افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ نے کہا ہے کہ افغان سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہو رہی، پاکستان سے بات چیت اور تعاون جاری رکھنا چاہتے ہیں، توقع ہے سعودی عرب اس معاملے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان پاکستان سے بات چیت اور تعاون جاری رکھنا چاہتا ہے، تنازعات حل کرانے کے لیے سعودی عرب سمیت تمام ممالک کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ سعودی عرب دونوں ممالک کے درمیان مسائل حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ تازہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورتحال انتہائی سنگین ہے، گزشتہ روز 18 ستمبر کو کوہاٹ میں پولیس لائنز کی مسجد پر خودکش حملے اور مسلح افراد کی کارروائی میں 23 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ پاکستان افغانستان میں موجود عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو بارہا اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے جبکہ افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
طالبان ترجمان کا انٹرویو میں مزید کہنا تھا کہ افغان عوام کے دل میں بھی سعودی عرب اور دونوں مقدس مساجد کے لیے بہت محبت اور احترام ہے، امید ہے سعودی حکام افغانستان اور پاکستان کے درمیان موجود مسائل کو حل کرنے میں مدد کریں گے۔
“اپنی خود مختاری کا دفاع کریں گے”
ایک سوال کے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ “اگر پاکستان نے افغانستان کے اندر حملے کیے تو افغانستان اپنی خود مختاری کا دفاع کرے گا۔”
طالبان ترجمان نے کہا کہ “کابل تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی ایسے مسلح گروہوں کی حمایت کرتا ہے جو دوسرے ممالک کو نشانہ بناتے ہیں۔”
“پاکستان کو اپنے سکیورٹی مسائل خود حل کرنے چاہئیں”
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اپنے سکیورٹی مسائل کا الزام افغانستان پر عائد کرنے کے بجائے انہیں اندرونی طور پر حل کرنا چاہیے۔ ٹی ٹی پی اور بلوچ گروہوں کی بے امنی افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے بھی پہلے موجود تھی۔
خیال رہے کہ پاکستان بارہا واضح کر چکا ہے کہ افغانستان سے ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو، افغان طالبان پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والی بھارتی پراکسیز اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کریں۔
حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باوجود چین، قطر، ترکیہ اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک نے اسلام آباد اور کابل کے درمیان مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ پاکستان نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے تاہم وہ کابل کی جانب سے ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کو ضروری قرار دیتا ہے۔




