اسرائیلی معافی، قطر اور امریکہ – ڈاکٹر محمود صادق عابد

شیئر کریں

صدر ٹرمپ کے 21 نکاتی فارمولے سے فوری پہلے قطر سے اسرائیلی معافی کی خبریں آئیں اور پھر معافی ایک دم پس پردہ چلی گئی اور 21 نکات سامنے آ گئے۔ قطر نے مستقبل کی گارنٹی کاغذی طور پر مانگی جو امریکہ نے مہیا کر دی ہے۔ اب قطر پر حملے کی صورت میں امریکہ جواب دینے کا پابند ہو گا۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا قطر اس معافی کو دل سے قبول کر لے گا؟  ابھی تو یہ بھی پتہ نہیں کہ معافی ہوئی ہے یا معذرت۔دوحہ میں اسرائیلی بمباری کی وجہ سے کتنا بڑا جرم سر زرد ہوا اس کا فیصلہ قطر نے کرنا ہے۔

کیا جو جرم اسرائیل سے سرذرد ہوا ہے اس کی معافی بنتی ہے؟قطر کو یہ فیصلہ بھی کرنا ہے کہ کیا صرف حماس کے چند لیڈرز قتل ہوئے یا اس سے کوئی بہت زیادہ بڑا جرم واقع ہوا۔  ملکی سالمیت پر ہونے والے وار ہمیشہ بہت گہرے اور دور رس ہوتے ہیں۔ کیا معافی اور امریکی گارنٹی کافی یا قابل بھروسہ ہے؟میری ناقص رائے میں کچھ جرم ایسے ہوتے ہیں جن کے لئے معافی قطعاً کافی نہیں ہوتی۔  دھرتی ماں ہوتی ہے اور ماں کی  بے پردگی قابل معافی جرم نہیں ہے

اگر ایک دفعہ اعتماد اٹھ جائے تو وہ دوبارہ بحال ہونے میں صدیاں لگا دیتا ہے اور بعض اوقات اپنی اصل روح میں کبھی بھی دوبارہ بحال نہیں ہو پاتا،   پھر بھی یہ فیصلہ قطر نے ہی کرنا ہے کہ اس نے اس معافی کو قبول کرنا ہے کہ نہیں۔ قطر چاہے تو مشروط معافی کا بھی اعلان کر سکتا ہے۔معافی کی قبولیت کے لئے شرط میں فلسطین کا ایک ریاست کے طور پر جنم ہو۔فی الحال تو ایسا لگتا ہے کہ چھوٹا بھائی بڑے بھائی کی منطق کو سمجھ گیا ہے اور اس لئے اس نے فوری طور پر سوچا کہ قطر سے معافی مانگ لی جائے۔ اس معافی سے ایک اور بات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے قطر کے رد عمل کو نہیں بھانپا۔یہاں پر یہ بات بھی اہم ہے کہ کیا اسرائیل نے امریکہ سے پوچھے بغیر یا انہیں کسی نہ کسی طرح سے شامل کیے بغیر یہ سب کچھ کر لیا؟ اور کیا اسرائیل کی اتنی اوقات ہے یہ بھی ایک فکر طلب معاملہ ہے؟۔

میری ناقص رائے میں جو کچھ بھی دوحہ میں ہوا وہ ایک منصوبے کے تحت اور امریکہ کی ڈھکی چھپی مرضی سے ہوا؟ حالات اور واقعات اس کی گواہی دیتے ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے یا اس کی کسی صورت میں بھی قطر یا یو اے ای کے ساتھ بھی شمولیت اور اس پورے معاہدے کی اس معافی اور امریکی گارنٹی کے تناظر میں کیا زمینی شکل نکلے گی وہ وقت ہی بتاے گا۔اسرائیلی معافی  کا ایک مطلب تو یہ بھی ہے کہ امریکہ یا صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ ان کا  اصل اور ابدی دشمن ایران ہے  جبکہ سعودی عرب، قطر اور یو اے ای سے نہ ہی اسرائیل کو  کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی مستقبل قریب یا بعید  میں کسی قسم کے خطرے کے کوئی امکانات ہیں۔آؤ مل کر پہلے  ایک بساط بچھاتے ہیں جس کے ذریعے ہم ایران کو گھٹنوں پر لا سکیں۔

