کام کی جگہ پر خواتین سے بدسلوکی اور غیر محفوظ ماحول کے نتائج

شیئر کریں

ستمبر 2026 میں وفاقی آئینی عدالت نے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ کے قانون کی تشریح کرتے ہوئے ایک مقدمہ میں اہم فیصلہ سنایا۔ یہ مقدمہ نیشنل بینک آف پاکستان کی ایک ملازمہ نادیہ سرور کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے سے متعلق تھا۔ انہوں نے اپنے ساتھی ملازمین پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ جس میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ بھی شامل تھے نے یہ فیصلہ سنایا، جبکہ فیصلہ جسٹس علی باقر نجفی نے تحریر کیا۔ عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور صدرِ پاکستان کا فیصلہ بحال کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ کام کی جگہ پر عام بدتمیزی، دھونس، تضحیک یا اختیارات کا ناجائز استعمال، اگر اس میں جنسی نوعیت یا جنسی پہلو شامل نہ ہو، تو کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ کے قانون کے تحت وفاقی محتسب کے سامنے ہراساں کرنے کا مقدمہ نہیں بنتا۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ادارے ایسی غیرجنسی بدسلوکی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف اپنے داخلی ملازمتی ضوابط اور محکمانہ قوانین کے تحت کارروائی کر سکتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس قانون کا اطلاق بنیادی طور پر ایسے رویوں پر ہوتا ہے جن میں جنسی نوعیت یا جنسی پہلو موجود ہو۔ یہ تشریح سپریم کورٹ کی بعض سابقہ تشریحات سے مختلف ہے، جن میں کام کی جگہ پر ناگوار ماحول، امتیازی سلوک اور دیگر نامناسب رویوں کو بھی وسیع تر معنوں میں ہراساں کرنے کے دائرے میں شامل کیا گیا تھا۔

اس فیصلے کے نتیجے میں کام کی جگہ پر ہونے والی غیر جنسی بدسلوکی، دھونس، تضحیک اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق شکایات کے قانونی دائرہ کار پر اہم سوالات اٹھے ہیں۔

نادیہ سرور نیشنل بینک آف پاکستان میں دو ہزار آٹھ سے ملازمت کر رہی تھیں۔ ان کا موقف تھا کہ کام کی جگہ پر انہیں اپنے دو افسران کی جانب سے ہراساں کیے جانے، نامناسب رویے اور بعد ازاں شکایت کرنے پر انتقامی طرزِ عمل کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے سب سے پہلے چوبیس ستمبر دو ہزار بارہ کو بینک کے صدر کو شکایت دی، لیکن ان کے مطابق اس پر موثر کارروائی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد ان کی ٹیم تبدیل کی گئی۔ نادیہ سرور کا موقف تھا کہ شکایت کے بعد ان کے خلاف نامناسب رویے اور پیشہ ورانہ دباؤ کا سلسلہ جاری رہا۔ انہوں نے جون دو ہزار تیرہ میں متعلقہ افسر کو ٹیلی فون اور ای میل کے ذریعے بھی معاملہ اٹھایا اور پھر دو جولائی دو ہزار تیرہ کو دوبارہ بینک کے صدر کو شکایت دی۔ بینک کی طرف سے موثر داخلی انکوائری نہ ہونے کا موقف اختیار کرتے ہوئے نادیہ سرور نے تین ستمبر دو ہزار تیرہ کو وفاقی محتسب برائے تحفظِ خواتین سے رجوع کیا۔

مقدمے میں بنیادی تنازع صرف یہ نہیں تھا کہ نادیہ سرور کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا یا نہیں، بلکہ یہ بھی تھا کہ:

٭ کیا ان کی شکایت قانونِ تحفظِ خواتین کے تحت ”ہراساں کرنے“ کے زمرے میں آتی تھی؟
٭ کیا وفاقی محتسب نے شواہد کا درست جائزہ لیا؟
٭ کیا بعد میں پیش کیے گئے بعض شواہد یا الزامات کو ”نئی بات“ قرار دے کر مسترد کیا جا سکتا تھا؟
٭ کیا صدرِ پاکستان کو وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف دائر نمائندگی پر فیصلہ کرنے کا اختیار تھا؟
٭ اور بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ کس حد تک محتسب اور صدر کے فیصلے میں مداخلت کر سکتی تھی؟

