشہ دوسرا فریق ہے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے لیے کس نے کیا کیا۔
احسن بھون کی ڈگری کا تنازع بھی اسی وسیع سیاسی ماحول کا ایک حصہ ہے۔ اگر کسی شخصیت کی تعلیمی اہلیت پر سوال اٹھایا گیا ہے تو اس کا فیصلہ سیاسی بیانات یا الزام تراشی سے نہیں بلکہ متعلقہ ریکارڈ، ادارہ جاتی تصدیق اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ سیاسی ماحول میں ہر تنازع کو فوری طور پر سیاسی ہتھیار بنا دینا اصل سوال کو مزید الجھا دیتا ہے۔
اسی طرح حکومتی منصوبوں کو سیاسی خاندانوں کے نام سے منسوب کرنے کا معاملہ بھی توجہ طلب ہے۔ عوامی منصوبے عوام کے پیسے سے بنتے ہیں؛ انہیں کسی خاندان، جماعت یا فرد کی سیاسی ملکیت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے عوامی خدمت کی علامت ہونا چاہیے۔ ورنہ حکومتیں بدلتی رہیں گی، تختیاں اترتی اور لگتی رہیں گی، مگر عوام کے مسائل وہیں کھڑے رہیں گے۔
یہی شاید پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا المیہ ہے: ہم مخالف کو شکست دینے میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ ملک کو آگے لے جانے کا سوال پیچھے رہ جاتا ہے۔
آج سوال سہیل آفریدی کا ہے، کل کسی اور سیاسی رہنما کا ہو گا۔ آج خیبر پختونخوا زیرِ بحث ہے، کل کوئی دوسرا صوبہ ہو گا۔ آج وائٹ پیپر ہے، کل جواب میں دوسرا وائٹ پیپر آ جائے گا۔ مگر اگر سیاسی قوتوں نے یہ طے نہ کیا کہ اختلاف کا آخری راستہ مذاکرات، پارلیمنٹ اور آئین ہے تو پھر نام بدلتے رہیں گے، کردار بدلتے رہیں گے، مگر بحران کا اسکرپٹ وہی رہے گا۔