صدر ٹرمپ کو ایک دم  بگرام ایئر بیس کی یاد کیوں اگئی ہے؟ اور ایک دم انہوں نے کیوں یہ سوچنا شروع کر دیا ہے کہ وہ ہر حال میں اس کو لیں گے؟ یہاں پہ بیٹھ کر چائنہ، ایران اور پاکستان پر بڑی اچھی نظر رکھی جا سکتی ہے اور یہ ”فٹ ہولڈ“ آئندہ ایران کے خلاف کسی معرکے میں بہت اہم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں معدنیات کی کھوج میں امریکی کمپنیوں کی دلچسپی قابلِ فکر ہے۔  بلوچستان کی سرحد ایران کے ساتھ سیدھی لگتی ہے۔کس طرح ایران کی سرزمین بھارت نے پچھلے 10 سے 15 سال استعمال کی اور کس طریقے سے بلوچستان میں دہشت گردی اور علیحدہ پسندگی کی تحریک کو پروان چڑھایا گیا، ایران بڑی مشکل سے راضی ہوا ہے۔ معافی کی مواصلاتی تقریب کے فورا بعد صدر ٹرمپ نے غزہ کے امن معاہدے کا اعلان کر دیا ہے اور اس میں پوری طرح سے اسرائیل اور تمام اسلامی ممالک کی شمولیت اور رضامندی کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے غزا اتھارٹی کے قیام کا اعلان بھی کیا ہے اور خود کو اس کا صدر بھی منتخب کر لیا ہے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک کونسل کی تشکیل کے بارے میں بھی بتایا جس میں ٹونی بلیئر کی شمولیت کا اعلان انہوں نے خود کیا ہے۔ ظاہر ہے پوری تقریر میں دو دفعہ انہوں نے سپہ سالار اور ایک دفعہ ہمارے محبوب وزیراعظم کا ذکر کیا اس لئے پاکستان کو بھی ضرور کسی نہ کسی مقام پہ اس کونسل میں جگہ ملے گی۔  ایسے لگتا ہے کہ غزا کی حکومت امریکہ اور یورپ کے ہاتھ میں ہو گی جبکہ سکیورٹی اور تعمیر نو کے معاملات اسلامی ملکوں اور پاکستان کو دیئے جائیں گے۔

اس معاہدے کے تحت حماس کا وجود ختم ہو جائے گا اور وہ پوری طرح سے اپنے ہتھیار ڈال دے گا۔  یہ سارا ذمہ کیا مسلم اُمہ اور پاکستان کو سونپا جائے گا؟ فی الحال تو حماس  مانتا نظر نہیں  رہا،اس پورے عمل میں جس کے بارے میں صدر ٹرمپ نے خود کہا ہے کہ شروع سے ہی پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی مرضی شامل تھی،مگر سوچنے کی بات صرف یہ ہے کہ کیا ایک فلسطینی ریاست مل گئی ہے؟ کیا ان پورے 21 نکات میں کہیں فلسطین کی ریاست کا  نام ہے؟ اسرائیلی وزیراعظم نے تو صاف کہہ دیا ہے کہ فلسطین کو وہ ریاست کے طور پر نہیں مانتے ہیں۔ یعنی بنیادی مسئلہ تو پھر وہیں پہ کھڑا ہے۔ اس لئے21 نکات اور یہ فامولہ کہاں تک قابل عمل ہو گا یہ وقت ہی بتائے گا۔

صدر ٹرمپ نے غزہ امن فارمولے کو حماس کی قبولیت سے جوڑ دیا ہے اور یہ بھی کہہ دیا کہ معاہدہ حماس کو ماننا ہی پڑے گا اور اگر وہ نہیں مانے گی تو پھر پوری طاقت سے حماس کو نیست و نبود کر دیا جائے گا۔ان نکات میں  اسرائیلی افواج کے انخلاء کا کوئی طریقہ کار یا وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ مرحلہ وار ایک مبہم لفظ اور عمل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کا کہیں ذکر نہیں اور سب سے بڑھ کر حماس کا وجود بھی نہیں رہے گا۔ کیا یہ سب حماس اور اسلامی دنیا کو قابل قبول ہے یا ہوگا؟


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے