کیا افغانستان دو حصوں میں تقسیم ہونے جا رہا ہے؟ یونس خان

شیئر کریں

کیا افغانستان ”مشرقی و مغربی جرمنی“ یا ”شمالی و جنوبی کوریا“ کی طرح دو حصوں میں تقسیم ہونے جا رہا ہے؟

افغانستان ایک بار پھر تاریخ کے اُس موڑ پر کھڑا ہے جہاں داخلی کمزوریاں، بیرونی دباؤ، اور انسانی بحران کے ابھرتے آثار مل کر ایک نئے سیاسی نقشے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ملک بظاہر متحد ضرور ہے، مگر درونِ خانہ تقسیم، اختلاف، اور مزاحمت کی لکیریں گہری ہوتی جا رہی ہیں۔

حالیہ مہینوں میں طالبان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی سرحدی جھڑپیں، افغان مہاجرین کی زبردستی واپسی، اور خطے میں عسکری دباؤ کے بڑھتے رجحانات نے یہ سوال پھر زندہ کر دیا ہے :

کیا افغانستان مشرقی و مغربی جرمنی یا شمالی و جنوبی کوریا کی طرح دو حصوں میں تقسیم ہونے جا رہا ہے؟
تاریخی طور پر افغان معاشرہ کبھی بھی مرکزیت پسند نہیں رکا۔

1990 ء کی دہائی میں طالبان اور شمالی اتحاد کے درمیان جو عملی تقسیم تھی، وہ ایک طرح کی دو ریاستی حقیقت ہی تھی ؛ کابل و قندھار ایک طرف، اور مزار شریف و بدخشاں دوسری طرف۔

طالبان کے 2021 ء میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد تاجک، ازبک، ہزارہ اور ترکمان گروہوں کے اندر مزاحمت اور علیحدگی کے جذبات موجود ہیں۔

گزشتہ مہینوں میں ہونے والی پاکستان کے ساتھ سرحدی جھڑپیں واضح طور پر جنگ میں تبدیل ہو گئی ہیں۔

طالبان کی جانب سے باجوڑ، چمن، اور اسپن بولدک کے علاقوں پر حملے، اور پاکستان کی جوابی کارروائیاں، کسی نئے سرحدی نظام کی تمہید معلوم ہوتی ہیں۔

طالبان کی حکمتِ عملی مزاحمت کے ذریعے کنٹرول پر مبنی ہے، مگر ان کی حکمرانی کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے۔

یہ کمزوری داخلی انتشار کو بڑھا رہی ہے، اور طاقت کے نئے مراکز ابھرنے کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔
طالبان حکومت پر اب خود افغان رہنماؤں کی جانب سے بھی تنقید شروع ہو چکی ہے۔

جلاوطن سابقہ ڈپٹی وزیرِ خارجہ شیر محمد عباس ستانکزئی نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کو ”غیر شریعتی فیصلہ“ قرار دیا تھا، جبکہ بعض کمانڈرز نے قیادت کی مرکزیت اور حقانی نیٹ ورک کے غلبے پر سوال اٹھائے ہیں۔

یہ اختلافات وقتی نہیں، بلکہ سیاسی سمت کے بحران کی علامت ہیں۔
پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دے رہی ہے۔

تخمینوں کے مطابق 40 لاکھ کے قریب افغان مہاجرین پاکستان میں موجود ہیں، جن میں سے تقریباً 1.3 ملین واپس بھیجے جا چکے ہیں۔

ان کی اچانک واپسی سے خوراک، صحت، اور رہائش کے سنگین مسائل پیدا ہوں گے، اور طالبان حکومت کی کمزور معیشت مزید دباؤ میں آ جائے گی۔

یہ بحران خصوصاً جنوبی و مشرقی افغانستان۔ یعنی پاکستان کے سرحدی علاقوں۔ میں شدید تر ہو سکتا ہے۔

اس بحران کے باوجود پاکستان براہِ راست قبضہ نہیں کرے گا۔ بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ، اور چین و امریکہ جیسے ممالک کا دباؤ اس کے راستے کی بڑی رکاوٹ ہوں گے۔

البتہ ایک نیم خودمختار، محفوظ، اور آبادکاری پر مبنی خطہ وجود میں آ سکتا ہے، جہاں امن کے قیام، انسانی امداد، اور افغان مہاجرین کی آبادکاری کے نام پر پاکستان کا اثر و نفوذ موجود ہو۔

یہ علاقہ بعد ازاں ایک الگ ”جمہوری افغانستان“ کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ ایک ایسا انتظامی یونٹ جو طالبان کے زیرِ اثر ”امارت اسلامی افغانستان“ سے الگ اپنی شناخت پیدا کرے۔

ممکنہ طور پر شمالی افغانستان اور جنوبی افغانستان کی تقسیم کچھ یوں ہو سکتی ہے :
شمالی افغانستان: تاجک، ازبک، اور ہزارہ اکثریت کے زیرِ اثر غیر طالبان سیاسی اتحاد۔
جنوبی افغانستان: پاکستان کے زیرِ اثر نیم خودمختار، آبادکاری پر مبنی ”جمہوری افغانستان“ ۔
یہ تقسیم مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی و جغرافیائی بنیادوں پر ہو گی۔

اس تقسیم کے بعد بین الاقوامی اثرات کچھ یوں ہو سکتے ہیں :
چین کو اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے لیے ایک محفوظ راہداری درکار ہے۔
ایران ہزارہ اقلیت کی حفاظت کے نام پر اپنا اثر بڑھا سکتا ہے۔
روس وسطی ایشیائی ریاستوں کی سلامتی کے بہانے مداخلت کر سکتا ہے۔
امریکہ انسانی حقوق کے نام پر طالبان مخالف گروہوں کی محدود حمایت کر سکتا ہے۔

اگرچہ افغانستان کی تقسیم فی الحال ایک مفروضہ ہے، مگر زمینی حقائق، عسکری حرکیات، اور انسانی بحران کا بڑھتا دباؤ اس مفروضے کو ایک ممکنہ حقیقت میں تبدیل کر سکتا ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ افغانستان کبھی بھی مکمل طور پر متحد نہیں رہا۔ اور شاید اب وہ ایک بار پھر اپنے ہی جغرافیے کے دباؤ تلے دو متضاد حقیقتوں میں تقسیم ہونے کے قریب ہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے