ہائی ویز ایمپلائز یونین سی بی اے کی یونین آفس پر قبضہ کے خلاف لاڑکانہ پریس کلب پر ریلی

شیئر کریں

لاڑکانہ: لاڑکانہ میں ہائی ویز ایمپلائز یونین سی بی اے سندھ کی جانب سے یونین کے دفتر پر مبینہ قبضے اور ملازمین پر حملے کے خلاف پراونشل ہائی ویز ڈویژن آفس سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی اور مظاہرہ کیا گیا،

اس موقع پر مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ہائی ویز ایمپلائز یونین سی بی اے سندھ کے مرکزی رہنما غلام رسول چھجڑو نے یونین رہنماؤں دیدار کھوکھر، امداد چانڈیو، سجاد کھوکھر، نوید مٹھانی اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ الطاف ملغانی اور غلام قادر اھیر خود کو یونین کے رہنما ظاہر کرکے گزشتہ چھ ماہ سے مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر ڈیوٹی کے مقام اور یونین کے دفتر پر غیر قانونی قبضہ کیے ہوئے ہیں، جبکہ ملازمین کو مختلف طریقوں سے تنگ اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ آج صبح جب وہ معمول کے مطابق ڈیوٹی پر پہنچے تو غلام قادر اھیر، الطاف ملغانی، وسیم اھیر اور طارق ملغانی اپنے بارہ سے زائد مسلح ساتھیوں کے ہمراہ ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے ان پر حملہ آور ہوگئے، جس کے نتیجے میں غلام رسول چھجڑو سمیت 15 ملازمین زخمی ہوگئے۔

ان کے مطابق زخمیوں میں بدرالدین چھجڑو اور ایاز اھیر کی حالت تشویش ناک ہونے کے باعث انہیں لاڑکانہ ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ احتجاجی رہنماؤں نے کہا کہ یونین کے دفتر پر مبینہ قبضے اور ملازمین پر حملے کے واقعات کے باعث عملے میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے، لہٰذا متعلقہ حکام فوری طور پر نوٹس لیں۔

انہوں نے اعلیٰ حکام، پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کروا کر حملے میں ملوث مبینہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، یونین کے دفتر سے غیر قانونی قبضہ ختم کروا کر ملازمین کو تحفظ فراہم کیا جائے، بصورت دیگر پورے سندھ میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے اور دھرنے دیے جائیں گے۔


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے