وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج 6 ماہ کے بعد بھی جاری رہ سکتا ہے، تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ 6 ماہ مکمل ہونے سے پہلے ہی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرلی جائے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنا کیوں ضروری تھا، اس معاملے پر بہت بات ہوچکی ہے۔
ان کے مطابق صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تعاون نہیں کررہی تھی بلکہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ایسا رویہ اختیار کر رکھا تھا جس کے باعث دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مشکلات پیش آرہی تھیں۔ سہیل آفریدی خود کہتے تھے کہ وہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ صوبائی حکومت کے دہشتگردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کی بنیاد پر خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔
وزیراعظم کے مشیر نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کافی عرصے سے کیے جارہے ہیں، تاہم اب ان کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان کی کامیابی کے بعد بھارت نے افغانستان کے راستے پاکستان پر دہشتگردی مسلط کردی۔ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کی جارہی ہے اور بھارت پاکستان کے خلاف آپریشن سندور کا دوسرا مرحلہ چلا رہا ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہاکہ سہیل آفریدی کو ان کی درخواست پر حفاظتی تحویل میں رکھا گیا ہے، انہیں ان 20 لاکھ لوگوں سے خطرہ ہے جنہیں وہ اسلام آباد لانا چاہتے تھے۔