عدالتی ریکارڈ کے مطابق نادیہ سرور کے حق میں بعض گواہوں نے نامناسب زبان اور جنسی نوعیت کے اشاروں سے متعلق بیانات بھی دیے تھے۔ دوسری طرف مدعا علیہان کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ شکایت میں وقت کے ساتھ نئے الزامات شامل کیے گئے اور بعض الزامات کے قابلِ اعتماد شواہد موجود نہیں تھے۔

وفاقی محتسب نے چار فروری دو ہزار چودہ کو نادیہ سرور کی شکایت منظور کی۔ محتسب نے قرار دیا کہ ان کا مقدمہ ثابت ہوتا ہے اور متعلقہ بینک افسران کے خلاف قانون کے تحت بڑی سزا یعنی ملازمت سے جبری ریٹائرمنٹ عائد کی۔ دونوں افسران نے وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف صدرِ پاکستان کے سامنے نمائندگی دائر کی۔ یہ نمائندگی چودہ فروری دو ہزار چودہ کو دائر کی گئی۔ صدرِ پاکستان نے گیارہ نومبر دو ہزار چودہ کو وفاقی محتسب کا فیصلہ ختم کر دیا۔ تاہم معاملہ مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے بینک کو دونوں افسران کے خلاف نسبتاً کم درجے کی تادیبی کارروائی، یعنی سرزنش کی ہدایت کی گئی۔

نادیہ سرور نے صدرِ پاکستان کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جسٹس سمن رفعت امتیاز نے اکتیس دسمبر دو ہزار چوبیس کو فیصلہ سنایا۔ عدالت نے نادیہ سرور کی درخواست منظور کرتے ہوئے صدرِ پاکستان کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور وفاقی محتسب کا اصل فیصلہ بحال کر دیا۔ اس طرح دونوں افسران کے خلاف محتسب کی جانب سے عائد کی گئی بڑی سزا دوبارہ موثر ہو گئی۔

ہائی کورٹ نے بنیادی طور پر یہ موقف اختیار کیا کہ محتسب کی کارروائی میں ضابطۂ فوجداری کی سخت پابندیاں اسی طرح لاگو نہیں ہوتیں، اور ابتدائی شکایات میں موجود تفصیلات کو بعد میں پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر مزید واضح کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ صدرِ پاکستان نے شواہد کو درست طور پر نہیں سمجھا تھا۔

متعلقہ بینک افسران نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا۔ وفاقی آئینی عدالت کی اس تازہ تشریح کا اہم نکتہ یہ ہے کہ کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کے قانون میں قابلِ کارروائی ہراساں کرنے کے لیے جنسی عنصر کا ہونا ضروری ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ محض ناپسندیدہ، نامناسب یا نقصان دہ رویہ، اگر اس میں جنسی عنصر نہ ہو، اس مخصوص قانون کے تحت وفاقی محتسب کے سامنے قابلِ سماعت نہیں ہو گا؛ ایسے معاملات میں ادارہ اپنے ملازمتی قوانین کے تحت کارروائی کر سکتا ہے۔

اس فیصلے کے بعد کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق قانون کے دائرہ کار کے بارے میں ایک محدود تشریح سامنے آتی ہے۔ اس کے تحت وفاقی محتسب کے سامنے وہی شکایات قابلِ سماعت ہوں گی جن میں ہراساں کرنے کے عمل میں جنسی نوعیت یا جنسی پہلو موجود ہو۔

عدالتی فیصلے میں شواہد کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اگر ہراساں کرنے کے الزام کے لیے غیر جانب دار اور آزاد شواہد کو زیادہ اہمیت دی جائے تو بعض متاثرہ افراد کے لیے شکایت ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کے بہت سے واقعات ایسے مقامات یا حالات میں پیش آتے ہیں جہاں براہِ راست گواہ موجود نہیں ہوتے۔ یہ تشریح کام کی جگہ کے تحفظ سے متعلق ان وسیع تر بین الاقوامی تصورات سے مختلف ہے جن میں جنسی ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ صنفی امتیاز، توہین آمیز رویے اور ذہنی اذیت جیسے عوامل کو بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

اس فیصلے کا ایک اہم پہلو وفاقی محتسب کے دائرۂ اختیار سے متعلق ہے۔ اگر کسی خاتون کی شکایت میں جنسی پہلو موجود نہ ہو، تو ایسی شکایت اس مخصوص ہراساں کرنے کے قانون کے تحت وفاقی محتسب کے سامنے قابلِ سماعت نہ ہونے کا امکان ہے۔ ایسے معاملات میں متعلقہ ادارے کے داخلی ملازمتی قوانین، محکمانہ ضوابط اور تادیبی طریقۂ کار اہم ہو جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر جنسی نوعیت کی بدسلوکی سے متعلق شکایات کے حل کے لیے ملازمین کو زیادہ حد تک اپنے ادارے کے داخلی نظام سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس حوالے سے یہ سوال بھی اہم ہے کہ مختلف سرکاری اور نجی اداروں میں داخلی شکایتی نظام کس حد تک موثر، آزاد اور متاثرہ ملازمین کے لیے قابلِ رسائی ہیں۔

اس فیصلے کے عملی اثرات یقیناً کام کرنے والی خواتین کے تحفظ پر پڑ سکتے ہیں کیونکہ کام کی جگہ پر بدتمیزی، تضحیک، دھونس یا صنفی بنیاد پر نامناسب رویے بعض اوقات ایک ایسے ماحول کو جنم دے سکتے ہیں جہاں بعد میں زیادہ سنگین نوعیت کے مسائل پیدا ہوں۔ اگر ایسے رویوں کے خلاف موثر شکایتی نظام دستیاب نہ ہو تو متاثرہ خواتین کے لیے اپنی شکایت سامنے لانا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر خواتین کو یہ محسوس ہو کہ شکایت کرنے کے نتیجے میں انہیں قانونی تحفظ حاصل نہیں ہو گا، تو وہ بدنامی، ملازمت ختم ہونے یا پیشہ ورانہ نقصان کے خوف سے شکایت درج کرانے سے گریز کر سکتی ہیں اور بعض خواتین ملازمت چھوٹ جانے کے خوف سے ایسے سمجھوتوں پر مجبور ہو جائیں جو ایک باوقار معاشرے میں برداشت نہ کئے جائیں۔

یہ فیصلہ سنانے والے تین رکنی بینچ میں کوئی خاتون جج شامل نہیں تھی۔ جبکہ خواتین سے متعلق قوانین کی تشریح میں خواتین کے عملی تجربات اور کام کی جگہ پر پیش آنے والے مسائل کو سمجھنے کے لیے عدلیہ میں صنفی نمائندگی بھی اہم ہے۔

تاہم قانون کی تشریح کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ کام کی جگہ پر ہر قسم کی بدسلوکی، امتیازی سلوک اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف موثر داخلی نظام بھی یقینی بنایا جائے کیونکہ خواتین کو تحفظ صرف عدالتوں کے فیصلوں سے نہیں، بلکہ ایسے شفاف اور قابلِ اعتماد ادارہ جاتی نظام سے ملے گا جہاں شکایت کرنا کسی ملازم کے لیے خوف نہیں بلکہ حق سمجھا جائے۔

نیشنل بینک کے اس کیس میں ثابت شدہ ہے کہ بینک انتظامیہ نے متاثرہ خاتون کی شکایت جو ادارے کی اعلی ترین شخصیت سے کی گئی موثر کارروائی نہیں کی اور متاثرہ خاتون کو ایک طویل قانونی جدوجہد کرنی پڑی لیکن اس کے باوجود بھی اسے انصاف نہیں ملا۔ صدر پاکستان کے فیصلے نے بھی اگرچہ خاتون کی شکایت کو محتسب کے دایرہ کار سے باہر قرار دیا لیکن ادارہ جاتی سظح پر متعلقہ افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی ہدایت کی۔

آئینی عدالت کے اس فیصلیے نے اس قانونی خلا کو پر کرنا اور ضروری بنا دیا ہے کہ مقننہ جلد از جلد صوبائی اور وفاقی سطٰح پر موثر قانون سازی کرے تاکہ ادارون کو پابند کیا جا سکے کہ کام کی جگہ پر ہونے والی غیر جنسی بدسلوکی، دھونس، تضحیک اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق شکایات پر اداروں کے اندر داخلی سطح پر موثر کارروائی ہو اور شفاف کارروائی نہ ہونے کی صورت میں ادارے کے سربراہ کو قانونی عواقب کا سامنا کرنا پڑے۔ بصورت دیگر پاکستان میں کام کی جگہیں ہماری خواتین کے لئے غیر محفوظ رہیں گی۔


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے