سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے حالات حدسےزیادہ خراب ہیں، برینٹ کروڈ کی قیمت میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے، صورتحال برقرار رہی تو ڈیزل 500اور پیٹرول کی قیمت 430تک پہنچ سکتی ہے۔
سابق وزیر خزانہ کا کہناتھا کہ پاکستان میں 11 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں اور ایساوقت بھی آسکتا ہے کہ ملک کےآدھے سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں، پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا، 85روپے پیٹرولیم لیوی لی جا رہی ہے، 15سے 20 روپے کسٹم ڈیوٹی لی جارہی ہے، بھارت اور بنگلادیش میں پیٹرول کی قیمت پاکستان سے 30 فیصد کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کسٹم ڈیوٹی کم کرنے کی ضرورت ہے،مارجن میں 2 سے 3 روپے کی کمی کرنی چاہیے، ترسیلات زرآنےکی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارےکی صورتحال بہتر رہی، اس سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ڈیڑھ سے 3 ارب ڈالر ہو سکتا ہے، آنے والے مہینوں میں ہمارے ذخائرمیں مشکلات ہو سکتی ہیں، چھوٹی گاڑی والوں کیلئےبی آئی ایس پی کےتحت سہولت دی جائے، پیٹرول کی قیمت 125 ڈالرتک پہنچ گئی توپاکستان کے حالات بہت خراب ہو جائیں گے،اس وقت ملک میں پیٹرول کی قیمتوں کی ایمرجنسی ہے،پیٹرولیم لیوی کو فوری 18 فیصد پر لے جانا چاہیے۔




