قمبر رانوتی کی مکین خاتون کے الزامات کے جواب میں شوہر کا لاڑکانہ پریس کلب پر احتجاج

شیئر کریں

لاڑکانہ میں میاں بیوی کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر گیا، دونوں فریقین پریس کلب پہنچ گئے

لاڑکانہ: لاڑکانہ میں گھریلو تنازعہ نے نیا رخ اختیار کر لیا۔ قمبر تعلقہ کے گاؤں رانوتی کی رہائشی خاتون کی جانب سے شوہر کے خلاف بچوں سمیت احتجاج کے بعد اب اس کے شوہر نے بھی جوابی احتجاج کرتے ہوئے بیوی پر سنگین الزامات عائد کر دیئے۔

تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ کے نواحی گاؤں پیر بخش کلہوڑو کے رہائشی بزرگ محنت کش اوشاق علی کلہوڑو نے لاڑکانہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اوشاق علی کلہوڑو نے کہا کہ میری شادی سنہ 2010 میں قمبر کے گاؤں رانوتی کے رہائشی خادم کلہوڑو کی بیٹی رمشا سے ہوئی تھی، جس سے میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ میری بیوی رمشا غیر متعلقہ مردوں سے فون پر رابطے میں رہتی ہے، کئی بار اسے سمجھایا اور سسرال والوں کو بھی شکایت کی لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئی۔

متاثرہ شوہر کا مزید کہنا تھا کہ منع کرنے پر میری بیوی دو روز قبل میری بیٹی عجوا بتول اور بیٹے حسن کلہوڑو کو ساتھ لیکر بغیر اطلاع کے گھر سے چلی گئی اور اب مجھ پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر مجھے بدنام کر رہی ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔

انہوں نے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر میری بیوی کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور میرے بچے مجھے واپس دلا کر انصاف فراہم کیا جائے۔


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے