بااثر رشتہ داروں کے ہاتھوں بھائی کے اغواء پر باقرانی کی معمرخاتون کی لاڑکانہ میں پریس کانفرنس

شیئر کریں

لاڑکانہ: تعلقہ باقرانی کے گاؤں حکیم سندیلو کی رہائشی معمر خاتون عصمت زوجہ شعاب الدین سندیلو نے اپنی بہنوں رخسانہ خاتون، بینظیر خاتون، بھانجی ذیشان اور بیٹے وقار علی سندیلو کے ہمراہ لاڑکانہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ جائیداد کے تنازع پر ان کے بااثر چچا حاجی امتیاز سندیلو نے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ گزشتہ 21 اکتوبر کو ان کے بھائی جاوید علی سندیلو کو گاؤں سے اسلحے کے زور پر زبردستی اغوا کرنے کے بعد لاپتہ کردیا ہے،

جس کی اطلاع انہوں نے متعلقہ یونیورسٹی تھانے کو دینے کے علاوہ علاقے کے معززین اور ایس ایس پی آفس میں بھی شکایات درج کرائی ہیں، تاہم اس کے باوجود تاحال ان کے بھائی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، معمر خاتون نے خدشہ ظاہر کیا کہ جائیداد کے لالچ میں ان کے چچا ان کے بھائی جاوید علی سندیلو کو قتل یا کسی جھوٹے مقدمے میں پھنسا سکتے ہیں،

جبکہ انہیں علاقے کے بعض بااثر افراد کی حمایت بھی حاصل ہے، انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ان کے چچا ان کے مرحوم والد عبدالحکیم سندیلو کی تمام جائیداد پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں

اور انہیں خاموش رہنے کے لیے دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں، جس کے باعث وہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں، عصمت خاتون نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، صوبائی وزیر داخلہ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی لاڑکانہ، ایس ایس پی لاڑکانہ سمیت دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر الزامات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور ان کے لاپتہ بھائی جاوید علی سندیلو کو بازیاب کراکے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے تاکہ انہیں انصاف اور تحفظ فراہم ہوسکے۔


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے