لاڑکانہ: لاڑکانہ میں محکمہ تعلیم میں ارلی چائلڈ ہوڈ ٹیچر کی ملازمت کے لیے آئی بی اے ٹیسٹ دینے والی خواتین امیدواروں نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور نعرے بازی بھی کی۔اس موقع پر احتجاج کرنے والی خواتین امیدواروں صبا کھوکھر، بسمہ بھٹو، طاہرہ ابڑو، اسماء سومرو، فضیلا آریجو اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پورے سندھ میں ارلی چائلڈ ہوڈ ٹیچر کی 1188 خالی اسامیوں پر بھرتی کے لیے آئی بی اے سکھر کے ذریعے 18 مئی کو ٹیسٹ لیا گیا تھا، جس میں پانچ ہزار سے زائد خواتین امیدواروں نے حصہ لیا۔ ٹیسٹ کے نتائج میں 585 خواتین امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا، جبکہ اس وقت بھی 603 اسامیاں خالی پڑی ہیں، جن کے بارے میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ای سی ٹی خواتین اساتذہ کو 40 نمبروں پر پاس قرار دیا جائے، جبکہ 55 نمبروں کی پالیسی کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی، کیونکہ سندھ ایک ہے اور یہاں تمام امیدواروں کے لیے یکساں پالیسی ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم سندھ نے دوہری پالیسی اختیار کرتے ہوئے ارلی چائلڈ ہوڈ ٹیچر کے لیے پاس ہونے کی حد 55 فیصد مقرر کی ہے، جبکہ پرائمری اسکول ٹیچر اور جونیئر ایلیمینٹری اسکول ٹیچر کی بھرتیوں میں 33 سے 40 فیصد نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں کو نوکریاں دی گئی ہیں، جو واضح طور پر امتیازی رویہ ہے۔ مظاہرین نے مزید کہا کہ آئی بی اے سکھر کی جانب سے تاحال تعلقہ سطح پر میرٹ لسٹ بھی جاری نہیں کی گئی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ معاملے کا نوٹس لے کر تعلقہ سطح پر میرٹ لسٹیں جاری کی جائیں، ارلی چائلڈ ہوڈ ٹیچر کی بھرتی کے لیے 40 فیصد نمبر حاصل کرنے والی امیدواروں کو ملازمتیں دی جائیں، 40 نمبروں والی امیدواروں کے لیے ویٹنگ پیریڈ میں دو سال کا اضافہ کیا جائے اور تمام خالی اسامیوں کو ظاہر کر کے انصاف فراہم کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

رپورٹ نادر مائری


