میر رضا کے والدین پر مزید کارروائی سے روکنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے: جبران ناصر

شیئر کریں

کراچی: قتل کیے جانے والے نوجوان تاجر میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے دعویٰ کیا ہے کہ مقتول کے والدین پر مقدمے میں مزید کارروائی سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے، جبکہ گزشتہ شب میر رضا کے والد کو ایک فون کال بھی موصول ہوئی جس میں مختلف افراد سے متعلق سوالات کیے گئے۔

جبران ناصر کے مطابق فون کال میں میر رضا کے والد سے کہا گیا کہ ایس ایچ او عدیل افضال ان کا بچہ ہے اور عدیل افضال سے ایف آئی آر لے لی گئی ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ کال کرنے والے کی جانب سے والد کو یہ بھی بتایا گیا کہ عامر فاروقی سے بات ہوچکی ہے۔

وکیل کے مطابق میر رضا کے والد سے دریافت کیا گیا کہ انہیں آصف، عابد، احمد یا عبداللہ میں سے کسی شخص پر شک ہے یا نہیں۔ تاہم والد کی جانب سے کسی فرد پر شک ظاہر نہ کیے جانے پر کال کے دوران برہمی کا اظہار کیا گیا۔

جبران ناصر نے بتایا کہ مذکورہ فون کال کی ریکارڈنگ اور اس کے اسکرین شاٹس رجسٹرار کے پاس جمع کرا دیے گئے ہیں تاکہ معاملے کا ریکارڈ موجود رہے اور مبینہ دباؤ کے بارے میں متعلقہ فورم کو آگاہ کیا جاسکے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر سمیہ کا بیان سامنے آنے کے بعد میر رضا کے والدین پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے۔ ان کے بقول والدین کو اس انداز سے متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ قتل کے مقدمے میں مزید قانونی کارروائی آگے نہ بڑھ سکے۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ میر رضا کے والد کو موصول ہونے والی کال اور اس میں کی جانے والی گفتگو کو معمولی معاملہ نہیں سمجھا جاسکتا، اسی لیے کال سے متعلق دستیاب ریکارڈ بھی رجسٹرار کے حوالے کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقتول کے والدین پہلے ہی اپنے بیٹے کے قتل کے صدمے سے گزر رہے ہیں اور ایسے حالات میں ان پر کسی بھی قسم کا دباؤ ڈالنا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ میر رضا کے قتل سے متعلق قانونی کارروائی کو شفاف انداز میں آگے بڑھایا جانا چاہیے اور کسی بھی فریق کو متاثر کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔

 


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے