ایک مہنگے ہوٹل میں ملک کے مستقبل پر گفتگو جاری تھی۔ اسٹیج پر بیٹھے عمر رسیدہ سیاست دان نوجوانوں کو صبر، قربانی، حب الوطنی اور قومی ذمہ داری کا درس دے رہے تھے۔ ہال میں بیٹھے نوجوانوں میں سے ایک نے ہاتھ اٹھایا اور سوال کیا: ”جناب، آپ نے ہمیں مستقبل کہا، مگر ہمارے حال کا فیصلہ ہمیشہ آپ ہی کیوں کرتے رہے؟“ چند لمحوں کے لیے ہال میں خاموشی چھا گئی۔ مقرر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ”بیٹا، تم ابھی بہت چھوٹے ہو، وقت کے ساتھ سمجھ آ جائے گی۔“ نوجوان نے دوبارہ مائیک پکڑا اور کہا، ”جناب، یہی تو مسئلہ ہے، آپ کی نسل نے ہمیں سمجھنے کے لیے ہمیشہ وقت مانگا، مگر ہمیں اپنا وقت کبھی نہیں دیا۔“ اس بار تالیاں بھی بجیں اور کچھ چہرے ناگواری سے بھی بھر گئے۔
یہ محض ایک فرضی منظر نہیں، بلکہ پاکستان میں دو نسلوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی ایک تصویر ہے۔ ایک نسل جس نے اپنی زندگی کے اصول طے کر لیے، اور دوسری جو انہی اصولوں کے سامنے کھڑے ہو کر پوچھ رہی ہے کہ کیا ہر پرانی بات صرف پرانی ہونے کی وجہ سے درست بھی ہے؟ پاکستان میں نئی نسل کو اکثر بگڑی ہوئی، بے صبر اور ناشکری کہا جاتا ہے۔ شکایت یہ ہے کہ آج کے نوجوان بڑوں کی بات نہیں مانتے، روایات کا احترام نہیں کرتے، ہر چیز پر سوال اٹھاتے ہیں اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ مگر ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے کہ جس رویے کو ہم بگاڑ سمجھ رہے ہیں، وہ کہیں ایک مختلف زندگی کی تلاش تو نہیں؟
ایک زمانہ تھا جب کامیاب زندگی کا نقشہ زیادہ پیچیدہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اچھی تعلیم حاصل کرو، سرکاری یا مستقل ملازمت حاصل کرو، گھر بناؤ، شادی کرو، بچوں کی پرورش کرو اور معاشرے میں عزت کے ساتھ زندگی گزارو۔ پچھلی نسل نے انہی خوابوں کے لیے محنت کی، اپنی خواہشات قربان کیں اور اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل بنانے کی کوشش کی۔ ان قربانیوں سے انکار کرنا نا انصافی ہوگی۔ لیکن وقت کے ساتھ ایک مسئلہ پیدا ہوا: جو خواب کبھی ایک نسل کی ضرورت تھے، انہیں اگلی نسل کی مجبوری بنا دیا گیا۔ آج کا نوجوان پوچھتا ہے کہ کامیابی کا مطلب صرف اچھی تنخواہ کیوں ہے؟ شادی زندگی کی لازمی منزل کیوں ہے؟ کسی پیشے کا انتخاب خاندان کی خواہش کے مطابق ہی کیوں ہونا چاہیے؟ اور اگر کسی روایت سے کسی انسان کی خوشی، آزادی یا عزتِ نفس متاثر ہوتی ہو تو محض اس لیے اسے برقرار کیوں رکھا جائے کہ ہمارے بزرگ بھی ایسا ہی کرتے آئے ہیں؟ یہ سوالات ہر بار درست نہیں ہوتے، مگر ان کا اٹھنا غلط بھی نہیں۔ نئی نسل سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں ؛ کبھی وہ آزادی کو ذمہ داری سے الگ سمجھ بیٹھتی ہے، کبھی جذبات میں فیصلے کرتی ہے اور کبھی اختلاف کے نام پر رشتوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ لیکن غلطیوں کا امکان کسی پوری نسل کی آواز دبانے کا جواز نہیں بن سکتا۔
اصل اختلاف یہی ہے کہ پچھلی نسل نے حالات کے مطابق جینا سیکھا، جبکہ نئی نسل حالات کو بدلنے کا حق مانگ رہی ہے۔ یہ اختلاف صرف گھروں، شادیوں اور ملازمتوں تک محدود نہیں۔ اس کی ایک سیاسی شکل بھی ہے۔ پاکستان نے مختلف ادوار میں حکومتیں بدلتے، سیاسی وعدے ہوتے اور ٹوٹتے، معاشی بحران آتے اور عوامی امیدیں کمزور پڑتے دیکھی ہیں۔ عام آدمی نے مہنگائی، بے روزگاری اور غیر یقینی مستقبل کا بوجھ اٹھایا ہے، جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے بہت سے لوگوں سے جواب طلبی آج بھی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ پچھلی نسل میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے نا انصافی کے خلاف آواز اٹھائی، جمہوریت کے لیے جدوجہد کی اور اپنے اصولوں کی خاطر مشکلات برداشت کیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں مصلحت اور خاموشی کی ایک روایت بھی رہی ہے۔ کبھی کسی طاقتور شخص پر تنقید کو بے ادبی سمجھا گیا، کبھی سیاسی وابستگی نے درست اور غلط کے درمیان فرق دھندلا دیا، اور کبھی یہ کہہ کر سوال کو ٹال دیا گیا کہ سیاست تمہارے سمجھنے کی چیز نہیں۔ اب جب نئی نسل کسی سیاست دان سے سوال کرتی ہے، کسی جماعت کے دعووں کو چیلنج کرتی ہے یا طاقتور لوگوں کے فیصلوں پر تنقید کرتی ہے تو اسے اکثر ناپختہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ گویا سیاسی شعور عمر کے ساتھ خود بخود حاصل ہونے والی کوئی سند ہے، اور نوجوانی میں اٹھایا گیا سوال لازماً نادانی کی علامت ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربے کے باوجود ہمارے مسائل برقرار ہیں تو نئی نسل کو خاموش رہنے کا مشورہ دینے کے بجائے اسے بہتر سوالات پوچھنے کا موقع کیوں نہ دیا جائے؟ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ ہر سیاسی رہنما غلطی کر سکتا ہے، چاہے وہ ہماری پسند کا ہی کیوں نہ ہو۔ ہر طاقتور شخص جواب دہی سے بالاتر نہیں، اور حب الوطنی کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کے حالات پر تنقید کرنا چھوڑ دیا جائے۔ نئی نسل کی ذمہ داری صرف پچھلی نسل کی خاموشیوں پر انگلی اٹھانا نہیں، بلکہ اپنے اندر اتنا شعور پیدا کرنا بھی ہے کہ وہ نعروں کے بجائے حقائق کو اہمیت دے اور اپنے پسندیدہ رہنماؤں سے بھی وہی سوال کرے جو مخالفین سے کرتی ہے۔
پاکستان کو ایسی نسل نہیں چاہیے جو صرف پرانے نعرے بدل دے ؛ اسے ایسی نسل چاہیے جو جواب دہی، انصاف اور میرٹ کے اصولوں کو مضبوط کرے۔ اس کے باوجود نئی نسل کے سامنے سب سے بڑا سوال اپنی زندگی کا ہے۔ وہ ایک ایسی دنیا میں بڑی ہوئی ہے جہاں چند لمحوں میں دنیا بھر کے خیالات اور مواقع تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے، مگر اپنے ہی ملک میں مستقبل کا راستہ ہمیشہ واضح نہیں ہوتا۔ ڈگری حاصل کرنے کے بعد روزگار کی فکر، بڑھتے اخراجات، خاندانی توقعات اور بیرونِ ملک بہتر مواقع کی کشش اس کی حقیقت کا حصہ ہیں۔ ایسے میں اسے صرف یہ کہنا کہ صبر کرو، محنت کرو اور ملک کا مستقبل بنو، کافی نہیں۔
نوجوانوں کو مستقبل کہنے والوں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ مستقبل صرف تقریروں سے نہیں بنتا۔ اس کے لیے معیاری تعلیم، روزگار، میرٹ، قانون کی بالادستی اور فیصلہ سازی میں نوجوانوں کی حقیقی شمولیت ضروری ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان پاکستان کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط رکھیں تو ہمیں ایسا پاکستان بھی بنانا ہو گا جہاں انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے۔ لیکن نئی نسل کو بھی سمجھنا ہو گا کہ اختلاف کرنا آسان ہے، تعمیر کرنا مشکل۔ پرانی روایات کو رد کرنا آسان ہے، ان سے بہتر متبادل قائم کرنا مشکل۔ آزادی کا مطالبہ کرنا آسان ہے، اپنی آزادی کے ساتھ دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا مشکل۔ اگر نوجوان واقعی ایک مختلف پاکستان چاہتے ہیں تو انہیں صرف اپنی زندگی کے فیصلوں میں خودمختاری نہیں، بلکہ اپنے معاشرے کے لیے ذمہ داری بھی قبول کرنا ہوگی۔
اصل ترقی اس وقت ہوگی جب پچھلی نسل اپنے تجربے کو حکم کے بجائے رہنمائی بنائے، اور نئی نسل اپنے اختلاف کو محض احتجاج کے بجائے مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنائے۔ ہمیں بزرگوں کی قربانیوں کی قدر بھی کرنی ہے اور ان غلطیوں سے سیکھنا بھی ہے جن کی قیمت آج کا معاشرہ ادا کر رہا ہے۔ آخرکار مسئلہ بوڑھے خوابوں کا نہیں، انہیں نئی حقیقتوں کے مطابق بدلنے سے انکار کا ہے۔ ہر نسل اپنے وقت کے خواب دیکھنے کا حق رکھتی ہے، مگر ہر نسل کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے بہتر راستے چھوڑ کر جائے۔
پاکستان کسی ایک نسل کی جاگیر نہیں۔ یہ ان لوگوں کا بھی ہے جنہوں نے اسے اپنے خوابوں سے تعمیر کیا، ان کا بھی جو آج اس کی مشکلات سے لڑ رہے ہیں، اور ان کا بھی جو کل اس کی ذمہ داری اٹھائیں گے۔ ایک دن نئی نسل بھی اپنے بچوں کے سامنے اپنے زمانے کے اصول رکھے گی، اور اس کے بچے بھی ان اصولوں پر سوال اٹھائیں گے۔ اس دن ہماری کامیابی یہ نہیں ہوگی کہ وہ ہماری ہر بات مانیں، بلکہ یہ ہوگی کہ وہ ہم سے اختلاف کرتے ہوئے بھی ہم سے بات کرنے میں خوف محسوس نہ کریں۔
کیونکہ کسی قوم کا مستقبل اس وقت بوڑھا نہیں ہوتا جب اس کے بزرگ عمر رسیدہ ہو جاتے ہیں؛ اس وقت بوڑھا ہوتا ہے جب اس کے خواب نئی نسل کے سوالوں سے ڈرنے لگتے ہیں۔


