وفاقی محتسب کے منتظم برائے لاڑکانہ حضور بخش لغاری کی اکاونٹ آفس میں کھلی کچہری

شیئر کریں

لاڑکانہ: صوبائی محتسب اعلیٰ سندھ کے مشیر اور ریجنل آفس لاڑکانہ کے انچارج حضور بخش لغاری نے کہا ہے کہ حاضر سروس اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے مسائل بلا تاخیر حل کیے جائیں، جبکہ تنخواہوں، پنشن، جی پی فنڈ اور دیگر واجبات کی ادائیگیاں قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد یقینی بنائی جائیں۔

جن ملازمین کے دستاویزات نامکمل ہوں، انہیں اس حوالے سے فوری طور پر آگاہ کیا جائے تاکہ ادائیگیوں میں تاخیر نہ ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس لاڑکانہ میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ملازمین کے تمام زیر التوا واجبات کی ادائیگی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ملازمین کو غیر ضروری پریشانی سے بچانے کے لیے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد ادائیگیاں متعلقہ دفتر سے ہی حاصل ہوں۔

حضور بخش لغاری نے مزید ہدایت کی کہ اگر کسی ملازم کے کاغذات نامکمل ہوں تو اس کی نشاندہی کرکے درخواست گزار کو آگاہ کیا جائے، جبکہ ضروری کارروائی کے لیے اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کو تحریری طور پر مطلع کرنے کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ بھی کیا جائے اور اس تمام عمل کی رپورٹ صوبائی محتسب کے دفتر کو ارسال کی جائے۔

اس موقع پر انہوں نے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر لاڑکانہ ضمیر حسین کھوکھر اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر عبدالفتاح سومرو کو ہدایت کی کہ ملازمین کے مسائل کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کے حل میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حضور بخش لغاری نے کہا کہ سندھ بھر میں اس نوعیت کی کھلی کچہریاں منعقد کرنے کا مقصد سرکاری ملازمین کے مسائل حل کرنا اور انہیں بروقت ریلیف فراہم کرنا ہے، تاہم ملازمین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی درخواستوں کے ساتھ تمام مطلوبہ دستاویزات مکمل رکھیں۔

اس موقع پر ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر ضمیر حسین کھوکھر اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر عبدالفتاح سومرو نے کہا کہ ملازمین کے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں اور انہیں بھی ضروری دستاویزات مکمل رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ ادائیگیوں میں تاخیر سے بچا جا سکے۔

کھلی کچہری کے دوران ملازمین کی تقریباً 10 درخواستیں موصول ہوئیں، جن کے حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ افسران کو احکامات جاری کیے گئے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے