محکمہ صحت سندھ کی سہولیات میں بہتری،حاملہ خواتین کی مالی معاونت کیلئے سندھ حکومت کا منصوبہ

شیئر کریں

لاڑکانہ: سندھ حکومت عوام کو صحت کی بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں حاملہ خواتین کو حمل کے دوران سندھ حکومت اور سوشل پروٹیکشن ادارے کے تعاون سے مالی معاونت دی جائے گی، جبکہ اس سہولت کے حصول کے لیے سرکاری اسپتال سے علاج کرانا لازمی ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار سوشل سیکیورٹی ہیلتھ سروس کی سربراہ نے لاڑکانہ کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سندھ حکومت کا منصوبہ ہے جس کے تحت 22 اضلاع میں کام جاری ہے جبکہ 15 اضلاع میں کام مکمل ہو چکا ہے۔ یہ منصوبہ 2022 سے جاری ہے جس کا آغاز عمرکوٹ اور تھرپارکر سے کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ ورلڈ بینک کے تعاون سے چلنے والا منصوبہ ہے جس پر تقریباً 200 ملین روپے لاگت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ “ایم سی ایچ پی” پروگرام کے تحت ممتا پروگرام کافی عرصے سے جاری ہے جس کا مقصد ماں اور بچے کی بہتر نگہداشت اور صحت مند نسل کی پرورش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ برازیل کے ماڈل کے تحت ترتیب دیا گیا ہے، جس میں بچے کی پیدائش اور نشوونما پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی ہدایات کے مطابق گھروں میں ہونے والے زچگی کے کیسز کو اسپتالوں تک منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ماں اور بچے کی صحت محفوظ رہ سکے۔ اس موقع پر ادارے کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ہیلتھ نے کہا کہ ممتا پروگرام کے تحت مختلف اضلاع میں پی پی ایچ آئی اسپتال کام کر رہے ہیں اور جہاں زچگی کی سہولت موجود نہیں وہاں یہ سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سوشل سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ عوام کو آگاہی فراہم کر رہا ہے تاکہ خواتین گھروں کے بجائے اسپتالوں میں محفوظ زچگی کرا سکیں۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نے کہا کہ خواتین کو صحت سے متعلق آگاہی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے اور ایسے پروگرام دیہی علاقوں میں بھی منعقد ہونے چاہئیں تاکہ حاملہ خواتین کا مکمل علاج ممکن ہو سکے اور وہ صحت مند بچوں کو جنم دے سکیں۔ آخر میں سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی۔ یاد رہے کہ سندھ حکومت کے ممتا پروگرام کے تحت حاملہ خواتین کو حمل کے دوران ماہانہ چیک اپ سے لے کر بچے کی پیدائش اور نشوونما تک دو ہزار روپے ماہانہ ان کے بینک الفلاح اکاؤنٹ میں منتقل کیے جائیں گے۔ سیمینار میں مختلف متعلقہ نمائندوں نے شرکت کی۔

رپورٹ نادر مائری


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے