آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں وہاں المیے بھی محض ”بریکنگ نیوز“ اور سوشل میڈیا کے چند ٹرینڈز تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔سڈنی کے بونڈائی بیچ پر جب سمندر کی لہریں معمول کے مطابق ساحل کو چھو رہی تھیں اور ”ہنوکا“ کی روشنیاں تاریکی کا سینہ چاک کرنے کے لئے جلائی جا رہی تھیں تب دو انسانوں کے اندر چھپے درندے نے تہذیب کا لبادہ اتار پھینکا۔14 دسمبر 2025ء کی شام یہودی مذہبی تہوار ہنوکا کی تقریب اس وقت خون میں نہا گئی جب فٹ بریج پر موجود دو مسلح حملہ آوروں نے ہجوم پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔اس تقریب میں ہزاروں افراد شریک تھے۔ پولیس کے مطابق یہ منظم یہود مخالف دہشت گرد حملہ تھا جس میں کم از کم 12 افراد ہلاک (ایک حملہ آور سمیت) اور 29 سے زائد زخمی ہوئے جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور موقع پر مارا گیا جبکہ دوسرا زخمی حالت میں گرفتار ہے۔عینی شاہدین کے مطابق ایک مقامی دکاندار نے جان پر کھیل کر حملہ آور کو روکنے میں مدد دی جس سے مزید جانی نقصان ٹل گیا۔یہ حملہ گزشتہ ایک دہائی میں آسٹریلیا میں بڑھتی انتہا پسندی اور نفرت انگیز جرائم کے تسلسل کی کڑی سمجھا جا رہا ہے جسے عالمی سطح پر اسرائیل اور حماس تنازع کے بعد ابھرنے والی لہر سے جوڑا جا رہا ہے۔ بونڈائی بیچ جو آج سے پہلے تک سیاحت اور امن کی علامت تھا اب قومی سلامتی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکا ہے۔آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے واقعہ کو ”evil antisemitism“ قرار دیتے ہوئے فوری طور پرسکیورٹی اقدامات بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بات ذہن میں رہے کہ یہ المیہ صرف آسٹریلیا کا ہی نہیں ہے اور نہ ہی ساحل کی ریت پر گرنے والا لہو صرف یہودیوں کا ہے۔سڈنی کا یہ سانحہ دراصل ہماری اجتماعی اور عالمی بے حسی کا نوحہ ہے جب ہم لاشوں کو ان کے عقیدے اور قاتلوں کو ان کے ناموں سے پہچاننے لگتے ہیں تو وہاں انسانیت دم توڑ دیتی ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک یہودی ماں کے آنسوؤں کا ذائقہ،کسی مسلمان،عیسائی یا ہندو ماں کے آنسوؤں سے مختلف نہیں ہوتا۔درد کی کوئی زبان نہیں ہوتی اور غم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا دراصل یہ اس ”انسانیت“ کا قتل ہے جس کا درس دنیا کا ہر مذہب دیتا ہے۔14 دسمبر کی شام جب فضا میں صرف مقدس گیتوں کی گونج ہونی چاہیے تھی وہاں گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم اکیسویں صدی کی ترقی یافتہ دنیا میں کیسے جی رہے ہیں؟ جہاں انسان چاند اور مریخ پر کمندیں تو ڈال رہا ہے لیکن زمین پر اپنے ہی بھائیوں کے گلے کاٹنے کے لیے مذہب کو ہتھیار بنا لیتا ہے۔سڈنی کی فضاؤں میں پھیلی ہوئی وحشت چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ نفرت کا کوئی جغرافیہ نہیں ہوتا اور جب جنون حکمت پر غالب آ جائے تو جنت نظیر ساحل بھی مقتل بن جایا کرتے ہیں۔
آج دنیا کو مذہبی رواداری کی جتنی ضرورت ہے شاید تاریخ میں پہلے کبھی نہ تھی۔یہ رواداری محض ایک خوبصورت سیاسی اصطلاح نہیں بلکہ ہماری بقا کی ناگزیر شرط ہے جب تک ہم ”مذہبی ٹارگٹ کلنگ“ کو صرف ایک کمیونٹی کا مسئلہ سمجھیں گے تو نفرت کا یہ الاؤ پھیلتا رہے گا۔وقت آ گیا ہے کہ ہم مذہبی شناخت سے پہلے انسان ہونے کی حرمت کو تسلیم کریں کیونکہ جس خدا کو ہم اپنی اپنی عبادت گاہوں میں ڈھونڈتے ہیں وہ تو ٹوٹے ہوئے دلوں میں بستا ہے۔یاد رکھیں!اس خونیں واقع کی گونج صرف سڈنی کے ساحلوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے گہرے سیاسی اثرات عالمی ایوانوں میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔ آسٹریلیا جو اپنی ”کثیر الثقافتی“ شناخت پر فخر کرتا تھا اب اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوگا۔خدشہ یہ ہے کہ ایسے واقعات دائیں بازو کی انتہا پسند سیاست اور غیر ملکی آبادکاروں کے خلاف بیانیے کو مزید ہوا دیں گے جس سے مغرب اور مشرقی اقدار کے درمیان خلیج وسیع تر ہو سکتی ہے۔سیاسی بساط پر اس واقع کو بنیاد بنا کر سخت گیر قوانین کا نفاذ متوقع ہے جو شہری آزادیوں کے لیے ایک نیا چیلنج ہوں گے۔عالمی تناظر میں دیکھیں تو یہ حملہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے جو سفارتی تعلقات میں مزید تلخی گھول سکتا ہے۔ ریاستوں کا اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے کہ وہ اس سانحے کے جواب میں انصاف کا راستہ اپناتی ہیں یا انتقام کا۔کیونکہ ردعمل کی سیاست اکثر دہشت گردی کے فروغ کا سبب بنتی ہے۔
یہ سانحہ اگرچہ انسانیت کے چہرے پر ایک گہرا زخم ہے مگر تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ نفرت کبھی آخری سچ نہیں بنتی۔انسان نے ہر عہد میں تشدد کے مقابل شعور، مکالمے اور اخلاقی جرائت کے ذریعے زندگی کا دفاع کیا ہے۔بونڈیائی بیچ پر گولیوں کی گونج کے درمیان جو ہاتھ زخمیوں کو اٹھانے کے لئے بڑھے اور جو لوگ خوف کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسان محض مذہبی نظریات کا اسیر نہیں بلکہ ضمیر کا امین بھی ہے اگرچہ انتہا پسندی وقتی طور پر سرخیوں میں جگہ تو پا لیتی ہے مگر ہم نے دیکھا ہے کہ تہذیبوں کی بقا ہمیشہ برداشت اور باہمی احترام کی مرہون منت ہے۔اگر نفرت کا بیج سرحدوں سے آزاد ہو سکتا ہے تو امید کا چراغ بھی کسی ایک قوم یا مذہب کا محتاج نہیں۔آج کی دنیا کو یہی سبق درکار ہے کہ تشدد کے ہر واقعے کے بعد خاموشی نہیں بلکہ شعور کی بلند آواز اور انسانیت کے مشترکہ ضمیر کا اعلان ہی وہ راستہ ہے جو اندھیروں کو مستقل ہونے سے روکتا ہے۔

