اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار، 100 انڈیکس تقریباً 1,300 پوائنٹس بڑھ گیا

شیئر کریں

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو خریداری کا رجحان برقرار رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 1,300 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کاروباری سیشن کے دوران مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ ابتدا میں فروخت کا دباؤ رہا، تاہم دوپہر کے بعد انڈیکس میں بحالی آئی۔کے ایس ای 100 انڈیکس کاروبار کے دوران کم ترین سطح 164,355.82 پوائنٹس اور بلند ترین سطح 166,100.33 پوائنٹس پر پہنچا۔

صبح اور دوپہر کے ابتدائی اوقات میں انڈیکس محدود دائرے میں کاروبار کرتا رہا لیکن سیشن کے آخری گھنٹوں میں تیزی آئی اور یہ دن کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔

بعد ازاں انڈیکس میں کچھ کمی ہوئی، تاہم اس نے دوبارہ جزوی بحالی حاصل کی اور کاروبار کا اختتام اضافے کے ساتھ کیا۔

کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,269.55 پوائنٹس یا 0.77 فیصد اضافے کے بعد 165,736.75 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کاروبار کے اختتام پر اپنی رپورٹ میں کہا کہ مارکیٹ میں تیزی کی بنیادی وجہ کمپنیوں کے توقعات سے بہتر مالیاتی نتائج تھے، جن سے مارکیٹ کے رجحان میں بہتری آئی اور سرمایہ کاروں کا کمپنیوں کی آمدنی کے امکانات پر اعتماد بحال ہوا۔ حوصلہ افزا نتائج نے مارکیٹ کو نئی تقویت فراہم کی، جبکہ سرمایہ کاروں نے مضبوط بنیادی مالیاتی حیثیت رکھنے والے حصص میں زیادہ دلچسپی ظاہر کی۔

رپورٹ کے مطابق ایف ایف سی، این بی پی، ایچ یو بی سی، ایم سی بی اور بی اے ایف ایل انڈیکس میں اضافے کے بڑے محرک رہے۔ ان کمپنیوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس میں تقریباً 833 پوائنٹس کا اضافہ کیا، جو بڑی کمپنیوں کے حصص کی جانب سے مارکیٹ کو ملنے والی مضبوط حمایت کو ظاہر کرتا ہے۔

یاد رہے کہ منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بحالی کا رجحان برقرار رہا، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور اہم شعبوں میں وسیع پیمانے پر خریداری کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہوا، حالانکہ اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا تھا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,428.73 پوائنٹس یا 0.88 فیصد اضافے کے بعد 164,467.20 پوائنٹس پر بند ہوا۔

عالمی منڈیوں میں بدھ کو ایشیائی حصص کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی جس کی وجہ اے آئی سے متعلق سرمایہ کاروں کے جوش و خروش میں دوبارہ اضافہ تھا۔ اس دوران امریکی مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر صنعت کی بڑی کمپنیوں کے مالی نتائج جاری ہونے کی توقع تھی جبکہ فیڈرل ریزرو کے پالیسی فیصلے سے قبل ڈالر بھی مضبوط رہا۔

جنوبی کوریا کی چِپ ساز کمپنی ایس کے ہائینکس نے سہ ماہی آپریٹنگ منافع میں سات گنا سے زیادہ اضافے کی اطلاع دی جس سے مارکیٹ میں تیزی کے رجحان کو مزید تقویت ملی۔

اے آئی سے متعلق حصص میں تیزی کا اگلا امتحان اس وقت ہوگا جب ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں الفابیٹ اور مائیکروسافٹ کاروباری اوقات کے اختتام پر اپنے مالیاتی نتائج جاری کریں گی۔ سرمایہ کار ان نتائج میں اس بات کے شواہد تلاش کررہے ہیں کہ اے آئی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر بھاری اخراجات مناسب منافع دے رہے ہیں یا نہیں۔

امریکی کمپنیوں کے مالی نتائج سے قبل ایشیا پیسیفک کے جاپان کے علاوہ دیگر حصص کی وسیع تر نمائندگی کرنے والے ایم ایس سی آئی انڈیکس میں ایشیائی کاروبار کے ابتدائی اوقات میں 0.85 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جاپان کے نکی انڈیکس میں 1.2 فیصد اور جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3 فیصد سے زیادہ تیزی ریکارڈ کی گئی۔

ایس کے ہائینکس کے حصص کاروبار شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد 3 فیصد بڑھ گئے، تاہم بعد ازاں اضافہ محدود ہوگیا اور حصص 1.75 فیصد اضافے پر کاروبار کرتے رہے۔

دریں اثنا پاکستانی روپے کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں قدر میں معمولی اضافہ جاری رہا اور بدھ کو انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر 0.01 فیصد بڑھ گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 276.77 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی، جس سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کو 3 پیسے کا فائدہ ہوا۔

آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 401.97 ملین حصص کے مقابلے میں بڑھ کر 578.12 ملین حصص ہوگیا۔

حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 18.07 ارب روپے سے بڑھ کر 26.20 ارب روپے ہوگئی۔

پرویز احمد کمپنی 58.32 ملین حصص کی خرید و فروخت کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی، جبکہ ٹی پی ایل پراپرٹیز کے 38.35 ملین اور سنرجیکو پاکستان کے 34.76 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔

بدھ کو مجموعی طور پر 496 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 269 کی قیمتوں میں اضافہ، 180 میں کمی جبکہ 47 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

 


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے