عالمی منظر نامہ

سویڈن کی شفاف سیاست اور پاکستان کی بند کھڑکیوں میں قید جمہوریت ڈاکٹر عبدالرؤف، سویڈن

دنیا میں کچھ ملک ایسے ہیں جہاں جمہوریت محض انتخابی دن کا ہنگامہ نہیں۔ روزمرہ زندگی کی ترتیب ہے۔ سویڈن انہی میں سے ایک ہے۔ وہاں اقتدار کے ایوانوں کے گرد دیواریں کم اور شفاف شیشے زیادہ ہیں ؛ حکمران عوام کے سامنے صرف ”جوابدہ“ نہیں رہتے، عوام کے سوالات کے سامنے جھکتے بھی ہیں۔

نفرت کا کوئی ساحل نہیں ہوتا – عمران امین

آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں وہاں المیے بھی محض ”بریکنگ نیوز“ اور سوشل میڈیا کے چند ٹرینڈز تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔سڈنی کے بونڈائی بیچ پر جب سمندر کی لہریں معمول کے مطابق ساحل کو چھو رہی تھیں اور ”ہنوکا“ کی روشنیاں تاریکی کا سینہ چاک کرنے کے لئے جلائی

امریکہ کی دانش اور صدر ٹرمپ کا امتحان – ندیم اختر

مقبول عام خیال ہے کہ صدر ٹرمپ امریکی بالا دستی والے موجودہ عالمی نظام کو بچانے کی سخت کوشش کر رہے ہیں۔ جب کہ صورت حال اس سے مختلف ہے۔ وہ ملک کی معیشت کو پہلے تاریخ کے بدترین خسارے سے نکالنا جبکہ دوسرے مرحلے میں اسے نئے ابھرنے والے کثیر قطبی معاشی اور سیاسی

یہ کس قسم کی جنگ بندی ہے؟قمر سومرو

ایک ایسی جنگ بندی جس کا طاقتور ظالم نے دن دیہاڑے تمسخر اُڑایا، دھوکہ دیا اور پامال کیا ہے 10 اکتوبر کو نافذ ہونے والی بظاہر ”غزہ جنگ بندی“ کی حقیقی صورت یہ ہے کہ اسے ماننا بہت مشکل اور توڑنا بہت آسان ثابت ہوا ہے ۔ جارح، متکبر اور عناد پر مبنی قابض ریاست

چاہ بہار کی سرگوشی اور گوادر کی خاموشی – قادر خان یوسف زئی

خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، بین الاقوامی تعلقات کی بساط پر چلنے والی نئی چالیں اور جغرافیائی سیاست کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے تقاضے اس امر کی غمازی کر رہے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن ایک نئے اور پیچیدہ دور میں داخل ہو چکا ہے۔ جب ہم دہلی میں سجنے والی

پاکستان سے جنگ ہارنے کا اعتراف، کانگریس رہنما کے بیان پر بی جے پی سیخ پا

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس کے سینئر رہنما اور مہاراشٹرا کے سابق وزیرِ اعلیٰ پرتھوی راج چوہان کے بھارتی فضائیہ اور ’آپریشن سندور‘ سے متعلق بیانات پر سخت ردِعمل دیا اور کہا کہ کانگریس پارٹی ’بھارتی مسلح افواج سے نفرت کرتی ہے‘۔ پرتھوی راج چوہان، جنہوں نے مراٹھی زبان میں

بالآخر روس بحرِ ہند میں داخل ہو گیا – فرحت علی

روس کی گرم پانیوں کی جانب وسیع تر پیش قدمی اسے پاکستان کے مزید قریب لا سکتی ہے، بالخصوص کراچی اور گوادر کے ذریعے۔ روس کا گرم پانیوں تک رسائی کا صدیوں پرانا خواب صدر ولادیمیر پوٹن کے حالیہ دورۂ بھارت کے دوران خاموشی سے حقیقت بن گیا۔ نسلوں سے روسی حکمتِ عملی سازوں، زاروں

انسانی حقوق کہاں کھو گئے؟ عمران یعقوب خان

آپ نے انسانی حقوق کا عالمی منشور پڑھا ہے؟ پڑھا ہے تو ٹھیک! نہیں پڑھا تو میں آپ کو اس کی چیدہ شقوں سے آگاہ کر دیتا ہوں۔ انسانی حقوق کا عالمی منشور‘ یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس (UDHR) اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ وقار اور حقوق کے حوالے سے تمام انسان آزاد

ریئل اسٹیٹ مفادات یا شخصیت کا سحر؟ زہران ممدانی کے مخالف سے حامی تک ٹرمپ کا سفر – عباس ناصر

امریکی میڈیا پر کیے جانے والے چند تبصروں میں صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی نیویارک شہر کے منتخب میئر زہران کوامے ممدانی کے ساتھ ملاقات کو ’برومینس‘ (دو مردوں کے درمیان گہری دوستی) قرار دینا مبالغہ آرائی ہوسکتی ہے لیکن کون بھلا یہ پیش گوئی کرسکتا تھا کہ اوول آفس میں دونوں کے مابین ہونے

کمزور ممالک پر قابض ہوتی القاعدہ ختم نہیں ہوئی بلکہ ارتقا پا چکی ہے – احسان اللہ ٹیپو محسود

حالیہ ویڈیو رپورٹ میں جرمنی کے سرکاری نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) نیوز نے مشاہدہ کیا کہ ’9/11 کو دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد، القاعدہ ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ اس نے خود کو حالات کے مطابق ڈھال لیا ہے‘۔ یہ تشخیص دنیا کے معتبر ترین عالمی ذرائع ابلاغ جن

جنوبی ایشیا میں ایک نیا باب – فرحت علی

جنوبی ایشیا میں ایک نیا باب کھل رہا ہے، ایسے وقت جب ’’پاکستان اور بنگلہ دیش دوبارہ قریب آرہے ہیں۔‘‘ ایک زمانہ تھا جب پاکستان برصغیر کی وسعتوں تک پھیلا ہوا تھا، اگرچہ بھارت کی ایک ہزار میل طویل سرزمین نے اسے دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا، مگر دونوں حصے ایک ہی پرچم

زہران ممدانی کی جیت نے ثابت کیا کہ اسرائیل کی حمایت سے امریکی تنگ آچکے ہیں – رافعہ ذکریہ

یہ فتح مکمل طور پر غیر متوقع تو نہیں تھی لیکن یہ تاریخی ضرور تھی۔ کچھ عرصے سے سروے ظاہر کر رہے تھے کہ زہران ممدانی جو جنوبی ایشیائی نژاد مسلمان تارکین وطن ہیں، نیویارک سٹی کے میئر کے انتخاب میں سبقت لیے ہوئے ہیں۔ تاہم ان کی جیت یقینی نہیں تھی کیونکہ ماہرین کا

نیویارک، نیویارک – رسول بخش رئیس

آج صبح سے ہی فرینک سناترا کا مشہور گانا ‘نیویارک، نیویارک‘ ذہن میں گونجنے لگا جو یاد داشت کا حصہ رہا ہے۔ نیویارک دنیا کا عظیم ترین شہر ہے‘ اس کا کوئی ثانی نہیں‘ نہ ہی ہو سکتا ہے۔ صدیوں سے یہ امریکہ کا ثقافتی‘ سیاسی اور معاشرتی مرکز رہا ہے۔ کئی لحاظ سے ملک

صرف عورتیں اور بچے ہی کیوں؟ انور اقبال

پیرس، 25 اگست 1944 چار سال کی غلامی کے بعد ، اس دن فرانس کا دل ایک بار پھر دھڑکنے لگا۔ آسمان پر اگست کے سورج نے اپنی ہلکی سنہری روشنی بکھیر رکھی تھی، مگر ہوا میں ابھی بھی بارود اور تھکن کی بو تھی۔ شہر کے چوکوں میں ہجوم تھا۔ فرانسیسی جھنڈے لہرا رہے

’طاقتور ریاستوں کے خوف میں، کمزور ممالک ایٹمی ہتھیار کو تحفظ کی علامت سمجھ رہے ہیں‘ ملیحہ لودھی

ایک ایسی دنیا میں کہ جہاں لاقانونیت بڑھتی جارہی ہے اور عالمی نظام بکھر رہا ہے، ممالک کو اب ایک انتہائی غیر متوقع ماحول میں اپنی جغرافیائی سیاست کے منظرنامے میں کام کرنا پڑرہا ہے۔ طاقتور ریاستیں اور علاقائی قوتیں اپنی مرضی دیگر ممالک پر مسلط کرنے کے لیے جبر و طاقت کا سہارا لے

امریکا کی ایشیا میں واپسی – فرحت علی

امریکا ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ایک مرتبہ پھر ایشیا کی طاقت کی بساط پر واپس آ گیا ہے، جہاں وہ چین کی ایک دہائی پر محیط برتری کو متوازن کرتے ہوئے خطے کی تجارت، ٹیکنالوجی اور تزویراتی توازن کو نئی شکل دے رہا ہے۔ کئی برسوں کی حکمتِ عملی میں جمود کے بعد، واشنگٹن

کیا ٹرمپ امن کے لیے سنجیدہ ہیں؟ – ماجد علی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے بعد غزہ میں بندوقیں وقتی طور پر خاموش ہو گئی ہیں مگر فضا میں اب بھی بارود کی بو باقی ہے۔ اسرائیل اسے جنگ بندی کہتا ہے، حماس اسے سانس لینے کا موقع اور امریکا اسے اپنی سفارتی کامیابی قرار دیتا ہے۔ لیکن سوال وہی ہے جو

کیا افغانستان دو حصوں میں تقسیم ہونے جا رہا ہے؟ یونس خان

کیا افغانستان ”مشرقی و مغربی جرمنی“ یا ”شمالی و جنوبی کوریا“ کی طرح دو حصوں میں تقسیم ہونے جا رہا ہے؟ افغانستان ایک بار پھر تاریخ کے اُس موڑ پر کھڑا ہے جہاں داخلی کمزوریاں، بیرونی دباؤ، اور انسانی بحران کے ابھرتے آثار مل کر ایک نئے سیاسی نقشے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ طالبان

جین زی اور فوج کی خاموش حمایت، حالیہ عرصے میں کس کس ملک میں حکومتی تختے اُلٹے گئے؟ سفیر الہی

کرپشن، اقربا پروی اور غربت پر نوجوانوں کا غصہ اب قابو سے باہر کیوں ہو رہا ہے؟ دنیا بھر میں احتجاج کی ایک نئی لہر نئی شکل میں اٹھی ہے جس نے حکومتوں کے تختے اُلٹ دیے ہیں۔ یہ لہر اُن اُکتائے ہوئے نوجوانوں کی ہے جو سوشل میڈیا پر نعروں سے تنگ آکر اب

اسرائیلی معافی، قطر اور امریکہ – ڈاکٹر محمود صادق عابد

صدر ٹرمپ کے 21 نکاتی فارمولے سے فوری پہلے قطر سے اسرائیلی معافی کی خبریں آئیں اور پھر معافی ایک دم پس پردہ چلی گئی اور 21 نکات سامنے آ گئے۔ قطر نے مستقبل کی گارنٹی کاغذی طور پر مانگی جو امریکہ نے مہیا کر دی ہے۔ اب قطر پر حملے کی صورت میں امریکہ