یمن ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے ہوئے تزویراتی نقشے کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ چند برس کی نسبتاً خاموشی، غیر علانیہ جنگ بندی اور سعودی عرب و حوثیوں کے درمیان مذاکرات کے بعد مغربی یمن میں لڑائی کے اچانک بھڑک اٹھنے کو محض ایک مقامی فوجی پیش رفت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر حوثی واقعی بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں، بالخصوص بندرگاہ مخا اور باب المندب کے قریب واقع اہم جزائر پر اپنا کنٹرول مستحکم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے اثرات یمن کی سرحدوں سے کہیں آگے، عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور مشرقِ وسطیٰ کے طاقت کے توازن تک پہنچ سکتے ہیں۔ مخا پر حوثیوں کا قبضہ اور باب المندب کے قریب پریم، جسے میون بھی کہا جاتا ہے، جیسے مقامات پر ان کی پیش قدمی اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن سے ملانے والی دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے۔ ایک طرف بحیرۂ احمر نہرِ سویز کے ذریعے یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کا مختصر راستہ فراہم کرتا ہے، دوسری طرف خلیج میں آبنائے ہرمز پہلے ہی شدید کشیدگی سے متاثر ہے۔ چنانچہ اگر ہرمز اور باب المندب دونوں بحری گزرگاہوں پر خطرات بڑھتے ہیں تو عالمی توانائی اور تجارتی نظام پر دباؤ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے لیے یمن کا بحران اب محض جنوبی سرحد کی سلامتی کا مسئلہ نہیں رہا۔ حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیت پہلے ہی سعودی شہروں، ہوائی اڈوں اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت دکھا چکی ہے۔ اب اگر انہیں بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب مستقل عسکری موجودگی حاصل ہو جاتی ہے تو ریاض کے لیے خطرہ ایک نئی نوعیت اختیار کر جائے گا۔ سعودی عرب کو ایک ایسے مخالف کا سامنا ہو گا جو زمینی سرحد کے ساتھ ساتھ سمندری راستوں اور عالمی توانائی کی ترسیل کو بھی دباؤ میں لانے کی صلاحیت کا حامل ہو گا۔
تاہم حوثیوں کو صرف ایران کا ”پراکسی“ قرار دینا بھی اس پیچیدہ صورتحال کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دیتا ہے۔ ایران نے بلاشبہ حوثیوں کی عسکری صلاحیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسلحہ، ٹیکنالوجی، تربیت اور جنگی مہارت نے ایک مقامی باغی تحریک کو ایسی قوت میں تبدیل کیا جو میزائل اور ڈرونز کے ذریعے یمن سے سیکڑوں میل دور اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن حوثیوں کی اپنی سیاسی قیادت، مقامی مفادات اور یمن کے اندر اقتدار کی اپنی حکمت عملی بھی ہے۔ چنانچہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ ایران اور حوثیوں کے مفادات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں، نہ کہ حوثی خود کو تہران کے ہر حکم پر عمل کا پابند سمجھتے ہیں۔ موجودہ حالات میں اصل تبدیلی یہ ہے کہ اب دونوں کے علاقائی مفادات پہلے سے زیادہ قریب دکھائی دیتے ہیں۔ ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی توانائی کی ترسیل پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ حوثی باب المندب کے ذریعے بحیرۂ احمر کی جہاز رانی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یوں خطے کے دونوں کناروں پر موجود دو اہم آبی گزرگاہیں ایک وسیع تر جغرافیائی دباؤ کے حصار میں آ سکتی ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو موجودہ یمنی بحران کو سابقہ خانہ جنگی سے مختلف بناتا ہے۔
یمن کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے اس تحریک کی تاریخ کو بھی نظر میں رکھنا ضروری ہے۔ حوثی تحریک کی جڑیں شمالی یمن کی زیدی مذہبی و سیاسی روایت میں ہیں اور ابتدا میں اس کی توجہ سیاسی محرومی، بدعنوانی اور بیرونی مذہبی اثرات کی مخالفت پر مرکوز تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تحریک عسکری قوت میں تبدیل ہوئی۔ 2014 میں صنعا پر قبضے اور 2015 میں سعودی قیادت والے اتحاد کی فوجی مداخلت نے یمن کو ایک طویل اور تباہ کن جنگ میں دھکیل دیا۔ اس جنگ نے نہ حوثیوں کو ختم کیا اور نہ ہی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو پورے ملک پر دوبارہ اختیار دلا سکا۔ 2022 کی جنگ بندی نے امید ضرور پیدا کی کہ یمن بالآخر سیاسی تصفیے کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست رابطوں اور بعد ازاں سعودی عرب اور ایران کے سفارتی تعلقات کی بحالی نے اس امید کو مزید تقویت دی۔ لیکن یمن کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کئی طاقتیں بیک وقت سرگرم ہیں۔ حوثیوں کے علاوہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت، جنوبی علیحدگی پسند قوتیں، مقامی قبائل اور مختلف علاقائی پشت پناہی رکھنے والے عسکری دھڑے موجود ہیں۔ اس لیے کسی ایک فریق کے ساتھ معاہدہ پورے یمن میں پائیدار امن کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ تازہ لڑائی میں لاکھوں نہیں تو کم از کم دسیوں ہزار افراد کے بے گھر ہونے اور سیکڑوں ہلاکتوں کی اطلاعات ایک بار پھر یاد دلاتی ہیں کہ اس تنازع کا سب سے بڑا بوجھ یمنی عوام اٹھا رہے ہیں۔ برسوں کی جنگ نے ملک کے بنیادی ڈھانچے، معیشت اور صحت کے نظام کو تباہ کیا ہے۔ عالمی طاقتوں کی توجہ اکثر میزائلوں، بندرگاہوں اور بحری راستوں پر مرکوز رہتی ہے مگر یمن کے عام شہری کے لیے اصل مسئلہ خوراک، روزگار، علاج اور محفوظ گھر ہے۔
اس صورتحال میں پاکستان کے لیے بھی معاملہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ نئے دفاعی انتظامات کے بعد اگر ریاض اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم وسیع ہوتا ہے تو اسلام آباد پر سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان کا مفاد واضح طور پر یہی ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات اور دفاعی ذمہ داریوں کو برقرار رکھتے ہوئے یمن کی جنگ میں براہِ راست فوجی مداخلت سے حتی الامکان گریز کرے۔ ماضی میں پاکستانی پارلیمان کا یمن جنگ میں غیر جانب دار رہنے کا فیصلہ اسی محتاط حکمتِ عملی کی مثال تھا۔ اس پس منظر میں آج ضرورت اس امر کی ہے کہ یمن کو محض ایران اور سعودی عرب کی کشمکش کے ایک میدان کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر باب المندب غیر مستحکم ہوتا ہے تو اس کے اثرات جہاز رانی، تیل کی قیمتوں، عالمی سپلائی چین اور بالآخر پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس لیے یمن کا بحران اب صرف صنعا، ریاض یا تہران کا مسئلہ نہیں رہا۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا علاقائی اور عالمی طاقتیں یمن کو ایک اور مستقل جنگ کے میدان میں تبدیل ہونے سے روک سکتی ہیں؟ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی اور باب المندب بھی خطے کی دوسری متنازع آبی گزرگاہوں کی طرح محاذِ جنگ بن گیا تو اس کے نتائج صرف یمن کے لیے نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں لہٰذا یمن میں امن دراصل ایک ملک کا امن نہیں بلکہ یہ بحیرۂ احمر، خلیجِ عدن، خلیج فارس اور حتیٰ کہ پوری عالمی تجارت کے مستقبل کا سوال ہے۔


