مزاحمت کا اخلاق اور در گذر کا ظرف

شیئر کریں

کچھ واقعات اپنی ظاہری جسامت سے کہیں بڑے ہوتے ہیں۔ بظاہر وہ سڑک پر ہونے والی ایک تلخ کلامی، کسی با اثر شخص کے محافظوں کی زیادتی یا دو افراد کے درمیان پیدا ہونے والا تنازع دکھائی دیتے ہیں، لیکن کبھی کبھی انہی واقعات کے اندر پورے معاشرے کی نفسیات چھپی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عارف خان ساقی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی ایسا ہی تھا۔  ہمارے معاشرے میں بڑی گاڑی، مسلح محافظ، سیاسی تعلق اور سماجی حیثیت آخر کب سے قانون اور شہری وقار کا متبادل بن گئے؟ اب جبکہ معاملہ معذرت اور مفاہمت پر اختتام پذیر ہوا ہے، اس کہانی کا دوسرا رخ بھی لکھا جانا چاہیے۔ اور وہ رخ ہے ایک استاد کا اپنے وقار کے لیے کھڑا ہونا۔

ڈاکٹر عارف ساقی کے طرزِ عمل کی سب سے اہم بات یہ نہیں کہ تنازع کتنے دن جاری رہا، کس نے کس سے رابطہ کیا، کون درمیان میں آیا یا آخرکار کن بزرگوں کی موجودگی میں معاملہ طے پایا۔ اصل بات یہ ہے کہ جب واقعہ پیش آیا تو انہوں نے اسے معمول کی بدتمیزی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا۔ وہ بولے، اپنے موقف پر قائم رہے اور قانونی راستے کو اہمیت دی۔ ابتدائی مرحلے میں انہوں نے فوری مفاہمت کی پیشکش قبول کرنے کے بجائے قانونی کارروائی جاری رکھنے پر اصرار کیا تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ایک فرد کا معاملہ ایک بڑے سماجی سوال میں تبدیل ہو گیا: کیا طاقتور سمجھے جانے والے شخص کے سامنے ایک عام شہری، اور بالخصوص ایک استاد، اپنے احترام کے لیے کھڑا ہو سکتا ہے؟

ہمارے ہاں خاموشی کو اکثر مصلحت، برداشت کو کمزوری اور طاقت کے سامنے جھک جانے کو معاملہ فہمی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ شاید اسی لیے جب کوئی شخص طاقت کے ظاہری مظاہر کے سامنے کھڑا ہو جائے تو ہمیں حیرت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عارف ساقی کا موقف اسی اعتبار سے اہم تھا۔ انہوں نے ہمیں یاد دلایا کہ استاد کی طاقت کسی کے گرد کھڑے محافظوں، گاڑیوں کے قافلے یا سیاسی رسوخ میں نہیں ہوتی۔ اس کی اصل قوت اس کے اخلاقی مقام اور اس حق میں ہوتی ہے جو قانون ہر شہری کو دیتا ہے۔

اس سارے معاملے میں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ ہمارے معاشرے میں تنازعات بہت جلد انا کی جنگ بن جاتے ہیں۔ پھر اصل مسئلہ پیچھے رہ جاتا ہے اور سوال یہ بن جاتا ہے کہ کون جیتا اور کون ہارا۔ اگر کسی زیادتی کے بعد غلطی تسلیم کی جائے، معافی مانگی جائے اور متاثرہ شخص اسے قبول کر لے تو اسے شکست کیوں سمجھا جائے؟ معافی مانگنا اگر اخلاقی جرات ہے تو معافی قبول کرنا بھی ظرف کی علامت ہے۔ خصوصاً اس وقت جب متاثرہ شخص پہلے ہی یہ ثابت کرچکا ہو کہ وہ خوف یا دباؤ کے باعث خاموش نہیں ہوا۔

عارف ساقی صاحب نے خود اس انجام کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا کہ ”ایک استاد کے پیش نظر جو مقاصد ہونے چاہئیں، وہ سب حاصل ہو جانے کے بعد معاملہ بزرگوں کی موجودگی میں خوش اسلوبی سے طے پا گیا ہے۔“ اس ایک جملے میں شاید پورے واقعے کا حاصل موجود ہے۔ ایک استاد کا مقصد کسی کو ذلیل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اسے انتقام سے زیادہ اصلاح، اور شخصی فتح سے زیادہ اصول کی سربلندی عزیز ہونی چاہیے۔

یہاں لفظ ”خوش اسلوبی“ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس پر طنز بھی کیا جاسکتا ہے، سوالات بھی اٹھائے جا سکتے ہیں اور ہمارے معاشرتی طاقت کے ڈھانچے کے حوالے سے مختلف تعبیرات بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ لیکن کسی مصدقہ ثبوت کے بغیر یہ نتیجہ نکال دینا بھی مناسب نہیں کہ مفاہمت لازماً کسی سیاسی یا سماجی دباؤ کا نتیجہ تھی۔ جس شخص نے ابتدا میں کھڑے ہونے کا حوصلہ دکھایا، اس کے اپنے بیان کو بھی وہی اہمیت ملنی چاہیے جو ہم اس کے ابتدائی احتجاج کو دیتے ہیں۔

اصل کامیابی شاید یہ نہیں تھی کہ کسی ایک شخص کو سزا ملتی یا ایک تنازع مزید کئی مہینے چلتا۔ بڑی کامیابی یہ تھی کہ ایک ایسا واقعہ جسے شاید کسی دوسرے دن ”چھوڑیے صاحب، بڑے لوگ ہیں“ کہہ کر دفن کر دیا جاتا، عوامی گفتگو کا موضوع بن گیا۔ لوگوں نے ”ڈالا کلچر“ پر بات کی، مسلح طاقت کے اظہار پر سوال اٹھائے، استاد کے احترام کی بات کی اور یہ پوچھا کہ سڑک پر ایک عام شہری کی عزت کی ضمانت آخر کون دے گا۔

یہ واقعہ ہمارے لیے بھی آئینہ ہے۔ ہم اکثر طاقت کے کلچر پر تنقید کرتے ہیں لیکن طاقت کے سامنے کھڑے ہونے کی قیمت کوئی دوسرا ادا کرے، یہ چاہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سخت جملہ لکھنا آسان ہے؛ موقع پر اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا کہیں مشکل۔ اسی لیے ڈاکٹر عارف ساقی کے موقف کی اہمیت اس کے حتمی قانونی یا شخصی نتیجے سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کم از کم وہ خاموشی توڑی جس پر طاقت کے ایسے رویے پروان چڑھتے ہیں۔

”ڈالا کلچر“ میں بڑی گاڑی کو محض ایک گاڑی نہیں بلکہ ایک ذہنیت کی علامت کے طور پر دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ ڈالا نہیں، وہ نفسیات ہے جو سمجھتی ہے کہ سڑک پر گاڑی جتنی بڑی ہو گی، شہری حق بھی اتنا ہی بڑا ہو جائے گا؛ محافظ جتنے زیادہ ہوں گے، جواب دہی اتنی ہی کم ہو گی۔ عارف ساقی کے واقعے نے اس مفروضے کے سامنے ایک چھوٹا مگر معنی خیز سوالیہ نشان کھڑا کیا ہے۔ اور شاید یہی اس پورے واقعے کا سب سے خوبصورت اختتام ہے۔ ایک استاد کھڑا ہوا، اس نے آواز اٹھائی، معاملہ اجتماعی شعور کا حصہ بنا، دوسری طرف سے معذرت سامنے آئی اور پھر اس نے معاملے کو اپنی انا کی دائمی جنگ بنانے کے بجائے ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

عارف ساقی نہ خاموش ہوئے، نہ اپنے موقف سے بھاگے، اور نہ آخر میں انتقام کو مقصد بنایا۔ انہوں نے پہلے مزاحمت کا اخلاق دکھایا اور پھر درگزر کا ظرف۔ ہمارے جیسے معاشرے میں، جہاں طاقت دکھانا نسبتاً آسان اور طاقت رکھتے ہوئے جھکنا مشکل ہے، شاید دونوں رویوں کی ضرورت ہے۔


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے