کچھ افراد انسانیت سے ہمدردی کے بلندو بانگ دعووں کے باوجود انسانیت کے لیے دردسر بن کے رہ گئے ہیں۔ امریکی سرمایہ دار بل گیٹس ان افراد میں سر فہرست ہیں۔ ایسا معلوم ہونے لگا ہے کہ کوئ پتھر بھی اٹھاؤ تو نیچے سے ان صاحب کا کوئ نیا کارنامہ برآمد ہوگا۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر بل گیٹس اور پاکستان کے وزیراعظم کی ملاقات انتہائی معنی خیز تھی۔ اس ملاقات کا پس منظر جاننا اور اسکی گہرائی میں جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس ملاقات میں پاکستانی زراعت میں نئی ایگری ٹیک کے استعمال پر بات ہوئی، اور دونوں فریقوں نے بہتر بیجوں، مویشیوں کی جینیاتی بہتری اور ابھرتی ہوئی زرعی ٹیکنالوجیز میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔
بظاہر تو یہ ملاقات بڑی خوش آئند معلوم ہوتی ہے مگر جب مائیکروسافٹ کے بانی کے کارناموں پر نظر دوڑائیں تو چودہ نہیں پندرہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ بظاہر ترقی کا منظر نامہ پیش کرتیں بل گیٹس کی زرعی ٹیکنالوجیز درحقیقت ایک ایسا جال ہے جو آپ کی تھالی، آپ کی روٹی، آپ کے دودھ، آپ کے گوشت حتی کہ آپ کے کھیت کھلیان میں پڑنے والے بیج تک کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔
ان صاحب کے پاس دو لاکھ بیالیس ہزار ایکڑ سے زیادہ زرعی زمین ہے، جو کہ امریکہ کی تقریباً بیس ریاستوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ بل گیٹس اس وقت امریکہ کی سب سے بڑی نجی زرعی زمین کے مالک ہیں۔ انکے نزدیک یہ محض سرمایہ کاری نہیں ہے بلکہ یہ انکا ایک اسٹریٹجک منصوبہ ہے۔ اب جب دنیا کے امیر ترین اشخاص میں شامل ان کی نظر پاکستان کے کھیتوں پر ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عالمی خوراک کی پیداوار پر کنٹرول کی انکی یہ ہوس پاکستان کے لئے کیسے نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ بل گیٹس نے کن امور پر وزیراعظم کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیا واقعی “بہتر بیج” اور “جدید ٹیکنالوجی” کے ذریعے پاکستان میں اجناس کی پیداوار کو بڑھایا جاسکتا ہے یا یہ ٹیکنالوجی کے نام پرپاکستان کو ایک نئے نوآبادیاتی نظام کی طرف دھکیلنے کی سازش ہے؟
ہزاروں سال سے کسان کا سب سے بنیادی حق کیا تھا؟ اپنی فصل سے بچا ہوا بیج اگلے سال مفت بونا۔
زمین اللہ کی، بیج اللہ کا، کسان آزاد۔ لیکن پھر ٹرپس معاہدہ آیا جس کے ذریعے ممالک کو مجبور کیا گیا کہ وہ بیجوں پر بھی پیٹنٹ یعنی ملکیت دیں۔ یہ وہی معاہدہ ہے جسکے بارے میں ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم بھی خبردار کر گئے۔ اس معاہدے کے تحت پیٹنٹ شدہ بیج زیادہ مہنگے ہو جاتے ہیں اور کسانوں کے بیج کو بچانے، دوبارہ استعمال کرنے، بدلنے اور بیچنے کا حق ختم ہو جاتا ہے اور پھر غریب دہقان اپنی ہی زمین پرایک کمپنی کا محکوم بن جاتا ہے۔ بل گیٹس کے پورے کھیل کی بازی اسی ٹرپس معاہدے کی آڑ میں سجائی گئی ہے!
بل گیٹس کا زرعی کاروبار ایک پورا کنٹرول سسٹم ہے جس کا نام “گیٹس ایگ ون” ہے۔ 2020 میں قائم ہونے والا یہ منصوبہ بظاہر چھوٹے کسانوں کی مدد کے لیے ہے لیکن اس کا اصل ایجنڈا زراعت کے ہر پہلو پر کارپوریٹ کنٹرول ہے۔ اس کا پہلا ہتھیار “خود کھاد ڈالنے والی فصلیں” ہیں، جن کے لیے 35 ملین ڈالر کی گرانٹ دی جا رہی ہے تاکہ فصلوں کو جینیاتی طور پر تبدیل کیا جا سکے اور وہ خود ہی نائٹروجن حاصل کر لیں، لیکن یہ کسان کو کھاد کی عالمی کمپنیوں سے آزاد کرنے کے بجائے ایک نئی قسم کی محکومی میں دھکیلتی ہیں۔ یعنی کسان کو ہر فصل کے ساتھ نہ صرف نیا بیج خریدنا ہو گا، بلکہ یہ مائکروبیل کھاد بھی ہر بار نئی خریدنی ہو گی، جس پر مسلسل رائلٹی ادا کرنی پڑے گی۔ انڈیا کے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق، 1995 سے اب تک وہاں تقریباً تین لاکھ کسان خودکشی کر چکے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، ہر تیس منٹ میں ایک کسان خودکشی کرتا ہے۔ کیونکہ مہنگے کھاد اور بیجوں نے اور اس کے اوپر آنے والے قرضے نے ان کسانوں کی کمر توڑ دی ہے۔
اس سے بھی آگے، “Gates Ag One” کا ایجنڈا صرف بیج اور کھاد تک محدود نہیں۔ یہ ڈیجیٹل نقشہ سازی کے ذریعے کسان کے علم اور اس کی زمین کے ڈیٹا پر بھی قبضہ کر رہا ہے۔ فصلوں کے جینوم کی ڈیجیٹل نقشہ سازی کے بعد، کمپنی کو کسان کی اجازت کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ وہ جینیاتی معلومات کو پیٹنٹ کر چکی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، کھیتوں میں لگائے گئے سینسر اور ڈیجیٹل ایکسٹینشن سسٹم مٹی کی نمی، موسم، اور پودوں کی صحت کا ڈیٹا جمع کرتے ہیں جس سے کسان کے پاس اپنی زمین کی معلومات پر کوئی کنٹرول نہیں رہتا۔ یوں کسان نہ صرف اپنے بیج اور کھاد کا محتاج ہوتا ہے، بلکہ اپنی ہی زمین کی بدلی ہوئی کیمیائی خصوصیات کے علم اور ڈیٹا سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔ اسکا نتیجہ یہ ہوگا کہ عملی طور پر زمین کو زرخیز یا بنجر کرنے کا کنٹرول کمپنی کے پاس ہوگا۔ یہ سب کچھ اس لیے ممکن ہو پاتا ہے کیونکہ “Gates Ag One” نے “One CGIAR” کے ذریعے دنیا کے بیجوں کے بینکوں (Seed Banks) اور تحقیقی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جہاں دنیا بھر کے کسانوں کے صدیوں پرانے بیج جمع ہیں۔ ان بینکوں سے حاصل کردہ جینیاتی مواد میں معمولی تبدیلی کر کے اسے پیٹنٹ کر لیا جاتا ہے، اور پھر اسے اسی کسان کو بیچا جاتا ہے جس کے آباؤ اجداد نے وہ بیج پیدا کیے تھے۔ یہ سراسر “بایو پائریسی” ہے، یعنی مقامی علم اور حیاتیاتی تنوع کی چوری، جسے قانونی تحفظ دے کر ناقابل تردید بنایا جا رہا ہے۔
بل گیٹس کی بایو پائریسی کی ایک اور مثال جی ایم کیلا ہے جسے بل گیٹس نے ایک آسٹریلوی سائنسدان ڈاکٹر جیمز ڈیل کی معرفت انڈیا اور یوگنڈا پر مسلط کرنے کی کوشش کی جہاں کسان صدیوں سے کیلے کی سینکڑوں اقسام اگاتے آ رہے ہیں۔ انڈیا میں 75 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں اور اس کا حل قدرت نے امرنتھ (چولائی) کی صورت میں فراہم کیا تھا، جس میں بھاری مقدار میں آئرن موجود ہے۔ لیکن اس “غریب آدمی کی خوراک” کو سوچی سمجھی سازش کے تحت تباہ کر دیا گیا اور اسکے متبادل کے طور پر مہنگے، پیٹنٹ شدہ، اور خطرناک “جی ایم کیلا” کو پیش کیا جا رہا ہے۔
پھلوں، سبزیوں اور اناج کی پیداوار پر کنٹرول غالباً بل گیٹس کے حساب سے ناکافی تھا اسی لئے خوراک پر کنٹرول کے اس کھیل میں انکا ایک اور روپ سامنے آ رہا ہے۔ بل گیٹس اور ان کے ارب پتی ساتھی رچرڈ برانسون، لیب میں تیار ہونے والے گوشت میں بڑی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اس بارے میں ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ ماحول دوست ہے اور جانوروں پر ظلم نہیں ہوتا۔ لیکن اس “صفائی” کے پردے کے پیچھے کیا کچھ چھپا ہے، یہ جاننا ضروری ہے۔ لیب میں تیار ہونے والا گوشت ایک انتہائی پروسیسڈ فوڈ ہے، اور ایسی خوراک کھانے والوں میں موت کا خطرہ چار فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن اصل خطرہ تو اس سے بھی گہرا ہے۔ یہ گوشت بنانے کے لیے خلیوں کو لیبارٹری میں بے قابو طریقے سے بڑھایا جاتا ہے، اور سائنسدان خود تسلیم کرتے ہیں کہ خلیوں کی اس حد سے زیادہ افزائش کے دوران جینیاتی عدم استحکام کا امکان ہوتا ہے جو کینسر جیسی خصوصیات کا باعث بن سکتا ہے۔ کچھ کمپنیاں خلیوں کو ہمیشہ زندہ رکھنے اور بڑھنے کے لیے “آنکو جینز” استعمال کرتی ہیں، جو کہ کینسر پیدا کرنے والے جینز ہیں۔
یورپی یونین کے فوڈ سیفٹی ادارے نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس گوشت میں بھاری دھاتیں، مائیکرو پلاسٹک، صفائی کے کیمیکل، اور اینٹی بایوٹک کی باقیات بھی موجود ہو سکتی ہیں۔ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ خود یورپی ادارے نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اس گوشت کے صحت پر پڑنے والے اثرات کا مکمل جائزہ نہیں لے سکتے کیونکہ کمپنیاں اپنی “کاروباری رازداری” کے نام پر معلومات فراہم نہیں کرتیں۔ یہی خوراک پر عالمی کنٹرول کا وہ نظام ہے جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ جب آپ کا بیج اور خوراک کسی اور کے ہاتھ میں چلی جائے گی، تو وہ آپ کو یہ “مصنوعی خوراک” کھلائیں گے۔ یہ خوراک آپ کا پیٹ تو بھر سکتی ہے، لیکن آپ کے جسم کو وہ طاقت نہیں دے گی جو قدرت نے اصل اناج، سبزی اور گوشت میں رکھی تھی۔ یہ آپ کو بیمار اور کمزور کرے گی اور پھر انہی کمپنیوں کی بنائی ہوئی دوائیں آپ کو بیچی جائیں گی جو کہ خود ٹریلین ڈالر انڈسٹری ہے۔
یہ سارا نظام “فلانتھرو کیپیٹلزم” کی بدترین مثال ہے جو جمہوریت کے لیے ایک زہر ہے۔ یہ ایک ایسے نظام کا اغاز ہے جہاں انسان کے پاس اپنی خوراک کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہوگا اور اس کی روزی روٹی کا فیصلہ وہ مٹھی بھر کمپنیاں کریں گی جو اس نئے عالمی نظام کو چلا رہی ہون گی۔ اگر پاکستان نے دوررس نتائج کو جانچے بغیر بل گیٹس کے ساتھ ان معاملات میں جلد بازی سے کام لیا تو مستقبل میں اسکے تباہ کن اثرات سامنے آ سکتے ہیں اور پاکستان خوراک کی پیداوار میں اپنی خودمختاری سے ہاتھ دھو سکتا ہے۔ رب کریم ہمارے حکمرانوں کو عالمی سازشیں سمجھنے اور ان کو بہترین طریقے سے نبٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


