چھوٹے بڑے فرعون – ڈاکٹر شہباز حسین قادری

شیئر کریں

کل دفتر سے واپسی پر گھر جاتے ہوئے سڑک کنارے فروٹ کی ایک ریڑھی نظر آئی تو کچھ پھل خریدنے کے لیے وہاں پر رک گیا۔ ریڑھی پر ایک پٹھان بچہ کھڑا تھا، جس کی عمر بمشکل گیارہ بارہ برس ہو گی۔ موسم کی خنکی کے باوجود اس نے باریک کپڑے اور پلاسٹک کی ایک چپل پہنی ہوئی تھی، جو کہ اس کی غربت اور بدحالی کی عکاسی کر رہے تھے۔ ابھی یہ بچہ میرا خریدا گیا فروٹ شاپر میں ڈال ہی رہا تھا کہ ایک نئی ماڈل کی کرولا اس کی ریڑھی کے عین سامنے اور میرے قریب آ کر رکی۔ گاڑی سے ایک خوش پوش اور آراستہ و پیراستہ خاتون برآمد ہوئیں اور نکلتے ہی پھلوں سے بھرا شاپر غصے سے بچے کے سامنے پھینکا اور گالیوں کی بوچھاڑ شروع کر دی۔ موقف یہ تھا کہ بچے نے انہیں خراب پھل دیے تھے، حالاں کہ ریڑھی پر موجود پھل بظاہر تازہ دکھائی دے رہے تھے اور ان کی تازگی دیکھ کر ہی میں بھی خریدنے کے لیے رک گیا تھا۔ بچے نے اپنے دفاع میں کچھ کہنا چاہا تو محترمہ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، اس پر تھپڑ برسانا شروع کر دیے اور ساتھ ساتھ چیخ بھی رہی تھی کہ ”تمہاری یہ جرات کہ میرے سامنے زبان چلاؤ“ ۔ میں نے اپنے تئیں کوشش کر کے بچے کی اس ناگہانی آفت سے جیسے تیسے جان چھڑوائی، دل میں یہ خدشہ بھی تھا کہ مبادا کہیں وہ محترمہ الٹا میرے ہی گلے پڑ جائیں۔ بہرحال گاڑی چلانے تک انہوں نے مغلظات کا بھرپور سلسلہ جاری رکھا۔

موصوفہ تو چلی گئیں مگر بچے کو رلا گئیں۔ وہ زار و قطار رو رہا تھا، تھپڑوں سے اس کے گال سرخ تھے اور پھٹا ہوا شاپر اور بکھرے ہوئے پھل اس کی ریڑھی پر پڑے تھے، جو اس کی بے بسی اور لاچاری پر ہنس رہے تھے۔ یہ بکھرے پھل تو سمیٹے جا سکتے تھے، مگر اس بچے کی عزتِ نفس پر لگنے والی چوٹ کا ازالہ کون کرتا؟ میں سوچتا رہا کہ آخر اس بچے کا قصور کیا تھا؟ کیا غریب ہونا جرم ہے؟ کیا دولت اور طاقت یہ حق عطا کر دیتی ہے کہ دوسروں کی عزتِ نفس کو یوں پل بھر میں روند ڈالا جائے؟ کیا یہ غریب اور مزدور ان امیروں کے سامنے فقط کیڑے مکوڑے ہیں؟ مگر شاید پاکستان میں ایسا ہی ہے، ایلیٹ اور مقتدر کلاس کے لیے یہ محکوم اور غریب طبقہ کیڑے مکوڑے ہی ہیں، جو اپنی دولت، عہدے اور طاقت کے زعم میں مبتلا ہو کر انہیں حقیر اور گھٹیا گردانتے ہیں۔ فرعونت صرف تخت و تاج یا خدائی دعوے کا نام نہیں، یہ اس ذہنیت کا نام بھی ہے جو انسان کو یہ باور کراتی ہے کہ وہ دوسروں سے برتر اور اعلیٰ و ارفع ہے، اس لیے اسے کمزور لوگوں کی تذلیل کرنے، ان پر رعب جمانے اور ان کے بنیادی حقوق پامال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔

ہمارے ہاں ایسے چھوٹے بڑے فرعون جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں، کبھی کسی سرکاری دفتر میں کسی افسر کے روپ میں، کہیں کسی کلرک یا پٹواری کی صورت میں، کہیں کسی جاگیردار یا زمیندار کے بھیس میں اور کہیں کسی دوسرے صاحبِ اختیار کی شکل میں، بس شرط یہ ہے کہ اس کے پاس طاقت، دولت یا کسی اتھارٹی کا ہونا ضروری ہے تا کہ وہ اپنے ”افضل و برتر“ ہونے اور احساسِ برتری کی تسکین کرتے ہوئے دوسروں کی تذلیل کر سکے اور ان کی عزتِ نفس کی دھجیاں اڑا سکے۔ اگر ان کے اس ”خبطِ عظمت“ میں زیادہ شدت آ جائے تو پھر کسی غریب کی جان لینا یا اسے اپنی گاڑی کے نیچے کچل کر ہلاک کر دینا بھی ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا، چاہے وہ ملتان کے یتیم بچے وسیم عباس کا قتل ہو یا اسلام آباد کی شاہراہ پر ایک جج کے بیٹے کی گاڑی تلے کچلی جانے والی دو معصوم بچیاں ہوں، بھلا ایک طاقت ور، دولت مند اور صاحبِ اختیار کے سامنے ان کیڑے مکوڑوں کی زندگیوں کی کیا حیثیت یا اہمیت؟ تاریخ کا فرعون دریائے نیل میں غرق ہوا، مگر ہمارے معاشرے کے یہ چھوٹے بڑے فرعون آج بھی زندہ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب ان کے ہاتھوں میں شاہی عصا نہیں، کبھی قیمتی گاڑی، کبھی دولت اور عہدے کا غرور اور کبھی خاندانی اثر و رسوخ ہوتا ہے۔

یقین مانیے کل ریڑھی پر کھڑے اس پھل فروش بچے کے آنسو میرے ذہن سے ابھی تک محو نہیں ہو رہے۔ شاید وہ کچھ دیر بعد اپنے آنسو پونچھ کر دوبارہ پھل بیچنے میں مصروف ہو گیا ہو گا، اسے گھر بھی جانا ہو گا، اپنے خاندان کی ضروریات بھی پوری کرنی ہوں گی اور اگلے روز پھر اسی سڑک کنارے کھڑا ہونا ہو گا، کیوں کہ ایک غریب کی زندگی اپنے دکھوں پر رونے کے لیے وقت کم اور روٹی کی فکر زیادہ ہوتی ہے، مگر ناحق تذلیل و تحقیر کر کے اس کے اندر جو خوف، ذلت اور بے بسی کا احساس پیدا کیا گیا اس کا مداوا کون کرے گا؟

بشکریہ: ہم سب


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے