ڈیجیٹل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال

شیئر کریں

پاکستان ایک مسلم اکثریتی ملک ہے، جہاں آبادی کی تقریباً 98 فیصد اکثریت مسلمان ہے۔ ایسے معاشرے میں سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ اور منفی استعمال نہ صرف غلط معلومات، نفرت انگیز مواد، اشتعال انگیزی اور فکری انتشار کے فروغ کا باعث بن رہا ہے، بلکہ مذہبی اور مسلکی حساسیت کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ بالخصوص مذہبی اختلافات اور حساس موضوعات سے متعلق مواد جب غیر ذمہ داری کے ساتھ سوشل میڈیا پر پھیلتا ہے تو اس کے اثرات محض ڈیجیٹل دنیا تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاشرتی تعلقات، باہمی اعتماد اور سماجی ہم آہنگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

اسی بدلتے ہوئے ڈیجیٹل ماحول اور اس سے پیدا ہونے والے چیلنجز کے تناظر میں گزشتہ دنوں کراچی میں UNDP پاکستان کے تحت ایک اہم مشاورتی مکالمہ منعقد ہوا، جس کا موضوع "ڈیجیٹل ماحول میں پُرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کے لیے مذہبی و دینی شخصیات کے کردار” تھا۔ اس مشاورت میں اس امر پر غور کیا گیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بڑھتے ہوئے غلط معلومات، نفرت انگیز مواد، اشتعال انگیزی اور انتہاپسندانہ رجحانات کے مقابلے میں مذہبی و دینی شخصیات  خود کتنی متاثر ہورہی ہیں اور وہ اس کے تدارک میں کس طرح مؤثر اور ذمہ دارانہ کردار ادا کر سکتی ہیں۔

موجودہ ڈیجیلائزڈ صورتِ حال میں خصوصی طور پر مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) پر مبنی ایپس اور ٹیکنالوجیز کا   تیزی سے بڑھتا ہوا استعمال  اہم چیلنج کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت تصاویر، ویڈیوز، آڈیو اور دیگر ڈیجیٹل مواد کی تیاری، تدوین اور ترسیل کے حوالے سے ابلاغ کے نئے اور مثبت امکانات  بھی پیدا کر رہی ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کا غیر ذمہ دارانہ اور منفی استعمال مذہبی اور سماجی سطح پر سنگین مسائل کو بھی جنم دے رہا ہے۔ خصوصاً دینی و مذہبی شخصیات، اداروں اور مختلف مذہبی و فکری گروہوں کے ایک دوسرے کے خلاف مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی، گمراہ اور مسخ شدہ یا اشتعال انگیز مواد تیار کرکے اسے سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلانے کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں، جس میں بعض اوقات جعلی فتوے، من گھڑت بیانات، تبدیل شدہ آڈیو و ویڈیوز اور کسی مذہبی یا فکری گروہ کے خلاف گمراہ کن مواد کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ وہ بظاہر حقیقی محسوس ہو۔ اسی طرح مخالف عقائد و نظریات کے خلاف منظم نوعیت کی ڈیجیٹل مہمات کے ذریعے عوامی جذبات کو متاثر کرنے، مذہبی اختلاف کو ہوا دینے اور باہمی بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش  بھی کی جا تی ہے۔ یہ صورتِ حال محض غلط معلومات کے پھیلاؤ تک محدود نہیں رہتی ہے اورجب مذہبی اختلاف، اشتعال انگیز مواد اور مسلسل ڈیجیٹل مہمات ایک دوسرے سے جڑ جائیں تو معاشرے میں عدم برداشت، باہمی بداعتمادی، مذہبی و مسلکی کشیدگی اور شدت پسندی و انتہاپسندی کے رجحانات کو تقویت ملنے کے امکانات بڑھ سکتے  ہیں۔

ہمارے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو کیسے ختم کیا جائے، بلکہ پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ  ان ذرائع کے ذریعے شدت پسندی اور انتہاپسندی کے رجحانات کیسے جنم لیتے ہیں، کیسے پھیلتے ہیں اور کس طرح خصوصاً نوجوانوں کی سوچ اور رویوں کو متاثر کرتے ہیں؟ جب ہم اس پورے عمل، اس کے محرکات اور اس کے پھیلاؤ کے طریقۂ کار کو سمجھنے میں کامیاب ہوں گے، تب ہی اس کے تدارک کے لیے مؤثر حکمتِ عملی وضع کی جا سکے گی اور یہ طے کرنا ممکن ہوگا کہ دینی، تعلیمی، سماجی اور ڈیجیٹل سطح پر کون سے اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا کے الگورتھمز  کا تصور، اثراندازی اور صارفین کے ڈیجیٹل رویوں کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا کا ماحول بعض اوقات صارف کو ایسے ڈیجیٹل حلقوں تک محدود کر دیتا ہے جہاں زیادہ تر وہی خیالات، آراء اور معلومات بار بار سامنے آتی ہیں جن سے وہ پہلے ہی اتفاق کرتا ہے۔ اس کیفیت کو عموماً Echo Chamber کہا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ الگورتھمز صارف کی سابقہ دلچسپیوں اور آن لائن سرگرمیوں کی بنیاد پر اسی نوعیت کا مواد زیادہ نمایاں کر سکتے ہیں۔ نتیجتاً مختلف نقطۂ نظر سے سامنا کم اور اپنے موقف کی مسلسل تائید اور توثیق کا احساس زیادہ مضبوط ہو سکتا ہے۔

جب سوشل میڈیا پر مذہبی، مسلکی، سیاسی یا سماجی اختلافات بار بار جذباتی اور اشتعال انگیز انداز میں پیش کیے جائیں تو لوگوں میں یہ سوچ پیدا ہوسکتی ہے کہ ہم درست ہیں اور وہ غلط ہیں۔ اس کے بعد مخالف رائے رکھنے والے شخص کو صرف ایک مختلف رائے رکھنے والا انسان سمجھنے کے بجائے اسے گمراہ، مخالف یا دشمن سمجھنے کا رجحان پیدا ہوسکتا ہے۔یعنی مسئلہ اختلافِ رائے  کانہیں، بلکہ اختلاف کو اس حد تک لے جانا ہے کہ دوسرا شخص قابلِ احترام نہ رہے۔ مثلاً کسی مذہبی یا مسلکی مسئلے پر دو افراد کی مختلف آراء ہوسکتی ہیں۔ صحت مند رویہ یہ ہے کہ دونوں اپنے دلائل پیش کریں اور ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں۔ لیکن اگر سوشل میڈیا پر مسلسل یہ پیغام دیا جائے کہ جو ہمارے موقف سے مختلف ہے وہ غلط، گمراہ یا ہمارا دشمن ہے تو یہ سوچ نفرت، عدم برداشت اور باہمی فاصلے کو بڑھا سکتی ہے۔ اس مرحلے پر اختلافِ رائے بتدریج عدم برداشت، نفرت اور بعض حالات میں تشدد کو جائز یا قابلِ قبول سمجھنے کے رجحان کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ تاہم یہاں ایک بنیادی فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ ہر سخت، تلخ، متنازع یا غیر مقبول رائے لازماً انتہاپسندی یا تشدد پر اکسانے کے زمرے میں نہیں آتی۔ آزادیِ اظہار، اختلافِ رائے اور تنقیدی گفتگو ایک متنوع معاشرے کا لازمی حصہ ہیں۔ اصل چیلنج اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختلافِ رائے، تنقید یا مذہبی اختلاف نفرت، امتیاز، دشمنی یا تشدد پر اکسانے کی صورت اختیار کرنے لگے۔ لہٰذا مسئلے کا حل سوشل میڈیا یا مصنوعی ذہانت کو مسترد کرنا نہیں، بلکہ ان ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال، ڈیجیٹل اخلاقیات، تنقیدی شعور، معتبر معلومات تک رسائی اور مثبت متبادل بیانیے کو فروغ دینا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اہلِ مذاہب، تعلیمی اداروں، سماجی رہنماؤں، میڈیا اور بالخصوص نوجوانوں کی ذمہ داری اہم ہو جاتی ہے کہ وہ ڈیجیٹل دنیا کو اختلاف اور نفرت کی آماجگاہ بنانے کے بجائے علم، مکالمے، برداشت، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کا ذریعہ بنائیں۔

پُرتشدد انتہاپسندی اور نفرت کے رجحانات کے تدارک کے لیے مذہبی بیانیے کی اہمیت کو سمجھنا بھی  ضروری ہے ۔ کیونکہ  مذہب انسانی رویوں، اخلاقیات اور اجتماعی اقدار کی تشکیل میں گہرا اثر رکھتا ہے۔ اسی لیے مذہبی و دینی شخصیات کی ذمہ داری محض مذہبی تعلیمات بیان کرنے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ موجودہ دور کے ابلاغی ذرائع اور ان کے اثرات کو سمجھنا اور ان کے ذریعے اعتدال، رواداری، احترام، اخلاق اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا پیغام مؤثر انداز میں پہنچانا بھی ان کی اہم ذمہ داری ہے۔ اسلامی تعلیمات میں خبر کی تحقیق، عدل، انسانی احترام، حسنِ گفتگو، بدگمانی سے اجتناب اور اختلاف کے باوجود اخلاقی حدود برقرار رکھنے پر واضح رہنمائی موجود ہے۔ قرآنِ کریم کا اصول "فَتَبَيَّنُوا” آج کے ڈیجیٹل دور میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی خبر یا دعوے کو تصدیق کے بغیر آگے نہ بڑھانا، کسی فرد یا گروہ پر بلا تحقیق الزام نہ لگانا اور جذباتی یا اشتعال انگیز مواد کو سوچے سمجھے بغیر شیئر نہ کرنا دراصل ڈیجیٹل اخلاقیات کا بنیادی تقاضا ہے۔

تاہم عملی صورتِ حال کا ایک اہم اور قابلِ توجہ پہلو یہ بھی ہے کہ بعض اوقات مذہبی حلقوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف منفی ردِعمل، سخت زبان، الزام تراشی اور اشتعال انگیز بیانیے بھی نفرت اور شدت پسندی کے رجحانات کو تقویت دے سکتے ہیں۔ جب کسی مذہبی یا مسلکی موقف کا جواب علمی، مہذب اور مدلل مکالمے کے بجائے تحقیر، تمسخر، تکفیر، الزام یا جذباتی ردِعمل سے دیا جائے تو اختلافِ رائے بتدریج باہمی نفرت، عدم برداشت اور تصادم کی فضا پیدا کر سکتا ہے۔یہ صورتِ حال اس وقت مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے جب ایسے بیانات مختصر ویڈیوز، تراشے ہوئے کلپس، وائرل پوسٹس یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی اور گمراہ کن مواد کے ذریعے تیزی سے پھیلائے جائیں۔ ایک محدود یا مقامی نوعیت کا اختلاف بھی اس طرح وسیع تر مذہبی اور مسلکی کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔ بالخصوص نوجوان طبقہ، جو مختصر ویڈیوز، سوشل میڈیا پوسٹس، پوڈکاسٹس اور دیگر فوری نوعیت کے ڈیجیٹل مواد سے تیزی سے متاثر ہوتا ہے، ایسے جذباتی اور اشتعال انگیز مواد کے نتیجے میں مخالف مذہبی یا مسلکی گروہ کے بارے میں منفی تصورات قائم کر سکتا ہے۔

لہٰذا  اہلِ مذہبی طبقات  کا کردار صرف انتہاپسندانہ یا نفرت انگیز مواد کی تردید تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ انہیں ایک مثبت اور تعمیری متبادل بیانیہ تشکیل دینے میں بھی فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ اختلافِ رائے ایک فطری حقیقت ہے، لیکن اس اختلاف کو نفرت، تحقیر، تکفیر یا تشدد کے بیانیے میں تبدیل ہونے سے روکنا مذہبی قیادت کی اہم سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لیے دینی و مذہبی حلقوں کو روایتی طویل خطابات اور تحریروں کے ساتھ ساتھ Short Videos، Podcasts، Infographics، Live Sessions اور Interactive Q&A جیسے جدید ڈیجیٹل ذرائع کو بھی مؤثر طور پر اختیار کرنا ہوگا۔ مقصد صرف سوشل میڈیا پر موجودگی برقرار رکھنا نہیں، بلکہ نوجوانوں کے سوالات، خدشات، فکری الجھنوں اور ڈیجیٹل رویوں کو سمجھتے ہوئے ان کی زبان، ان کے ابلاغی انداز اور ان کے ڈیجیٹل ماحول میں بامقصد، علمی اور باوقار مکالمہ قائم کرنا ہے۔ یوں مذہبی قیادت کا کردار محض ردِعمل تک محدود رہنے کے بجائے مثبت متبادل کی تشکیل تک پہنچ سکتا ہے۔ ایسا متبادل جو نوجوانوں کو نفرت کے بجائے مکالمہ، اشتعال کے بجائے تحمل، تعصب کے بجائے احترام، اور شدت پسندی کے بجائے اعتدال اور ذمہ دارانہ دینی و سماجی کردار کی طرف رہنمائی فراہم کرے۔ ساتھ ہی سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کو محض ٹیکنالوجی کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے ڈیجیٹل اخلاقیات، ذمہ دارانہ ابلاغ، مذہبی ہم آہنگی، سماجی امن اور نوجوانوں کی فکری و اخلاقی تربیت کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے۔ اس مقصد کے لیے مختلف مکاتب فکر کے دینی و مذہبی  پیشوا، رہبر و رہنما،  عصری تعلیمی اداروں،  دینی مدارس، جامعات، سول سوسائٹی، میڈیا اور نوجوانوں ، سب  کو مل کر اپنے اپنے دائرۂ کار میں ذمہ دارانہ اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

اس سلسلے میں عملی اقدامات کا آغاز دینی مدارس و جامعات اور عصری تعلیمی اداروں سے کیا جا سکتا ہے۔ پہلے مرحلے میں اساتذہ اور دینی رہنماؤں کے لیے Digital Literacy، Media Literacy، AI Awareness، Fact-Checking، Online Safety اور Digital  Ethics پر مبنی مختصر تربیتی کورسز متعارف کرائے جائیں، تاکہ وہ نہ صرف ڈیجیٹل دنیا کے چیلنجز کو سمجھ سکیں بلکہ طلبہ اور معاشرے کی مؤثر رہنمائی بھی کر سکیں۔ دوسرے مرحلے میں یہی تربیت طلبہ اور نوجوانوں تک منتقل کی جائے، جس میں انہیں خبر کی تصدیق، جعلی اور مصنوعی مواد کی شناخت، اختلافِ رائے کے آداب، نفرت انگیز مواد سے نمٹنے اور ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال کی عملی تربیت دی جائے۔ اس کے ساتھ دینی و مذہبی شخصیات کو مثبت اور متبادل ڈیجیٹل بیانیے کی تیاری کی طرف بھی متوجہ ہونا ہوگا، تاکہ نوجوانوں کے سوالات، فکری الجھنوں اور عصری مسائل کا جواب ان کی اپنی زبان اور ان کے پسندیدہ ڈیجیٹل فارمیٹس میں دیا جا سکے۔ مختصر ویڈیوز، پوڈکاسٹس، لائیو سیشنز، سوال و جواب، معلوماتی گرافکس اور دیگر مؤثر ذرائع کے ذریعے علم، اعتدال، رواداری، احترام اور مکالمے کا پیغام عام کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح مذہبی و مسلکی حلقوں کے درمیان Digital Dialogue and Responsible Religious Communication کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے اور ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز یا نفرت پر مبنی مواد کے بجائے علمی اور باوقار مکالمے کی روایت مضبوط ہو۔ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی مواد کے بڑھتے ہوئے چیلنج کے پیشِ نظر مذہبی اداروں اور تعلیمی مراکز میں Fact-Checking اور AI-generated Content Awareness کے حوالے سے بھی خصوصی تربیت اور آگاہی پروگرام شروع کیے جانے چاہییں۔ بالآخر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈیجیٹل دنیا سے دوری مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ اس میں ذمہ دارانہ، اخلاقی اور تعمیری شرکت ہی اصل ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنے اساتذہ کو ڈیجیٹل رہنما، اپنے طلبہ کو ذمہ دار ڈیجیٹل شہری، اور اپنی مذہبی قیادت کو Digital First Responders کے طور پر تیار کر سکیں تو سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت محض خطرے کا ذریعہ نہیں رہیں گے بلکہ علم، اصلاح، مکالمے، مذہبی ہم آہنگی اور سماجی امن کے مؤثر ذرائع بن سکتے ہیں۔


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے