عالمی منظر نامہ

کوئلوں کی دلالی – خالد مسعود خان

صدر ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس المعروف غزہ بورڈ سے مجھے اپنا چھٹی کلاس والا بلیک بورڈ یاد آ گیا ہے۔ ہماری کلاس کے پہلے دو پیریڈ مرحوم ماسٹر گلزار حسین لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ماسٹر گلزار کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے‘ وہ ہمیں انگریزی اور اردو پڑھاتے تھے۔ پہلا پیریڈ انگریزی

ڈونلڈ ٹرمپ، بورڈ آف پیس اور اقوام متحدہ – ڈاکٹر رشید احمد خاں

غزہ میں جنگ بندی اور مستقل بنیادوں پر امن کے قیام کیلئے گزشتہ سال ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا‘ جس کے تحت امریکی صدر کی سربراہی میں ایک امن بورڈ (بورڈ آف پیس) کے قیام کی سفارش بھی کی گئی تھی۔ اس بورڈ‘ جس میں سرکردہ عالمی

ہم آہنگی بطور حکمتِ عملی، بیجنگ کی عالمی نظام کو نئی شکل دینے کی جستجو – ایس ایم حالی

عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں چین محض ایک معاشی دیو ہیکل طاقت کے طور پر نہیں بلکہ اکیسویں صدی میں امن اور طاقت کے خدوخال طے کرنے کے خواہشمند ملک کے طور پر ابھرا ہے۔ شی جن پنگ کی محتاط عملیت پسندی اور جرات مندانہ خواہش چین کو بدلتے ہوئے عالمی نظام کے

غزہ کی راکھ، ٹرمپ کا امن بورڈ اور ضمیر کی عدالت – قادر خان یوسف زئی

تاریخ کے جھروکوں سے جب بھی انسانیت کے قتلِ عام کی داستانیں رقم کی جائیں گی، غزہ کا نام ایک ایسی سسکتی حقیقت کے طور پر ابھرے گا جہاں جدید تہذیب کے تمام دعوے ملبے کے ڈھیر میں دفن ہو گئے۔ عالمی سیاست کے افق پر ایک نیا منظرنامہ ابھر رہا ہے جس نے ان

اب محض گفتگو پر زور نہیں بلکہ ٹھوس نتائج پر توجہ دی جا رہی ہے – فرحت علی

ڈیووس 2026 نے دنیا کے بحرانوں کو حل نہیں کیا۔ جو تصدیق ہوئی وہ یہ ہے کہ پرانا نظام اب مرمت نہیں ہو رہا — بلکہ اس کی جگہ نیا نظام لے رہا ہے. اپنی تاریخ کے بیشتر حصے میں ورلڈ اکنامک فورم کے ڈیووس میں ہونے والے سالانہ اجلاسوں پر یہ تنقید کی جاتی

تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھتا ٹرمپ – نصرت جاوید

ہوش سنبھالنے کے برس سے مسلسل سن اور پڑھ رہا ہوں کہ انسان کبھی جانوروں کی طرح ہی تھا۔ وحشت اس کی فطرت تھی۔ خود غرض ہونے تک ہی محدود نہ تھا۔ دوسروں کو اپنا مطیع و فرمانبردار رکھنا اس کی جبلت بن چکا تھا۔ کئی صدیاں گزر جانے کے بعد مگر اللہ کے نیک

غیر متوقع اقدامات – محمد مبشر انوار

صدر ٹرمپ اپنی غیر متوقع و غیر یقینی شخصیت کے باعث ہمیشہ غیر متوقع باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں اور بالعموم اپنی ہی کہی ہوئی باتوں کے بالکل برعکس عمل کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس پر انہیں کبھی کوئی ندامت نہیں ہوئی بلکہ وہ اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ایک سیاستدان کی شخصیت بالعموم انتہائی

ایران پھر سرخرو ہوگیا! سید منیر حسین گیلانی

امریکہ کی دنیا کو فتح کرنے کی سازشیں جاری ہیں۔امریکی قبضے کے خطرے کے پیش نظر گرین لینڈ میں نیٹو ممالک کی افواج پہنچ چکی ہیں۔ ایران میں امریکہ کے سپانسرڈ مظاہرے بھی دم توڑچکے ہیں۔ جبکہ فسادی انتشاری گروہ کے ارکان ایرانی عدالت میں پیشیاں بھگت رہے ہیں جہاں توقع ہے کہ انہیں سخت

عالمی بساط اور داخلی سیاسی انتشار – کنور دلشاد

رواں ماہ کے آغاز میں امریکہ کی طرف سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور خاتونِ اوّل کی گرفتاری نے عالمی سیاست میں ایک ہلچل برپا کر دی۔ امریکہ اسے اپنی عالمی طاقت کے مظاہرے اور وینزویلا میں اپنے اتحادی حکمران مسلط کرنے کا ایک اہم موقع سمجھ رہا ہے جبکہ روس اور چین اسے

شاہی ٹٹو – رسول بخش رئیس

‘شاہی‘ کا مطلب تو آپ جانتے ہوں گے۔ دوسرے معنوں میں بادشاہی‘ اور شاید ٹٹو کا بھی۔ اس لفظ کو عنوان بنانے کی غرض سے صبح سویرے ادھر اُدھر نگاہ ڈالی تو اس کا ایک دلچسپ مطلب یہ نکلا کہ ارادہ تو ہے‘ پر طاقت نہیں۔ عام طور پر ٹٹو چھوٹے گھوڑے کو بھی کہتے

ایران اکیلا نہیں ہے – شفقت اللہ مشتاق

کشیدگی کی فضاء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔امریکہ واحد سپر پاور ہے اور آخری خبریں آنے تک ٹرمپ صاحب بہادر سپر مین بن کر پوری کائنات کو تسخیر کرنا چاہتا ہے لیکن بڑا دوراندیش ہے ٹیسٹر لگاتا ہے اور موقع محل دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔ کبھی دھمکیوں سے ڈرانے

ہمیں امریکا اور چین سے سیکھنا چاہئے – ندیم اختر

وینزویلا میں اچانک رونما ہونے والی ایک ڈرامائی صورت حال سے دنیا سنبھل نہیں پائی تھی کہ پاکستان کے پڑوسی ملک ایران میں شدید معاشی اور سیاسی بحران پیدا ہو گیا۔ ایک امریکی ڈالر، ایک لاکھ پچھتر ہزار ایرانی ریال کے عوض ملنے لگا۔ معاشی تاریخ میں سکے کی اس بدترین گراوٹ سے غیرمعمولی مہنگائی

ایرانی رجیم چینج میں پاکستان کیلئے خطرات – رشید صافی

پاکستان ایسے خطے میں واقع ہے جسے عالمی سیاست کا تزویراتی مرکز کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے چار پڑوسیوں میں سے بھارت‘ افغانستان اور ایران کے ساتھ تجارت کیلئے زمینی راستے نہایت موزوں ہیں جبکہ چین کے ساتھ ہمالیہ کے دشوار گزار راستے تجارت میں ایک قدرتی رکاوٹ ہیں‘ تاہم بدقسمتی سے یہ جغرافیائی

امریکی ٹیرف پالیسی اور عالمی تجارت – حزیمہ بخاری, ڈاکٹر اکرام الحق, عبدالرؤف شکوری

عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی معیشت کی مجموعی موجودہ جی ڈی پی 110.98 کھرب امریکی ڈالر ہے، جس میں امریکا 28.7 کھرب ڈالر کے ساتھ سب سے بڑی معیشت ہے اور عالمی پیداوار کا تقریباً 26 فیصد حصہ رکھتا ہے. عالمی معیشت آج جس قدر ٹیکنالوجی، سرمائے کی نقل و حرکت

تیسری عالمی جنگ کا بڑھتا ہوا خطرہ – محمد معاذ قریشی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باتیں اور بیانات آپ نے بھی سنے ہوں گے۔انہوں نے نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ کسی عالمی قانون کو نہیں مانتے، امریکہ کی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لئے وہ کسی بھی ملک میں کارروائی کرنے کیلئے آزاد ہیں، دنیا کے تمام ممالک

طاقت ور کے سامنے سر جھکا دینا ہی اچھا ہے! یاسر پیرزادہ

آج سے اڑھائی ہزار سال پہلے کا ذکر ہے دو ریاستیں ہوا کرتی تھیں، ایتھنز اور سپارٹا۔ ایتھنز والے جمہوریت کے بانی تھے، فنونِ لطیفہ کے دلدادہ تھے اور فلسفہ اُن کا اوڑھنا بچھونا تھا لیکن بہرحال وہ ایک بدمعاش ریاست تھی۔ دوسری طرف سپارٹا والے تھے جو قدامت پسند تھے، اُن کے ہاں اشرافیہ

وینزویلا، داخلی اور خارجی مضمرات – ڈاکٹر رشید احمد خاں

امریکہ کی برّی‘ ہوائی اور بحری فوج کے دستوں پر مشتمل ایک آپریشن میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکہ پہنچا دیا گیا۔ انہیں نیو یارک کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں منشیات کی سمگلنگ ا ور تین دیگر جرائم میں اعانت کے

ایران میں کیا ہو رہا ہے؟ اور کیوں ہو رہا ہے؟ اعجاز عمرخیل

ایران اس وقت احتجاج یا وقتی اضطراب سے نہیں گزر رہا، بلکہ یہ ایک ایسے طویل المدت، مزمن اور ہمہ گیر بحران کی گرفت میں ہے جس کی جڑیں ریاستی ساخت، نظریاتی جمود اور سماجی تغیر کے باہمی تصادم میں پیوست ہیں۔ یہ بحران نہ اچانک پیدا ہوا ہے اور نہ کسی ایک واقعے کی

2025 کے عالمی تنازعات اور اقوام متحدہ – عالمگیر آفریدی

سال 2025 کو اگر عالمی سیاست اور امنِ عالم کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سال انسانی تاریخ کے ان سیاہ ابواب میں سے ایک سیاہ ترین باب کے طور پر شامل دکھائی دیتا ہے جہاں جدید عالمی نظام، طاقتور اداروں اور بین الاقوامی قوانین کے باوجود جنگ، خونریزی اور تباہی کا سلسلہ رک

اغوا برائے تیل – رسول بخش رئیس

یہ وینزویلا کی نائب صدر کا بیان ہے‘ جس میں کسی تاوان کا ذکر تو نہیں مگر یہ سب کو معلوم ہے۔ یہ لاطینی امریکہ کا‘ جسے آپ جنوبی امریکہ بھی کہہ سکتے ہیں‘ تیل کے قدرتی ذخائر سے مالا مال ملک ہے۔ ابھی تک دریافت کیے گئے ایسے وسائل میں دنیا میں پہلے نمبر