لاڑکانہ: لاڑکانہ پولیس سول لائن تھانے کی حدود لاہوری محلہ سے 6 ماہ قبل مبینہ طور پر اغوا ہونے والی چار بچوں کی ماں کو بازیاب نہ کرا سکی، مغویہ خاتون کے شوہر نے اپنے معصوم بچوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اہلیہ کی بازیابی اور اغوا میں ملوث بااثر افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے دو دن بعد بچوں سمیت خودسوزی کرنے کی دھمکی دے دی۔
اس موقع پر لاہوری محلہ کے رہائشی فہد رضا سومرو نے اپنے بچوں ایمان زہرہ، محمد ابراہیم اور محمد حسین کے ہمراہ لاڑکانہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی شادی 2012 میں عنايت الله ابڑو کی بیٹی زینب سندھو سے ہوئی تھی، جن سے اس کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔
اس نے بتایا کہ شادی کے بعد اس نے اپنی اہلیہ کو اسٹیشن روڈ کے علاقے میں بیوٹی پارلر کھول کر دیا، جبکہ 6 ماہ قبل اسے ریسکیو 1122 میں ملازمت ملی اور وہ ٹریننگ کے لیے لاہور گیا ہوا تھا کہ اس دوران غالب نگر کے رہائشی ٹریزری افسر واجد چانڈیو اپنے بھائیوں شاهد چانڈیو اور ماجد چانڈیو کے ساتھ مل کر اس کی اہلیہ زینب سندھو کو مبینہ طور پر اغوا کرکے گھر اور بیوٹی پارلر سے 28 لاکھ روپے نقد، 12 تولہ سونا اور لاکھوں روپے مالیت کا سامان لے گئے۔
فہد سومرو کا کہنا تھا کہ اس نے واقعے کی شکایات سول لائن تھانے، ڈی آئی جی، ایس ایس پی لاڑکانہ، برادری کے معززین اور پیپلز پارٹی کے ایم پی اے سردار خان چانڈیو کو بھی کیں مگر کوئی کارروائی نہ ہوئی، جبکہ ملزمان اسے خاموش رہنے کے لیے سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ اہلیہ کے اغوا کے بعد اس کا گھر تباہ ہو چکا ہے، معصوم بچے اذیت بھری زندگی گزار رہے ہیں اور ان کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ اس نے صدر پاکستان آصف علی زرداری، پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی لاڑکانہ سے اپیل کی کہ فوری نوٹس لے کر اس کی اہلیہ کو بازیاب کرایا جائے اور ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کیا جائے، بصورت دیگر وہ دو دن بعد اپنے بچوں سمیت لاڑکانہ پریس کلب کے سامنے خودسوزی کرے گا، جس کی ذمہ داری واجد، شاهد اور ماجد چانڈیو سمیت پولیس پر عائد ہوگی۔

رپورٹ: نادر مائری


