دینی مدارس کو خطرہ غیروں سے نہیں اپنے ہی حکمرانوں سے ہے، مولانا فضل الرحمن کا لاڑکانہ میں خطاب

شیئر کریں

لاڑکانہ: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے لاڑکانہ میں دستارِ فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن و حدیث کا علم صدیوں سے دینی مدارس کے ذریعے محفوظ اور عام ہو رہا ہے، مگر افسوس ہے کہ خطرہ بیرونی قوتوں سے نہیں بلکہ اپنے ہی حکمرانوں کی پالیسیوں سے ہے جو مدارس کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ قانون سازی کے ذریعے جائز نکاح کو مشکل اور بے راہ روی کو آسان بنایا جا رہا ہے، جو اسلامی ریاست کے تصور کے خلاف ہے۔مولانا فضل الرحمان نے حکمرانوں پر دھاندلی، آئین سے انحراف اور غیر جمہوری طریقوں سے اقتدار حاصل کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت ایسے حکمرانوں کی بیعت نہیں کرے گی اور ملک کو حقیقی اسلامی جمہوریہ بنانے کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم، اقلیتوں سے متعلق قانون سازی اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔کانفرنس سے جے یو آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری ایم این اے مولانا عبدالغفور حیدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران غلامی کو آزادی پر ترجیح دے رہے ہیں اور فارم 47 کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کا کردار شفاف ہے اور اس کے کسی رہنما کا نام کرپشن کی فہرستوں میں شامل نہیں رہا۔
کانفرنس سے جے یو آئی سندھ کے جنرل سیکریٹری مولانا راشد خالد محمود سومرو، ضلعی امیر ناصر محمود سومرو اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کی.

رپورٹ نادر مائری


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے