اسرائیل کے عام انتخابات میں ووٹوں کی گنتی آگے بڑھنے کے ساتھ ممکنہ نشستوں کا توازن مزید تبدیل ہو گیا ہے۔ مرکزی الیکشن کمیٹی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 85.6 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے بلاک کو 53، ان کے حریف گاڈی آئزن کوٹ کے بلاک کو 48 جب کہ عرب جماعتوں کے حصے میں 19 نشستیں آرہی ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق کوئی بھی بلاک حکومت بنانے کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل نہیں کر سکا ہے۔
اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں حکومت بنانے کے لیے کسی بھی اتحاد کو کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔
اس سے قبل 77 فیصد ووٹوں کی گنتی کے دوران نیتن یاہو کے بلاک کو 54، آئزن کوٹ کے بلاک کو 49 اور عرب جماعتوں کو 17 نشستیں مل رہی تھیں، تاہم ووٹوں کی گنتی کے ساتھ یہ تعداد ایک مرتبہ پھر تبدیل ہوگئی ہے۔
اب تک کے نتائج کے مطابق نیتن یاہو اتحاد کو حکومت سازی کے لیے مزید آٹھ نشستوں کی ضرورت ہے جب کہ اپوزیشن اتحاد کو 61 نشستوں تک پہنچنے کے لیے مزید 13 نشستیں درکار ہیں۔
تازہ ترین نتائج کے مطابق عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں مل رہی ہیں، جس سے حکومت سازی کے عمل میں ان جماعتوں کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
یہاں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ اسرائیل میں نشستوں کا دارومدار کُل ووٹوں کی گنتی پر ہوتا ہے۔ اب تک صرف 77 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوئی ہے، لہٰذا نشستوں کی تعداد میں مزید تبدیلی ممکن ہے۔
حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ کون سا سیاسی بلاک حکومت بنانے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔
اسرائیل میں حالیہ انتخابات کے دوران ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق 1999 کے بعد اب تک کی بلند ترین شرح ہے۔ انتخابات میں 56 لاکھ 90 ہزار سے زائد افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو اتحاد کے ووٹس میں اچانک اضافے کا کریڈٹ لیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان کی حمایت کی وجہ سے نیتن یاہو کی انتخابی پوزیشن بہتر ہوئی‘۔
سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ ایک تبصرے کا حوالہ دیتے ہوئے نقل کیا کہ ’جب صدر ٹرمپ نے بی بی (نیتن یاہو) کی حمایت کی تو پورا پانسہ پلٹ گیا‘۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ’جہاں نیتن یاہو کو ایک واضح شکست کا سامنا تھا، اب وہ ایک سخت مقابلے یا جیت کی پوزیشن میں آ چکے ہیں‘۔
اب تک کے انتخابی نتائج کے مطابق وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا دائیں بازو اور انتہاپسند یہودی جماعتوں پر مشتمل اتحاد 120 رکنی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں اکثریت برقرار رکھنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
اسرائیلی نیوز چینل ’چینل 12‘ نے ایگزٹ پولز اور ابتدائی تخمینوں میں پیش گوئی کی ہے کہ نیتن یاہو کا اتحاد ماضی کی 68 نشستوں کے مقابلے میں مجموعی طور پر 52 نشستوں تک محدود ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے، جس میں ان کی پارٹی ’لیکوڈ‘ کو 27 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن کے مرکزی رہنما اور سابق فوج کے سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں قائم اتحاد ’یشار‘ اور دیگر اپوزیشن جماعتیں 49 نشستیں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہیں، جن میں آئزن کوٹ کی اپنی جماعت کو 21 سے 22 نشستیں مل سکتی ہیں۔
موجودہ صورت حال میں فی الحال کسی بھی فریق کو حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی، جس کے باعث پارلیمنٹ میں شدید سیاسی جوڑ توڑ کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
اس انتخابی معرکے کا سب سے اہم پہلو عرب جماعتوں پر مشتمل اتحاد ’جوائنٹ لسٹ اور عرب جماعت ’رعام‘ کے بطور سرپرائز سامنے آنا ہے۔
ابتدائی تخمینوں کے مطابق عرب جماعتیں الیکشن میں 19 نشستیں حاصل کرسکتی ہیں، اگر ایسا ہوا تو یہ اسرائیلی تاریخ میں عرب جماعتوں کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی تصور ہوگی جو حکومت سازی کے عمل میں انہیں ایک کلیدی اور فیصلہ کن حیثیت میں لا کر کھڑا کر سکتی ہے۔
اسرائیلی آئینی طریقہ کار کے مطابق حتمی نتائج کی سرکاری توثیق کے بعد ملک کے صدر کسی ایک رہنما کو حکومت سازی کی دعوت دیں گے۔
آئزن کوٹ کو دیگر جماعتوں کے ساتھ مذاکرات اور 61 نشستوں کا اتحاد بنانے کے لیے چار سے چھ ہفتے مل سکتے ہیں، تاہم اگر وہ یا نیتن یاہو اکثریت ثابت کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور پارلیمنٹ کسی نام پر متفق نہیں ہوتی تو اسرائیل کو ایک بار پھر دوبارہ عام انتخابات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے، جبکہ حتمی نتائج کے اعلان تک نیتن یاہو نگران وزیراعظم کے طور پر فرائض انجام دیتے رہیں گے۔
نیتن یاہو انتخابی مہم کے دوران عرب جماعتوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے اتحاد کو قطعی طور پر مسترد کرتے رہے ہیں۔
بدھ کی صبح یروشلم میں خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے اپنے بلاک کی نشستوں میں کمی کو تسلیم کرنے کے باوجود دعویٰ کیا تھا کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں صیہونی اور یہودی عوام کی اکثریتی حمایت حاصل ہے، جبکہ انہوں نے عرب جماعتوں کو صیہونیت مخالف قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کیا تھا۔
اپوزیشن رہنما گاڈی آئزن کوٹ کا کہنا تھا کہ عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے، لیکن حکومت سازی کا واضح اور آسان راستہ ان کے لیے بھی فی الحال چیلنج بنا ہوا ہے۔
آئزن کوٹ نے بھی الیکشن مہم کے دوران عرب جماعتوں کو براہِ راست حکومت میں شامل نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن اب ان پر اپوزیشن ووٹرز اور چند اتحادی جماعتوں کا شدید دباؤ ہے کہ وہ نیتن یاہو کو ہٹانے کے لیے منصور عباس کی عرب پارٹی ’رعام‘ یا عرب جماعتوں کے اتحاد ’جوائنٹ لسٹ‘ سے مذاکرات کریں۔ عرب رہنما منصور عباس نے بھی اشارہ دیا ہے کہ نیتن یاہو مخالف بلاک کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
دی گارجین کے مطابق نیتن یاہو اقتدار کے حصول کے لیے عرب جماعتوں سے اتحاد کے بجائے مخالف بلاک میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کی پوری کوشش ہے کہ وہ آئزن کوٹ کے اتحاد میں شامل انتہاپسند صیہونی اور اوگدور لیبرمین یا نفتالی بینیٹ جیسے دائیں بازو کے رہنماؤں کو ’عرب مخالف کارڈ‘ استعمال کر کے اپنے ساتھ ملا لیں۔
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے تمام سیاسی جماعتیں پر زور دیا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کریں تاکہ ملک کو ایک بار پھر انتخابات کی طرف جانے سے بچایا جا سکے۔ اسرائیلی صدر کے مطابق اگلے ہفتے انتخابات کے سرکاری نتائج موصول ہوتے ہی وہ حکومت سازی کے لیے مشاورت کا عمل شروع کردیں گے۔




